Mar 5, 2009

ATMکی سہولت پر بینک کا چارجز لینا‘ دینا

مولوی محمد عرفان
ATMکی سہولت پر بینک کا چارجز لینا‘ دینا!

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
مسئلہ یہ ہے ATMکارڈ استعمال کیا جارہا ہے ۔ATMکارڈ ہولڈر کی رقم بینک میں جمع ہوتی ہے اور یہ کارڈ ہولڈر بوقت ضرورت ATMکارڈ مشین سے روپے نکال سکتا ہے‘ اگر یہ کارڈ ہولڈر اسی بینک کی مشین استعمال کرے جس کا اس کے پاس کارڈ ہے‘ مثلاً: اکاؤنٹ ABL بینک میں ہے اور کارڈ بھی ABLکا ہے اور استعمال بھی ABL کی مشین سے کرتا ہے تواس پر بینک کوئی چارجز نہیں لیتا اور اگر دیگر بینکوں کی مشین سے روپے نکالے تو اس پر کچھ روپے کٹتے ہیں:
۱- دریافت یہ کرنا ہے کہ ATM کی سہولت فراہم کرنے والے بینک کو چارجز دینا اور بینک کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
۲- بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ دیگر کچھ بینکوں سے معاہدہ ہوجاتا ہے‘ ایسے بینک ATMکارڈ مشین کے استعمال پر چارجز نہیں لیتے اور کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوتی تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟
سائل:عبد الرحمن جمشید روڈ‘ کراچی
الجواب باسمہ تعالیٰ
۱- ATMکارڈسسٹم سرمائے کی حفاظت اور محفوظ وبا سہولت وصولیابی کا ایک طریقہ ہے ‘ ATM کارڈ ہولڈر کو اس کا بینک یہ سہولت دیتا ہے کہ بینک کا اکاؤنٹ ہولڈر اپنے بینک یا کسی ایسے بینک سے جس کے ساتھ اکاؤنٹڈ کے بینک کا معاہدہ ہو‘ وہ دفتری کارروائی کے بغیر بینک کی طرف سے فراہم کردہ ATM کی سہولت سے فائدہ اٹھائے اور مطلوبہ رقم حاصل کرے‘ اس پر اپنا بینک جہاں اکاؤنٹ ہو وہ کسی قسم کی کٹوتی نہیں کرتا تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں‘ بلکہ جائز ہے۔ نیز اگر ایک بینک کے ATM کارڈ کے ذریعے کسی دوسرے بینک کی مشین سے رقم نکالی جائے اور وہ بینک اس سہولت کی فراہمی پر کٹوتی کرے تو سروس چارجز (حق الخدمت) کے طور پر ایسی کٹوتی جائز ہے‘ کیونکہ شرعاً یہ بعض خدمات کا معاوضہ اور رقم کی منتقلی کی اجرت ہے۔
کشف القناع میں ہے:
”عقد علی منفعة مباحة ‘ معلومة تؤخذ شیئا فشیئا مدة معلومة من عین معلومة او موصوفة فی الذمة او عمل معلوم بعوض معلوم“۔ ) کشاف القناع: ۳/۵۳۷ باب الاجارة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
الاجارة (ہی) شرعاً (تملیک بعوض ․․․ وحکمہا وقوع الملک فی البدلین ساعة فساعة“۔ (کتاب الاجارة ۶/۵ ط: سعید)
النتف فی الفتاوی میں ہے:
”واجارة الامتعة جائزة اذا کانت فی مدة معلومة باجر معلوم ولہ ان یستعملہا فیما یستعمل مثلہ فی ذلک“۔ (کتاب الاجارة ۲۰۴۷ ط: سعید)
۲- یہ بھی جائز ہے۔
الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد عبد القادر
کتبہ
محمد عرفان
متخصص فی الفقہ الاسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام

محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری
اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام



حق تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے وحی آسمانی کا سلسلہ جاری فرمایا‘ اس کے لئے جن برگزیدہ نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا‘ اسلامی زبان میں انہیں انبیاء ورسل کہتے ہیں‘ ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عصمت کی ضمانت دی جاتی ہے یعنی ان کا ہرقول وفعل شیطانی تسلط اور نفسانی خواہش سے پاک ہوتا ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی“۔ (النجم:۳‘۴)
ترجمہ:۔”اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے‘ وہ تو حکم ہے بھیجا ہوا“۔ ان کی صداقت وحقانیت کو قطعی دلائل وشواہد سے ثابت کیا جاتا ہے تاکہ مخلوق پر حجت قائم ہو اور وہ پوری طرح یقین واطمینان کے ساتھ ان پر ایمان لائیں اور ان کی تصدیق کرسکیں‘ انہی دلائل کا نام ”معجزات“ و”بینات“ ہے‘ ان کی نبوت ورسالت ‘ ان کی صداقت وحقانیت اور ان کی عصمت وضمانت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اطاعت تمام انسانوں کے لئے فرض ہوجاتی ہے‘جیساکہ ارشاد ہے:
”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع بإذن اللہ“۔ (النساء:۶۴)
ترجمہ:۔”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے “۔ الغرض آسمانی ہدایت کا اصل منبع وہ ربط وتعلق ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کا بار گاہِ قدس سے قائم ہوتا ہے اور جسے نبوت ورسالت سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ انہیں حق تعالیٰ کی طرف سے برابر پیغامات دیئے جاتے ہیں‘ پیغام رسانی کبھی فرشتہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور کبھی براہِ راست۔ جس فرشتہ کو اس کے لئے منتخب فرمایا گیا ہے‘ ان کا نام جبریل ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء“ ۔ (الشوریٰ:۳۸)
ترجمہ:۔”اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ‘ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچادے اس کے حکم جو وہ چاہے“۔
منبع وحی
یہ پیغام عام طور سے کسی صحیفہ یا کتاب کی صورت میں نہیں‘ بلکہ فرشتہ کی زبانی یا القاء فی القلب کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی اس پیغام کو الفاظ کی صورت میں منضبط کرکے بھیجا جاتا ہے جسے ”صحیفہ“ یا ”کتاب“ کہا جاتا ہے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اور تورات‘ زبور‘ انجیل ‘ قرآن کریم چار مشہور کتابیں اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں‘ ظاہر ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے اور صحیفوں اور کتابوں کی تعداد نہایت قلیل‘ اس سے صاف طور پر واضح ہوجاتاہے کہ وحی صرف کتاب یا صحیفے میں منحصر نہیں‘ بلکہ نبی ورسول کی ذات گرامی منبع وحی ہے‘ امت کے لئے جس طرح کتاب واجب القبول اور واجب الاتباع ہے ٹھیک اسی طرح نبی ورسول کا ہر حکم وارشاد اور ہرقول وفعل امت کے لئے حجت اور واجب الاتباع ہے‘ البتہ اتنا فرق ہے کہ کتاب بعد کی امت تک قطعی ذرائع سے پہنچتی ہے‘ اس لئے اس کے احکامات کا ثبوت قطعی ہوتاہے اور بقیہ پیغامات کبھی تواتر یا عملی توارث جیسے قطعی ذرائع سے پہنچتے ہیں اور کبھی وہ ذرائع قطعی نہیں ہوتے‘ اس لئے اس دوسری قسم کا درجہ قرآن کریم کی سی قطعیت کا نہیں ہوگا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم تو امت کے لئے قابل قبول ہو اور رسول اللہ ا کے دوسرے پیغامات کی معاذ اللہ کوئی قیمت نہ ہو‘ قرآن کریم بار بار اعلان کرتا ہے کہ قرآن کریم کا سمجھانا اور اس پر عمل کرانا یہ آنحضرت ا کا کام ہے‘ قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل‘ اس کے الہام کی توضیح‘ اس کے اشارات کی تشریح‘ اس کے مقصد ومنشاء کی تعیین‘ اس کی مشکلات کا حل اور اس کے احکام کی عملی تشکیل یہ سب کام رسول اللہ ا کے ذمہ ہیں جو وحی الٰہی کے ذیل میں آتے ہیں اور امت کے لئے واجب القبول ہیں۔
تعلیماتِ انبیاء
بہرحال یہ حقیقت واضح اور مسلم ہے کہ آنحضرت ا پر پیغاماتِ الٰہیہ جس طرح قرآن کی صورت میں نازل ہوئے‘ اسی طرح بہت سے پیغاماتِ الٰہیہ قرآن کے علاوہ بھی آپ ا پر نازل ہوئے جن کی تعلیم امت کو دی گئی‘ قرآن کریم کی اصطلاح میں انبیاء کرام علیہم السلام کی ان تعلیمات کا نام ”الحکمة“ ہے اور قرآن کریم نے متعدد مقامات میں اسے ”انزل“ سے تعبیر فرمایاہے۔
دین کا منبع اور مدار
ان اشارات سے یہ بات سمجھنی آسان ہوگئی کہ دین کا اصل مدار آنحضرت ا کی ذات گرامی ہے اور دین کا اصل منبع نبوت کی تعلیمات وہدایات ہیں‘ خواہ قرآن کریم میں ان کا ذکر ہو یا نہ ہو‘ اسلام کے تشریعی نظام پر غور کرنے کا موقع جن لوگوں کو ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ بہت سے بنیادی اور اہم احکامات حضرت رسول اللہ ا نے وحی خفی کے اشارے سے امت کو دئے اور مدت کے بعد قرآن کریم میں ان احکام کی آیات نازل ہوئی جن میں آنحضرت ا کے بیان فرمودہ احکام کی تصدیق وتائید کی گئی ‘ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
۱- توحید ورسالت کے اقرار کے بعد اسلام میں سب سے پہلی عبادت صلاة یعنی نماز ہے‘ اس عبادت کا سلسلہ ابتداء اسلام ہی سے قائم ہوگیا تھا‘ معراج سے پہلے صبح وشام کی دو نمازیں فرض تھیں اور اسراء کے بعد پانچ نمازوں کی فرضیت نازل ہوئی‘ مگر قرآن کریم میں اس وقت تک نماز کے اوقات کی تفضیل نہ تھی‘ اس فریضہ کو امت نے آنحضرت ا ہی سے لیا اور اس پر عمل کیا۔
۲- نماز کا جو نقشہ آپ ا نے قولاً وعملاً پیش فرمایا کہ اللہ اکبر سے شروع ہو اور السلام علیکم پر ختم ہو‘ اس میں قیام ہو‘ قرأت ہو‘ رکوع وسجود ہو‘ جلسہ وقومہ ہو اور رکعتیں کبھی دو ہوں کبھی تین کبھی چار وغیرہ وغیرہ‘ ان تمام تفصیلات کی طرف قرآن کریم میں کہیں اشارے تو موجود ہیں‘ لیکن یہ مفصل نقشہ امت نے آپ ا ہی کے قول وعمل سے سیکھا اور اس پر عمل کیا‘ نہ قرآن کریم پر اس کا مدار نہ اس میں ذکر کا انتظار۔
۳- نماز کے لئے طہارت ووضو وغیرہ کے لئے آپ ا نے ہی ہدایت فرمائی اور امت نے اس پر عمل کیا‘ تقریباً اٹھارہ سال بعد سورہٴ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی جب کہ امت اٹھارہ سال سے آپ ا کی ہدایت پر عمل پیرا تھی۔
۴- آنحضرت ا مدینہ طیبہ تشریف لائے تو امت کو نماز میں بیت المقدس کے استقبال کا حکم فرمایا‘ سولہ‘ سترہ مہینے اس پر عمل رہا‘ اس کے بعد قرآ ن کریم میں بیت اللہ شریف کے استقبال کا حکم ہوا‘ بیت المقدس کے استقبال کا حکم قرآن میں نازل نہیں ہوا تھا‘ لیکن آنحضرت ا کے بیان فرمودہ کم کی قرآن کریم نے تصدیق کی ۔
”سیقول السفہاء من الناس“ الآیة
۵- جب بنی النضیر سے جہاد کا حکم ہوا تو جنگی مصلحت کے پیش نظر آنحضرت ا نے ان کے کھجور کے بعض درختوں کو کاٹنے کا حکم فرمایا‘ یہود نے اس پر اعتراض کیا تو آنحضرت ا کے حکم کی تصدیق وتصویب کے لئے قرآن نازل ہوا اور ان درختوں کے کاٹنے کو ”باذن اللہ“فرمایا‘جیساکہ ارشاد ہے:
”ما قطعتم من لینة او ترکتموہا قائمة علی اصولہا فباذن اللہ“۔ (الحشر:۵)
ترجمہ:․․․”جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے“۔ ان چند مثالوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ امت کی راہنمائی کے لئے آنحضرت ا کی ذاتِ گرامی سر چشمہٴ ہدایت ہے‘ کسی بھی معاملہ میں نہ قرآن پر توقف ہے نہ اس کا انتظار‘ صحابہ کرامجو قرآن کریم کے سب سے پہلے اور براہ راست مخاطب تھے‘ ان کے نزدیک آنحضرت ا کی دونوں حیثیتیں مسلم تھیں کہ آپ نبی معصوم بھی ہیں اور ہر معاملہ میں مطاعِ مطلق بھی‘ اسی لئے وہ قرآن حکیم اور حدیث نبوی کے احکام کو یکساں طور پر واجب الاتباع مانتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ احادیثِ نبویہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کافی بڑا حصہ تو وہ ہے جو قرآنی احکام کی تشریح وتوضیح پر مشتمل ہے‘ قرآن کریم نے ”اقیموا الصلاة“ فرمایا‘ آپ ا نے اقامتِ صلاة کی قولاً وعملاً تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ”صلوا کما رأیتمونی اصلی“ تم بھی ایسی نماز پڑھو جیسی میں پڑھتا ہوں ”وآتوا الزکوٰة“ کا حکم نازل ہوا تو آپ ا نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ کن کن اموال میں زکاة ہوگی‘ ہرایک کا نصاب کیا ہوگا‘ مقدار زکاة کیا ہوگی‘ اس کے اصول وشرائط کیا ہوں گے؟ اس اعتبار سے آپ کا وجود اور آپ ا کی حیاتِ طیبہ عملی قرآن ہے یعنی احکامِ قرآن کا عملی نمونہ اور مثال ہے‘ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ  سے جب آپ ا کا خلق دریافت کیا گیا تو فرمایا: ”کان خلقہ القرآن“ آپ ا کا خلق قرآن تھا‘ شریعت محمدیہ کا وسیع نظام جو سب کے سامنے ہے اور جس میں عقائد وعبادات اخلاق ومعاشرت‘ سنن وآداب‘ جہاد وقتال‘ صلح وجنگ‘ سیاست ومعیشت سبھی کچھ آجاتا ہے‘ ان میں بہت سے احکام ایسے ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ہیں‘ آپ ا ہی نے امت کو ان کی تعلیم فرمائی ہے‘ ظاہر ہے کہ دینِ اسلام کا تفصیلی نقشہ قرآن کریم کے ساتھ آنحضرت ا کے انفاسِ قدسیہ اور احادیث طیبہ کو ملانے ہی سے تیار ہوتا ہے اور اسی سے الحاد وتحریف اور رکیک تاویلات کے راستے بند ہوتے ہیں‘ اگر قرآن کریم کو نبی کریم ا کی عملی زندگی اور آپ ا کے ارشادات وہدایات سے الگ کرلیا جائے تو قرآن کریم ملحدین کی غلط تعبیرات کا تختہٴ مشق بن جائے گا اور تحریف وتاویل کا انسداد دشوار ہوگا۔
مستشرقین اور اعداء اسلام کی قرآن کریم میں معنوی تحریف کی کوشش
متنِ قرآن کریم کی حفاظت کا تو اعلان ہوچکا ہے‘ اس کا امکان نہیں تھا کہ قرآن کے الفاظ میں رد وبدل کیا جاسکے‘اس لئے دشمنانِ اسلام جو ہمیشہ اسلام کو مٹانے کے درپے رہے‘ قرآن کریم سے تو مایوس ہوگئے‘ انہوں نے قرآن کی معنوی تحریف کے لئے یہ چور دروازہ تلاش کیا کہ حدیثِ نبوی کو جو معانی قرآنی کی محافظ ہے ناقابلِ اعتبار ثابت کریں‘ یورپ کے مستشرقین اور دشمنِ اسلام ملاحدہ نے اپنے تمام وسائل اور دماغی وقلمی تمام طاقتیں احادیث کو بے وقعت بنانے کے لئے صرف کرنا شروع کردیں اور مسلمانوں میں ”منکرین حدیث“ کے نام سے منافقین کا جو گروہ آج موجود ہے غلام احمد پرویز وغیرہ‘ انہوں نے انہی دشمنان اسلام کی راہنمائی میں اس مہم کو اور آگے بڑھایا ”ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ“ چنانچہ نئی نسل کے بہت سے افراد جو دینی تعلیم وترتیب سے بے بہرہ تھے‘ ان خیالات کا شکار ہوگئے۔
تاریخ فتنہٴ انکارِ حدیث
انکارِ حدیث کے فتنہ کی تاریخ بہت قدیم ہے‘ سب سے پہلے خوارج نے اس کی بنیاد رکھی‘ صحابہ کرام کی تکفیر کرکے ان کی روایت کردہ احادیث کا انکار کیا اور صرف کتاب اللہ کو مانا‘ ان کے بالمقابل شیعہ نے کتاب اللہ کی تحریف اور احادیث کے انکار کا راستہ کھولا اور دین کا انحصار اپنے ائمہ کی روایت پر رکھا‘ معتزلہ نے تاویل کے راستہ سے فتنہٴ انکارِ حدیث کومزید قوت بہم پہنچائی مگر یہ دور اسلام کی شوکت وعزت کا دور تھا‘ ان کی مساعی ناکام رہیں اور مسلمانوں نے جس طرح قرآن کو سینے سے لگایا اور علوم قرآن کی خدمت کو سرمایہٴ سعادت سمجھا‘ اسی طرح احادیث نبویہ کو سر آنکھوں پر رکھا اور علوم حدیث کی خدمات اس محنت وعقیدت سے انجام دیں کہ تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اور حضرت رسول اللہ ا کے انفاسِ قدسیہ کی وہ حفاظت کی کہ عقل حیران ہے۔ حدیثِ نبوی ا سے مسلمانوں کا شغف دیکھ کر اس وقت اعداء اسلام نے وضعِ احادیث کا چور دروازہ نکالا اورمن گھڑت روایات پھیلانا شروع کیں تاکہ حق وباطل خلط ملط ہوکر حقیقت ملتبس ہوجائے‘ مگر حق تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرکے رکھ دیا‘ انہوں نے فنِ رجال اور جرح وتعدیل مرتب کیا اور روایات کی چھان بین کرکے تمام اعداء اسلام یہودیوں‘ سبائیوں اور ملحدوں کی اس سازش کو خاک میں ملادیا‘ امتِ محمدیہ نے اپنے رسول ا کی احادیث کی حفاظت کے کام کو اتنا آگے بڑھایا کہ اصولِ حدیث کے مختلف فنون کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ گئی‘ بلا شبہ دینِ اسلام ابدی تھا‘ قیامت تک کی نسلِ انسانی کے لئے سر چشمہٴ ہدایت تھا‘ ضروری تھا کہ دینِ اسلام کی یہ دونوں مشعلیں کتاب وسنت قیامت تک روشن اور ہرقسم کی آندھیوں اور جھکڑوں سے محفوظ رہیں‘ تاکہ ہر دور میں اللہ کی حجت قائم رہے اور قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت صادق رہے:
”وکیف تکفرون وانتم تتلی علیکم آیات اللہ وفیکم رسولہ‘(آل عمران:۱۰۱)
ترجمہ۔․”اور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر تو پڑھی جاتیں ہیں آیتیں اللہ کی اور تم میں اس کا رسول ہے“۔ فرمان نبوی میں اس حقیقت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے:
”ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللہ وسنة رسولہ“۔ (موطا مالک)
ترجمہ:۔میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب اللہ اور دوسری اس کے رسول کی سنت“۔
قرآن کریم اور حدیث نبوی
الغرض اس کا کوئی امکان نہیں کہ قرآن وحدیث کو ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکے‘ نہ یہ ممکن ہے کہ قرآن پر ایمان ہو اور حدیث نبوی سے انکار‘ کیونکہ قرآن کریم بار بار اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ حضرت رسو اللہ ا کی اتباع میں تمہاری نجات ہے اور آپ ا کی نافرمانی تباہی وبربادی کا موجب ہے‘ آپ کی مخالفت پر قرآن کریم سخت سے سخت وعیدیں سناتا ہے‘ آپ کی زندگی کو امت کے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیتا ہے‘ قرآن کی تعلیم وتشریح اور اس کے اجمال کی تفصیل کو قرآن آپ کا فرضِ منصبی بتاتا ہے‘ حاصل یہ کہ دنیا وآخرت کی نجات وسعادت اور فلاح وبہبودی آپ ا کی پیروی میں ہے اور حق تعالیٰ کی محبت واطاعت کا معیار بھی آنحضرت ا کی متابعت کے سوا کچھ نہیں:
”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم“۔ (آل عمران:۳۱)
ترجمہ:۔”ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا“۔
فرقِ باطلہ اور حدیث
بہرحال تمام فرق باطلہ خوارج‘ شیعہ‘ معتزلہ‘ قدریہ‘ جہمیہ اور مرحبہٴ وغیرہ نے احادیث کے خلاف جوہرزہ سرائی کی تھی (اور امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی/ امام احمد اور دیگر محدثین ومتکلمین نے جس کا دندان شکن جواب دے کر ان کے حوصلے پست کردئے تھے) ہردور میں ملاحدہ اسے جدید شکل وصورت میں پیش کرتے رہے ہیں چنانچہ مستشرقینِ یورپ نے بھی اسی محاذ سے اسلام کی بیخ کنی شروع کی اور اس کے لئے ایک منظم مہم چلائی جو زہر قدیم باطل پرستوں نے اگلا تھا اسی کو دوبارہ نئی بوتلوں میں بھر بھر کر جدید نسل کے حلق سے اتارنے کی کوشش کی‘ کبھی کہا کہ احادیث تو دو سو سال بعد قلم بند ہوئی ہیں ان کا کیا اعتبار؟ کبھی حاملین حدیث پر اعتراضات کئے‘ کبھی عقلی شبہات ووساوس پیش کئے اور ان راستوں سے نماز‘ اس کے اوقات‘ زکاة‘ روزہ‘ حج ‘ قربانی وغیرہ تمام عبادات میں شکوک وشبہات پیدا کئے‘ احکامِ شرعیہ کو اعتراضات کا نشانہ بنایا‘ ملائکہ ‘ جنات‘ شیاطین ‘ ارواح وغیرہ میں تاویل ِ باطل کا راستہ کھولا‘ اس طرح کوشش کی گئی کہ خدا نخواستہ اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا جائے مگر لسانِ نبوت سے یہ اعلان پہلے صادر ہوچکا تھا:
”یحمل ہذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاہلین“۔ (مشکوٰة:)
ترجمہ:۔”ہر آنے والی نسل میں کچھ عادل وثقہ حضرات اس علم دین کے حامل ہوں گے جو غلو کرنے والوں کی تحریف‘ باطل پرستوں کے غلط ادعا اور جاہلوں کی تاویل کو صاف کریں گے“۔
سنت وحدیث پر مطبوعہ کتابیں
الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے باطل پرست جاہلوں کے اٹھائے ہوئے گردو غبار سے سنت کا چہرہ صاف کیا‘ امام شافعی سے ابن وزیر یمانی صاحب الرد من الباسم اور شیخ جلال الدین السیوطی صاحب ”مفتاح الجنة فی الاتجاج بالسنة“ تک اور ان سے آج تک نہ صرف عربی اردو میں بلکہ انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں بھی قابلِ قدر تالیفات وجود میں آئیں‘ گذشتہ پچاس سال کے عرصہ میں اہل علم نے بیسیوں گرانقدر تصنیفات سے علمی کتب خانوں میں بیش بہا اضافہ کیا‘ قدمائے امت نے جو کتابیں تصنیف فرمائیں ان کی طویل فہرست راقم الحروف کی کتاب ”عوارف السنن مقدمہ معارف السنن“ میں مذکور ہے جو انشاء اللہ عنقریب طبع ہوگی‘ اس تیس چالیس برس میں جو ذخیرہ اس موضوع پر مدون ہوا ان میں چند کتابوں کا نام بطور نمونہ درج ذیل ہے
۱- الحدیث والمحدثون ،محمد محمد ابوزہرہ (عربی) ۲- السنة قبل التدوین، محمد عجاج خطیب (عربی)
۳- الانوار الکاشفة ،شیخ عبد الرحمن یمانی // ۴- ظلمات ابی ربہ، شیخ محمد عبد الرزاق حمزہ //
۵- کتاب السنة ،موسیٰ جار اللہ قازانی // ۶- فی الحدیث النبوی ،شیخ مصطفی زرقا شامی//
۷- تدوین حدیث مولانا مناظر احسن گیلانی  اردو ۸- بصائر السنة ،مولانا امین الحق صاحب طوری (اردو)
۹- فتنہٴ انکار حدیث افتخار احمد بلخی ۱۰- فتنہٴ انکار حدیث مولانا سرفراز صاحب
۱۱- سنت قرآن کریم کی روشنی میں مولانا غفار حسن ۱۲- حدیث قرآن کریم کی نظر میں از راقم الحروف
۱۳- احادیث النبی الکریم اپروفیسر روحی ۱۴- سنت کا تشریعی مقام مولانا محمد ادریس میرٹھی
۱۵- Stadies in Eorly Haddh titenatur ڈاکٹر مصطفی اعظمی ،انگریزی
مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے درجہ تخصص کے رفقاء نے حسبِ ذیل مقالات کتابی شکل میں مرتب کئے ہیں:
الف: السنة النبویة والقرآن الکریم : للأستاذ محمد حبیب اللہ المختار عربی‘ اردو
ب: وسائل حفظ الحدیث وجہود الامة فی ذلک : از مولوی عبد الحکیم سلہٹی اردو
ج: علم مصطلح الحدیث واسماء الرجال وثمراتہ : از مولوی عبد الحق دیروی ‘ عربی
د: کتابة الحدیث وادوار تدوینہ: از مولوی محمد اسحاق سلہٹی ‘ اردو
ھ: الکتب المدونة فی الحدیث واصنافہا وخصائصہا : از مولوی محمد زمان کلاچوی‘ عربی
و: الصحابة وما رووہ من الاحادیث : از مولوی حبیب اللہ مہمندی‘ عربی
یہ چھ کتابیں ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئیں جس وقت امت کے سامنے یہ ذخیرہ آئے گا دنیا حیرت میں رہ جائے گی۔
اسی قیمتی ذخیرہ کی ایک قابلِ قدر کتاب الشیخ مصطفی سباعی مرحوم کی تالیف: السنة ومکانتہا فی التشریع الإسلامی“ اپنے موضوع پر اہم ترین کتاب ہے جو گیارہ سال قبل قاہرہ میں طبع ہوئی تھی‘ مؤلف موصوف اپنے وقت کے بہترین خطیب اور پُر جوش صاحب قلم تھے‘ موصوف نے ازہر سے عالمیت واستاذیت کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یہ موضوع اختیار کیا تھا‘ چنانچہ پورے ایک سو مآخذ سے یہ کتاب نہایت فصیح وبلیغ زبان اور شیرین وشگفتہ اسلوب میں تحریر کی‘ یہ کتاب تیس کے قریب بڑے بڑے عنوانات پر مشتمل ہے‘ جن میں سنت نبوی کے ہرگوشہ پر شافی بحث کی گئی ہے‘ ضمنی بحثیں نہایت عمدہ اور عجیب وغریب آتی ہیں ‘ مستشرقین کی خرافات وشبہات کے نہایت مؤثر اور فاضلانہ ومحققانہ جوابات کتاب کا بہترین اور قیمتی حصہ ہیں‘ اگر اس کتاب میں اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس کتاب کی قیمت کے لئے کافی تھا۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے دار التصنیف نے چاہا کہ اس گنجِ گراں مایہ کو اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ نئی نسل میں یورپ کے پھیلائے ہوئے زہر کے لئے تریاق کا کام دے اور جدیدافکار میں سرایت کردہ سمت کے لئے اکسیر اعظم اور کبریتِ احمر ثابت ہو‘ ترجمہ کے لئے ہمارے مدرسہ کے درجہٴ تکمیل کے فارغ التحصیل مولانا احمد حسن ایم اے کا انتخاب کیا گیا اور اس پر مولانا محمد ادریس میرٹھی استاذِ حدیث مدرسہ عربیہ کی نظر اصلاحی نے سونے پر سہاگہ کا کام دیا‘ جلدِ اول طبع ہوچکی اور جلد دوم عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہوگی‘ دعا ہے کہ حق تعالیٰ ہماری نئی نسل کو نئے فتنوں سے بچائے اور شیاطین یورپ ان کی متاعِ ایمانی کو لوٹنے کی جو تدبیریں کررہے ہیں انہیں خاک میں ملا دے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ صفوة البریة سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم

غیر عالم دین کا درسِ قرآن دینا

مفتی رفیق احمد بالاکوٹی
غیر عالم دین کا درسِ قرآن دینا


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
میں بہادر آباد محلہ کا رہائشی ہوں اور اس کی مرکزی مسجد ”․․․․․․․․“ کا نمازی ہوں مسجد اور اس کے نمازی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں‘ اہل محلہ اور نمازیوں کی دینی تربیت کے پیش نظر مسجد میں ہفتہ وار مختلف علمائے کرام کے درس ہوتے ہیں‘ جن سے ہمیں بے حد دینی فائدہ محسوس ہوتا ہے‘ ماہِ مبارک میں یہاں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کسی معتمد اور مستند عالم دین کو بلاکر ان سے درسِ قرآن دلوایاجاتا ہے‘ چنانچہ اسی سلسلے میں حضرت مفتی عتیق الرحمن شہید اور مولانا عزیز الرحمن صاحب استاذ حدیث جامعہ عثمانیہ بھی تشریف لاچکے ہیں‘ امسال انتہائی حیرت انگیز طور پر ”تنظیم اسلامی“ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو․․․․․․․․ درسِ قرآن کے لئے بلایا گیا اور تاحال ان کا درس جاری ہے۔ بندہ اور اس کے ہم فکر دینی درد رکھنے والے بہت سے نمازیوں کو اس بارے میں سخت تشویش اور ذہنی پریشانی کا سامنا ہے۔ مذکورہ بالا صورت کے تناظر میں آنجناب سے ان چند امور سے متعلق وضاحت مطلوب ہے:
۱- ایک غیر عالم اور مزید یہ کہ تنظیم اسلامی کے نظریات کے حامل شخص کو مسجد کے منبر پر درس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے کیا حکم رکھتا ہے‘ جبکہ تفسیر قرآن کی اہمیت ونزاکت کی بنا پر متعدد علوم پر دسترس ہونا مفسر کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے؟
۲- اس علاقے میں بیسیوں علمائے کرام کے ہوتے ہوئے موصوف کو درس کے لئے منتخب کرنا کیا علم دین کی ناقدری میں شمار نہیں ہوگا؟
۳- درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار کیا ہے؟ براہ مہربانی وضاحت سے تحریر فرمائیں۔
۴- موجودہ حالات میں ․․․ جبکہ یہ درس قرآن کے تقدس اور مسلک دیوبند کے تحفظ کا مسئلہ ہے اور اس سلسلہ کے جاری رہنے میں علاقے کی دینی اور نظریاتی فضا مسموم ہونے اور نمازیوں میں انتشار کا خدشہ بھی ہے ․․․ ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
آنجناب سے گذارش ہے کہ ان امور کے بارے میں وضاحت کے ساتھ جواب تحریر فرماکر عند اللہ وعند الناس ماجور ہوں۔
مستفتی:حسن شاہ
الجواب باسمہ تعالیٰ
”درسِ قرآن“ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرنے کا نام ہے اور علم تفسیر اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن کریم کے معانی کو بیان کیا جائے‘ اس کے احکام کی حکمتوں کو کھول کر واضح کیا جائے۔ نیز مرادِ خداوندی کو متعین کیا جائے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ”علم تفسیر“ کے اس توضیحی عنوان میں علم تفسیر کی حقیقت‘ نزاکت اور اس کے حصول کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بہت ہی مختصر اور سادہ الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے‘ اس عنوان کی تفصیلات اور علمی ابحاث میں جائے بغیر یوں کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم‘ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے‘ اس کی ترجمانی اور تفصیل وتوضیح کے لئے ایسی لیاقت اور اہلیت درکار ہے‘ جو اس کلام کی عظمت کے شایانِ شان ہو‘ ورنہ معمولی لغزش غلط ترجمانی کا مرتکب بناکر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے باغیوں میں شمار کروا دے گی اور تفسیر قرآن ودرس قرآن کا شوق دنیا وآخرت کی نجات وفلاح کی بجائے ہلاکت وبربادی کا ذریعہ بن جائے گا۔اسی خطرہ کے پیش نظر علماء کرام فرماتے ہیں اور دنیا کا عام اصول بھی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی علم وفن ایسا نہیں جو اس تک پہنچنے والے متعین راستوں اور واسطوں کے بغیر حاصل ہوتا ہو‘ یہی اصول قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے والوں کے بھی پیش نظر ہونا چاہئے‘ اگر کوئی انسان اس اصول اور ضابطہ سے ہٹ کر خدا کی کتاب کو تختہٴ مشق بناتا ہے تو ایسا کرنا نہ صرف یہ کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ظلم وناانصافی ہے‘ بلکہ خود انسان اپنے اوپر بھی ظلم کرنے والا بن جاتا ہے۔ اسی عظیم خطرہ کی بنا پر علماء امت کے ایک طبقہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نبوی ارشادات سے آگے کوئی بھی لفظ زبان سے نکالا ہی نہ جائے‘ کیونکہ قرآن فہمی اور قرآن بیانی میں غلطی سرزد ہونے کی بناء پر انسان ان تمام وعیدات کا مصداق بن جاتا ہے‘ جو قرآن بیانی میں اپنی رائے اور مذاق ومزاج کی آلودگی شامل کرنے والوں کی بابت وارد ہوئی ہیں‘ لیکن علامہ جلال الدین سیوطی  (م‘۹۱۱ھ) فرماتے ہیں کہ جمہور علمأ امت کی رائے کے مطابق قرآنی اعجاز کے اسرار ورموز کو سمجھنے کے لئے مطلوبہ استعداد اور صلاحیت کے حاملین کے لئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنا جائز ہے اور یہ استعداد وصلاحیت علوم وفنون کی تقریباً ۱۵/ پندرہ گھاٹیاں سر کرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے‘ جن میں لغت ‘ صرف‘ نحو‘ اشتقاق‘ معانی‘ بیان‘ بدیع‘ قرآء ات‘ اصول الدین‘ اصول فقہ‘ فقہ‘ حدیث‘ علم اسباب نزول‘ علم ناسخ ومنسوخ اور نور بصیرت ووہبی علم وغیرہ شامل ہیں۔ یہ علوم وفنون چونکہ ہمارے ہاں درسِ نظامی کے درسی نصاب میں شامل ہیں اسی بنیاد پر کہا جاتاہے کہ درسِ قرآن دینے والے کے لئے کم از کم درسِ نظامی کا فاضل ہونا ضروری ہے‘ کیونکہ جس آدمی نے اپنی زندگی کے آٹھ‘ دس سال ان علوم وفنون کے سائے میں گزارے ہوں اسے ان علوم میں اعلیٰ درجہ کا کمال اور مہارت اگر حاصل نہ بھی ہو تو کچھ نہ کچھ مناسبت تو ضرور حاصل ہوجاتی ہے اور اس سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ درس نظامی کے فاضل کو اعجاز قرآن کے بیان کرنے میں اپنی علمی بے مائیگی کا احساس دامن گیر رہے گا اور وہ اپنی طرف سے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے اور الفاظ قرآنی میں مراد خداوندی متعین کرنے میں جاہلانہ بے باکی اور جرأت سے کم از کم محفوظ رہے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مستند عالم دین جو بات اور جتنی بات کہے گا وہ سلف صالحین پر اعتماد اور استناد کی روشنی میں کہے گا اور یہ تفسیر قرآن کا اہم بنیادی اصول ہے کہ تفسیر قرآن کا بار گراں اٹھانے والا اپنی طرف سے الفاظ وتعبیرات اور مراد ومعانی منتخب کرنے کی بجائے اسلاف پر اعتماد کرتے ہوئے ان ہی کے ارشادات کو سامنے رکھے‘ یعنی نبی اکرم ا کے اقوال وافعال‘ آپ ا کے صحابہ کرام  کے فرامین اور آراء کو تفسیر بیان کرتے ہوئے اساس وبنیاد سمجھے پھرحضور ا کے اسوہٴ حسنہ اور صحابہ کرام  کے طرز فکر وعمل پر کار بند رہنے والے فقہاء ملت اور علمأ حق کے عقائد واعمال اور اخلاق وعادات کو اپنا سرمایہ اور مأخذ سمجھے‘ اگر کوئی مفسر قرآن یا مدرس قرآن اس اصول سے پہلو تہی کرتے ہوئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے کی ٹھان لے اور درس قرآن کے نام پر کتاب الٰہی کو تحتہٴ مشق بنائے تو ہم تک قرآن اور دین کی تشریحات پہچانے والے واسطوں اور ذریعوں کا کہنا ہے کہ وہ ناجائز کررہا ہے‘ اس کا یہ عمل ‘ دین یا قرآن کی خدمت نہیں‘ بلکہ امت میں فتنہ اور گمراہی کا ذریعہ ہے پھر ستم بالائے ستم یہ کہ یہ مفسر یا مدرس اپنے اعمال ونظریات کی وجہ سے سلف بیزاری اور الحاد سے متہم ہوچکا ہو۔ اگر ایسے شخص کو کتاب اللہ کا مفسر بناکر بٹھا دیا جائے اور مرادِ الٰہی کا ترجمان قرار دیا جائے تو پھر مسلمانوں کے عقائد ونظریات اور دینیات کا اللہ ہی حافظ ہے۔ چنانچہ حافظ جلال الدین سیوطی  نے ”الاتقان فی علوم القرآن“ میں امام ابوطالب الطبری کے حوالہ سے مفسر کے آداب کے ضمن میں مفسر کے لئے ضروری شرائط کا تذکرہ یوں فرمایا ہے:
”اعلم ان من شرطہ صحة الاعتقاد اولاً ‘ولزوم سنة الدین فان من کان مغموصاً علیہ فی دینہ لایؤتمن علی الدنیا فکیف علی الدین ثم لایؤتمن فی الدین علی الاخبار عن عالم فکیف یؤتمن فی الاخبار عن اسرار اللہ تعالیٰ ‘ولانہ لایؤمن ان کان متہماً بالالحاد ان یبغی الفتنة ویغر الناس بلیّہ وخداعہ کدأب الباطنیة وغلاة الرافضة․․․ الخ“۔(الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی النوع:۷۸‘ج:۲۰ ص:۱۷۶‘ ط:سہیل اکیڈمی لاہور)
ترجمہ:․․․”جاننا چاہئے کہ مفسر کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پہلے تو اس کا عقیدہ صحیح ہو‘ دوسرے وہ سنت دین کا پابند ہو‘ کیونکہ جو شخص دین میں مخدوش ہو‘ کسی دنیوی معاملہ میں بھی اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا تو دین کے معاملے میں اس پر کیا اعتماد کیا جائے گا‘ پھر ایسا شخص اگر کسی عالم سے دین کے بارے میں کوئی بات نقل کرے‘ اس میں بھی وہ لائق اعتماد نہیں تو اسرار الٰہی کی خبر دینے میں کس طرح لائق اعتماد ہوگا‘ نیز ایسے شخص پر اگر الحاد کی تہمت ہو تو اس کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ تفسیر بیانی کے ذریعہ فتنہ کھڑا کردے اور لوگوں کو اپنی چرب زبانی ومکاری سے گمراہ کرے‘ جیساکہ فرقہٴ باطنیہ اور غالی رافضیوں کا طریقہ ٴ کار ہے“۔
مزید برآں جو شخص نظریاتی وفکری طور پر زیغ وضلال کا شکار ہو‘ عملی اعتبار سے بدعت وکجروی اور بے راہ روی کا علمبردار ہو اور روحانی لحاظ سے تکبر وغرور‘ نفس پرستی اور حب جاہ وحب مال کے علاوہ نفسانی خواہشات سے دوچار ہو تو حضرت لدھیانوی شہید کے بقول ایسا شخص جو تفسیر لکھے اور بیان کرے گا وہ قرآن کریم کی تفسیر نہیں ہوگی‘ بلکہ اس کے بدعت آلودذہن کا بخار اور بیمار دل کا تعفن ہوگا‘ ایسے فکری وروحانی مریضوں کے لئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنا یا درسِ قرآن دینا تو کجا‘ علمأ تفسیر کے بقول قرآن فہمی کی کوشش کرنا بھی حرام ہے‘ کیونکہ ان لوگوں کی بیمار ذہنیت اور نفسانی خواہش کے غلبہ کی وجہ سے انہیں ہر ہر موقع پر اپنی بیماری اور نفسانیت کا عکس نظر آئے گا اور اپنے فاسد افکار وخیالات ‘ خود ساختہ تعبیرات وتشریحات کو عوام الناس کے سامنے قرآنی طشت میں رکھ کر پیش کرے گا اور لوگ اس کی جہالت کو علم‘ اس کی فاسد آراء کو قرآن کی تفسیر خیال کرتے ہوئے اسے اپنا پیشوا اور مقتدیٰ کے درجہ پر بٹھا لیں گے‘ اس طرح معاشرہ میں ضلالت وگمراہی کا طوفان برپا ہوجائے گا‘ چنانچہ ”الاتقان“ میں امام زرکشی کی ”البرہان“ کے حوالہ سے مذکور ہے جو پورے سوالنامہ کے جواب کے لئے بھی کافی ہے:
”اعلم انہ لایحصل للناظر فہم معانی الوحی ولایظہر لہ اسرارہ وفی قلبہ بدعة او کبر او ہوی اوحب الدنیا او ہو مصر علی ذنب او غیر متحقق بالایمان او ضعیف التحقیق او یعتمد علی قول مفسر لیس عندہ علم او راجح الی معقولہ وہذہ کلہا حجب وموانع بعضہا آکد من بعض ․․․ الخ“۔ (الاتقان للسیوطی:نوع:۷۸‘ ۲/۱۷۶‘ ط:لاہور)
ترجمہ:․․․”جاننا چاہئے کہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والے پر وحی کے معانی ظاہر نہیں ہوتے اور اس پر وحی کے اسرار نہیں کھلتے‘ جبکہ اس کے دل میں بدعت ہو‘ یا تکبر ہو‘ یا اپنی ذاتی خواہش ہو‘ دنیا کی محبت ہو یا وہ گناہ پر اصرار کرنے والا ہو‘ یا اس کا ایمان پختہ نہ ہو یا اس میں تحقیق کا مادہ کمزور ہو‘ یا وہ کسی ایسے مفسر کے قول پر اعتماد کرے جو علم سے کوراہو‘ یا وہ قرآن کریم کی تفسیر میں عقل کے گھوڑے دوڑاتاہو‘ یہ تمام چیزیں فہم قرآن سے حجاب اور مانع ہیں‘ ان میں بعض دوسری بعض سے زیادہ قوی ہیں“۔
الغرض جو شخص کسی بھی طور پر یعنی علمی‘ عملی‘ فکری واعتقادی‘ نیز دین ودیانت کے لحاظ سے قرآن کریم کی تفہیم وتشریح کا اہل اور حقدار نہ ہو‘ اگر وہ اس منصب پر بیٹھ کر تفسیر قرآن کے نام پر رائے زنی کرے گا تو وہ نہ صرف یہ کہ حرام کا مرتکب ہوگا‘ بلکہ ان تمام وعیدات کا مصداق ومستحق بھی ہوگا جو حضور ا نے ”رائے وتخمین“ کے ذریعہ تفسیر کرنے والوں کے بارے میں فرمائی ہیں‘ جن میں سرفہرست یہ ارشاد گرامی ہے:
”جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے بغیر علم کے قرآن میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنائے“۔ (مشکوٰة:۳۵)
اس تفصیلی بحث سے سوالنامہ میں مذکور تمام سوالات کے جوابات تو کسی فرد‘ ادارہ یا تنظیم کا نام لئے بغیر تقریباً آچکے ہیں‘ تاہم اختصار کے ساتھ سوالوں کے ترتیب وار جوابات ذکر کئے جاتے ہیں:
۱- کسی بھی غیر عالم‘ بالخصوص جمہور علمأ امت کے افکار ونظریات سے منحرف شخص کو مسجد کے منبر پر مدرس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے بالکل ناجائز ہے۔
۲- مستند علمأ کے ہوتے ہوئے غیر مستند آدمی کو درس کے لئے بٹھانا نہ صرف یہ کہ علم دین کی ناقدری ہے‘ بلکہ قرآن کریم کے ساتھ زیادتی اور قرآن کی بے حرمتی بھی ہے۔
۳-درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار‘ تفسیر قرآن کے علمی مأخذ کی معرفت‘ وممارست‘ علمی رسوخ تام اور سلامتئی فکر ونظر ہے۔
۴- مذکورہ علاقہ کے صحیح العقیدہ مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ برائی کے ازالہ کے لئے اچھائی کی مقدور بھر کوشش کریں‘ مسلمانوں کے درمیان فتنہ وانتشار کی روک تھام کے لئے ”امر بالمعروف نہی عن المنکر“ کا احسن طریقہ اختیار کرتے ہوئے اہل محلہ‘ مسجد کمیٹی اور علاقہ کے بااثر حضرات کی باہمی مشاورت اور فہمائش کے ساتھ مذکورہ شخص کو فوری طور پر درس قرآن کی مصروفیت سے روک دیں تاکہ فاسد افکار ونظریات کی تبلیغ وترویج کا انسداد ہوسکے اور لوگوں کے درمیان فتنہ وانتشار برپا نہ ہو‘ نیز موصوف کی بجائے کسی مستند‘ راسخ العقیدہ‘ مضبوط عالم دین کو ان کی جگہ درسِ قرآن کے لئے مقرر کریں۔
کتبہ
رفیق احمد بالاکوٹی
الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی