Showing posts with label Article. Show all posts
Showing posts with label Article. Show all posts

Jun 14, 2009

CHIRYA,HATHEE OR AMRICI MAISHAT


BA SHUKRIYA DAILY JANG NEWS PEPAR

May 11, 2009

دین مین کوئی جبر نہیں




May 5, 2009

coloum about true meaning of shareyat




Mar 29, 2009

انبیاء کے کرداروں پر مشتمل فلم کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علمأ کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں نے بازار سے چند سی ڈیز خریدیں جو بظاہر حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کی معلومات پر بنی تھیں، لیکن جب میں نے انہیں دیکھا تو ان میں باقاعدہ اردو زبان میں ترجمے کے ساتھ مختلف افراد کو انبیأعلیہم السلام کی شکل میں دکھاکر ان کی زندگی کے مختلف واقعات قلم بند کئے گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر بنائی گئی فلم میں انہیں بازار میں فروخت ہوتے ہوئے‘ زلیخا کی جانب سے آپ سے جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام سمیت ان کے تمام دس بیٹوں کو بھی دکھا یا گیا‘ فلم کے بعض مناظر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو (معاذ اللہ) اپنی حاملہ بیوی سے بوس وکنار کرتے‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صاحبزادی کو شراب پیتے ہوئے بتایا گیا‘ بعد ازاں ان کے ساتھ زیادتی کا واقعہ بھی بنایاگیا۔حضرت سارہ کو نیم برہنہ حالت‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اپنی خادمہ ہاجرہ کے ساتھ تعلقات اور اس کے نتیجے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی فلم کا حصہ ہیں۔پردہ کے پیچھے سے آنے والی انسانی آواز کو اللہ کی آواز قرار دے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو ختنہ کے احکامات دئیے گئے ہیں‘ جبکہ ایک بڑی سی چادر اوڑھے شخص کو اللہ کہہ کر (معاذ اللہ) اس کے ہمراہ دو انسانوں کو فرشتوں کے روپ میں بھی دکھایا گیا ہے جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں۔فلم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربان گاہ لے جانے اور مینڈھے کے آنے کے مناظر بھی موجود ہیں ”کلام مقدس“ کے نام سے بنائی گئی فلم میں زمین کی تخلیق کے مراحل‘ کلین شیو شخص کو مکمل برہنہ حالت میں حضرت آدم علیہ السلام اور مکمل برہنہ عورت کو حضرت حوا کے روپ میں پیش کرکے جنت سے پھل کھانے کے بعد دنیا میں بھیجے جانے کی تفصیلات موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کی روشنی میں سوال ہے کہ:الف: اس قسم کی سی ڈیز کی کھلے عام فروخت‘ اس کے بنانے والوں کے بارے میں شرعی حکم اور سزا کیا ہے؟ نیز حکومت اس کی روک تھام کی کس حد تک ذمہ دار ہے‘ اور اگر حکومت ایسی سی ڈیز کی روک تھام نہیں کرتی تو ایک عام مسلمان کس حد میں رہتے ہوئے ان سی ڈیز کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے؟ب: ان سی ڈیز کو کیبل نیٹ ورک پر چلانے والے کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا ایسے کیبل نیٹ ورک کو مسلمان بزور قوت اس عمل سے باز رکھ سکتے ہیں؟
سائل : عارف محمود
گلشن ظہور ،جیکب لائن کراچی
جواب
دار الافتأ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں چند سی ڈیز‘ جوانبیأ اکرام علیہم السلام کے بارے میں بنائی گئی ہیں‘ لائی گئیں اور اس بارے میں ”دار الافتأ“ سے شرعی رائے پوچھی گئی اوران میں موجود مواد کی تفصیلات مذکورہ سوال میں ذکر کردی گئی ہیں‘ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد جواب دینے سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ حضرات انبیأ کرام علیہم السلام‘ جیسے مسلمانوں کے ہاں قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں بھی قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اور عیسائی ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں‘ بایں ہمہ عیسائیوں کو ایسی حرکتیں کرنا قطعاً زیب نہیں دیتا‘ ان انبیأ کرام علیہم السلام کو مقدس اور قابل احترام جاننے اور ماننے کے دعوے کے بعد عیسائیوں کی‘ا س طرح کی نازیبااور سوقیانہ حرکتیں کرنا‘ انتہائی شرمناک‘افسوس ناک اور ناقابل فہم ہے۔عیسائیوں کی کسی تنظیم کی طرف سے حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کے بارے میں اس طرح کی فحش اور گھٹیا فلمیں بناکر انبیأ کرام علیہم السلام کے روپ میں عام انسانوں کو نبی کے طور پر پیش کرنا‘ انبیأ کرام کی توہین وتنقیص ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خود عیسائی نادانستہ طور پر یہودی لابی کی سازشوں کا شکار ہورہے ہوں، جیساکہ کلام مقدس کے نام کی سی ڈی کے ڈیزائن میں یہودیوں کا مشہور ومعروف چھ کونوں والا ستارہ نمایاں طور پر دکھا یا گیا ہے‘ دختران پولوس نامی عیسائی تنظیم ان سی ڈیز کی نشر واشاعت کا کام کر رہی ہے‘ حالانکہ پولوس در پردہ کٹر یہودی تھا جو دین عیسوی کو بگاڑنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں شامل ہوا تھا اور اسی کی سازشوں سے دین عیسوی کو بہت زیادہ نقصان ہوا (اور اپنی اصلی صورت تھوڑا عرصہ گذرنے کے بعد کھو بیٹھا) غالباً موجودہ زمانے میں اسی پولوس کے نام پر یہ دختران پولوس نامی تنظیم اسی کے مقصدکو پورا کرنے کے لئے کام کررہی ہے‘ تاکہ انبیأ کرام علیہم السلام کا جو احترام عیسائیوں کے دلوں میں ہے اس کو ان کے دلوں سے اکھاڑ پھینکا جائے‘ بہرحال اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں‘ انبیأ کرام علیہم السلام‘ مسلمانوں کے ہاں معصوم اور گناہوں سے پاک ہستیاں ہیں‘ جیسے نبی آخر الزمان ا کی توہین وتنقیص کفر اور موجب سزائے موت ہے‘ اسی طرح دیگر تمام انبیأ کرام علیہم السلام یا ان میں سے کسی ایک نبی علیہ السلام کے بارے میں فلمیں بنوانا اور عام گناہگار انسانوں کو انبیأ کرام جیسی معصوم اور مقدس ہستیوں کے طور پر پیش کرنا اور اللہ تعالیٰ کے معصوم اور مقدس انبیأ کرام علیہم السلام کو نازیبا حرکتیں کرتے ہوئے دکھانا‘ انبیأ کرام کی کھلی توہین وتنقیص ہے۔لہذا حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کفر وارتداد پھیلانے والی سی ڈیز کو ضبط کرکے ضائع کرے اور آئندہ کے لئے ایسا قانون پاس کرے ‘ جس سے ایسے کفریہ وتوہین آمیز کاموں کا سدِ باب ہوسکے، جیساکہ معلوم ہوا ہے کہ یہ سی ڈیز باہر سے در آمد کی گئیں ہیں، تو حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان ”سی ڈیز“ کے درآمد کرنے والوں اورتمام متعلقہ افراد کو عبرت ناک سزا دے اور ان سے سخت باز پرس کرکے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔اس کے ساتھ علمأ کرام اور عوام کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ ان سی ڈیز کے خلاف آواز بلند کریں اور ان کی بندش وضبطی کی ہر ممکن کوشش کریں‘ اور تاجر حضرات ان کی خرید وفروخت سے کلیةً باز آئیں کہ ان کی خرید وفروخت ناجائز وحرام ہے۔ان سی ڈیز میں توہین انبیأ کرام سے ہٹ کر بعض احکامات کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیساکہ ”عمل ختنہ“ کو حضرت یعقوب علیہ السلام سے منسوب کیاگیاہے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا تھا‘ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح (قربان ہونے والا) دکھایا گیاہے‘ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام۔
الجواب صحیحح
کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
محمد داؤد
عبد الستار حامد
دار الافتاء بنوری ٹاوٴن کراچی
بینات شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ بمطابق اکتوبر ۲۰۰۵ء
http://www.banuri.edu.pk/node/554

معیارحق۔ عصمت و حفاظت۔ تنقید صحاب

سوال
۱۔ معیار حق کی تعریف و تشریح کیجئے۔

۲۔کیا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین معیار حق ہیں؟ اگر معیار حق ہیں تو ان کے درمیان جو اختلاف آتاہے اس وقت ایک رائے کو لینے اور دوسری رائے کو چھوڑنے سے کیامعیار حق پر اثر نہیں پڑے گا؟

۳۔کیا رضاء الہٰی کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ عصمت سے ہوتی ہے؟

۴۔کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا جائزہے؟ اگر ہے تو کسی نے کسی صحابی پر تنقید کی ہے؟

۵۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید جائز سمجھی جائے توکیا اس آیت کریمہ پر اثر نہیں پڑے گا؟

”واعلموا أن فیکم رسول اللّٰہ لو یطیعکم فی کثیر من الأمر لعنتم ولکن الله حبب الیکم الإیمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان“۔ آلایة (الحجرات :۷)

۶۔کیا ایسی بھی کوئی جگہ ہے کہ صحابہ کی رائے ہوتے ہوئے کسی نے اپنی رائے پر عمل کیا ہو اور صحابی کی رائے کو چھوڑ دیا ہو۔؟
جواب
۱۔معیار حق کوئی قرآنی یا حدیثی، فقہی اصطلاح نہیں،ایک خاص مفہوم کے پیش نظر ادبی وانشائی طور پر یہ لفظ استعمال کیا گیاہے۔

”کل یوٴخذ من قولہ و یترک إلا صاحب ھذا القبر صلی الله علیہ وسلم“۔
جیسا کہ امام مالک کا مقولہ ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن اس کو جس مفہوم میں استعمال کرنے کے بعد اس سے جو نتائج نکالے جارہے ہیں۔ اکثر صحیح نہیں ہے۔

۲۔سنت اور بدعت کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے، کہ جو عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ وعہد صحابہ میں دین کا جزو نہ بن سکا۔ (۱)

اس لئے احادیث میں سنت نبویہ اور سنت خلفاء راشدین کے تمسک کا حکم دیا گیا

(۲)اور صحابہ کے بارے میں تصریح فرمادی گئی کہ جو دین کا کام وہ کریں گے وہ غلط نہیں ہوسکتا وہ بدعت نہ ہوگی۔ اگر اختلاف پایا جائے تو ان میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جائے توخروج عن الدین نہ ہوگا۔ (۳)اور اگر سب متفق ہوگئے تو صورت اجماع کی ہوجاتی ہے، اتباع اس کی فرض ہوجاتی ہے اب کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیار حق نہیں ہیں، صرف آنحضرت صلی الله علیہ وسلم معیار حق ہیں تو اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ اگر حدیث نبوی موجود نہیں تو تعامل صحابہ یا سنت صحابہ حجت نہیں یہ کتنی غلط بات ہوگی اور اس پر مستزاد یہ بھی کہا جائے کہ کبھی کبھی انبیاء سے بتقاضائے شریعت ایسی بات ظہو رمیں آسکتی ہے جو عصمت کے خلاف ہو تو بات انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے ،گویا نبی باوجود عصمت کے احیاناً غیر معصوم ہوسکتاہے اس طرح عصمت سے بھی امان اُٹھ جاتاہے، ہر وقت یہ احتمال قائم رہتاہے، کہ اس وقت شاید وہ غیر معصومانہ حالت ہو۔
۳۔رضاء الہٰی سے اتنی بات ضرور ثابت ہوجاتی ہے کہ صحابی سے کوئی بات ایسی ظاہر نہیں ہوسکتی ہے جو نجات کے منافی ہو اگر کوئی شخص غیر معصوم بھی ہو تو یہ کیا ضروری ہے کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کام کرے گا؟ اور گناہ بھی کرے گا؟ بہت سے صالحین امت غیر معصوم ہیں، لیکن اس کے باوجود ان سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ عصمت سے گناہ کا صدور ہو نہیں سکتا، رضاء کا ثمرہ یہ ہے کہ گناہ ہوتا نہیں اگر چہ ناممکن نہ ہونے کا امکان ہے۔ لیکن کسی چیز کے امکان کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ واقع ہوجائے۔ بہرحال اس کو محفوظ کہیں یا اور کوئی لفظ اس حقیقت کو ظاہر کرے۔
۴۔صحابہ ہماری تنقید سے بالا تر ہیں۔”الله، الله فی اصحابی لا تتخذوھم غرضاً من بعدی“…الخ وغیرہ احادیث میں تصریح ہے۔(۴)
۵۔جواب نمبر۴ سے جواب معلوم ہوگیا تنقید جائز نہیں۔
۶۔بظاہر اس کی نظیر اختلافات ائمہ میں نہیں ملے گی، کہ حدیث میں کوئی تصریح نہ ہو، اور پھر صحابہ میں ان کا تعامل موجود ہو، اس کو ترک کردیا جائے، اور صرف اپنی رائے سے کام لیا جائے، البتہ اس کے نظائر بہت ہیں ،کہ صحابہ میں آراء کااختلاف رہا‘ان میں کسی ایک کو ترک کیا گیا ،اور دوسرے کو اختیار کیا گیا۔اس وقت بہت عجلت میں یہ چند سطریں لکھ سکا، مزید تفصیل و دلائل کی اس وقت فرصت نہیں۔
فقط والله اعلم
بینات -ذوالقعدہ۱۳۸۵ھ مطابق مارچ ۱۹۶۶ء
جلد : ۷ شمارہ:۵ ,ص: ۵۷، ۵۹

حوالہ جات
________________________________________________________________________
(۱) ”الابداع فی مضار الابتداع ،للشیخ علی محفوظ- طریقة ثانیة فی معنی البدعة“ -ص:۱۷، ط:المکتبة العلمیة بالمدینة المنورة۔الطبعة الخامسة۱۳۹۱ھمطابق ۱۹۷۱ء ولفظہ: ”ما احدث بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم أو بعد القرون المشھود لھم بالخیرخیراً کان او شراً عبادةً او عادةًوھی مایراد بہ عرض دنیوی…الخ“۔
(۲) سنن الترمذی - ابواب المناقب- باب من سب اصحاب النبی -۲/۲۲۵․ط: ایچ ،ایم سعید کراچی ۱۹۸۸ء۔
(۳) مشکوةالمصابیح،باب الاعتصام بالکتاب والسنة ، الفصل الثانی ،عن العرباض بن ساریة … فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین-۱/۲۹،۳۰․ط: قدیمی کراچی ۱۳۶۸ھ۔
(۴)مشکوة المصابیح ،باب مناقب الصحابة ، الفصل الثانی،-۲/۵۵۴۔ط: قدیمی ۱۳۶۸ھ کراچی، وفیہ ایضاً۔عن عمر بن الخطاب رضی الله عنہ قال: سمعت رسول الله یقول: سألت ربی عن اختلاف اصحابی من بعدی فاوحی الی یا محمد! ان اصحابک عندی بمنزلة النجوم فی السماء بعضھا اقوی من بعض ولکل نور فمن اخذ بشئ مما ھم علیہ من اختلافھم فھو عندی علی ھدی

Mar 5, 2009

ناپاکی کی حالت میں تلاوت قرآن اور عورت کی امامت کا حکم

مولوی محمد شبیر
ناپاکی کی حالت میں تلاوتِ قرآن اور عورت کی امامت کا حکم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے اورایسی طالبہ کے لئے تعلیم جاری رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی‘ ممکن ہے کہ یہ کسی مصلحت کے تحت ہو۔ سوال یہ ہے کہ ان کا یہ فعل اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ جبکہ رسول اللہ ا نے فرمایا ہے کہ:
”النکاح من سنتی‘ وفی روایة: فمن رغب عن سنتی فلیس منی“
یعنی نکاح کرنا میری سنت میں سے ہے‘ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیا شادی شدہ عورت دین کی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی؟مذکورہ مدرسہ کی تعلیم یافتہ بعض فاضلات ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ان کے تعلیمی نظام کے مطابق مدارس چلا رہی ہیں‘ جہاں تجوید قرآن کریم اور ترجمہ وحدیث وغیرہ علوم کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ساری تمہید کے بعد دریافت یہی کرنا ہے کہ یہاں مدارس میں کچھ ایسے مسائل سامنے آئے جو سنت نبوی اور حنفی مسلک سے ہٹے ہوئے نظر آئے‘ جبکہ یہ خواتین اپنے آپ کو حنفی سنی بتاتی ہیں۔ وہ مسائل ذیل میں لکھے جارہے ہیں:
۱-یہ خواتین کون سے مسلک سے تعلق رکھتی ہیں ۔ نیز ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنا یا ان کی کسی اور طریقے سے معاونت کرنے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
۲- ان مدارس میں حیض ونفاس کے ایام میں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے یعنی حائضہ قرآن کریم پڑھتی بھی ہے اور پڑھاتی بھی ہے اور کپڑے ‘ تولیہ وغیرہ سے مستقل قرآن کریم پکڑے بھی رہتی ہے اور ایک دو گھنٹے تک پکڑے رہنے کی وجہ سے کبھی کبھی قرآن کریم کے صفحات پر ہاتھ بھی لگ جاتاہے۔
۳-ان مدارس میں خواتین کی جماعت کرائی جاتی ہے‘ اس صورت میں کہ عورت ہی امام اور عورت ہی مقتدی ہوتی ہے‘ خاص طور پر نوافل کی جماعت جس میں ہرجمعہ کو صلوٰة التسبیح بڑے اہتمام سے پڑھائی جاتی ہے‘ دور دور سے خواتین اس نماز میں شریک ہونے کے لئے آتی ہیں‘ نیز اس طرح رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت بھی بڑے اہتمام سے کروائی جاتی ہے اور اس میں زیادہ اجر وثواب سمجھاجاتاہے اور باقاعدہ خواتین کو جمع کیا جاتاہے۔ کیا شریعت کی رو سے خواتین کی جماعت خصوصاً نفل جماعت کرنا جائز ہے؟
۴- یہاں کی معلمات اور صدر مدرسہ بھی دور دراز سفر کرکے بغیر محرم کے تنہاء اور چند خواتین مل کر بھی بذریعہ جہاز یا ریل گاڑی سے طے کر لیتی ہیں‘ مثلاً: پنجاب سے کراچی اور کراچی سے پنجاب سفر کرنا تو معمولی بات ہے۔کیا خواتین کا تنہاء بغیر محرم کے سفر کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟
۵- خواتین حیض کے ایام میں جو گدّی وغیرہ استعمال کرتی ہیں اس کو دھونے کی خاص تاکید کی جاتی ہے اور یہ حدیث سنائی جاتی ہے کہ : ”جو عورت حیض کی استعمال شدہ گدّی نہ دھوئے اور پھینک دے تو وہ قیامت کے دن ترکرکے اس کے منہ میں نچوڑی جائے گی“۔ اس حدیث کا کیا حکم ہے؟ نیز حیض کی استعمال شدہ گدی کو دھونے یا پھینک دینے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟۔
۶- ان مدارس کی تعلیمات کے مطابق خواتین کو نماز مردوں کے طریقے سے پڑھائی جاتی ہے‘ کیا عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے؟ جبکہ مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب کا تحریر شدہ ایک فتویٰ جو کہ کتابچے کی شکل میں ”خواتین کی نماز“ کے نام سے موجود ہے‘ اس میں احادیث سے ثابت کیا گیا ہے کہ خواتین کی نماز کا طریقہ مردوں کی نماز سے مختلف ہے اور چاروں ائمہ اس پر متفق ہیں۔ اگر ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں تو پھر اس بارے میں اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنا اور یہ دلیل دینا کہ حضور علیہ السلام مردوں کے لئے بھی نبی تھے اور عورتوں کے لئے بھی‘ لہذا جیسی نماز انہوں نے پڑھی‘ عورتیں بھی ویسی نماز پڑھیں گی اور بخاری شریف کی احادیث کا حوالہ دیتی ہیں‘ جبکہ بخاری شریف میں جہاں آپ علیہ السلام کی نمازوں کا ذکر ہے وہاں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ عورتیں بھی بالکل ایسی ہی نماز پڑھیں‘ اسی طرح اور بھی کچھ مسائل سمجھ میں نہ آنے والے ہیں۔ مستفتی: محمد اعظم شبیر‘ باغ رضوان‘ بلاک نمبر: ۱۶ گلشن اقبال کراچی۔
الجواب باسمہ تعالیٰ
الہدیٰ انٹرنیشنل اورسوال میں مذکور پنجاب کا مدرسہ یہ دونوں الگ الگ ادارے ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہدیٰ انٹرنیشنل کی بانی اور منتظمہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں‘ انہوں نے وہاں کے غیر مسلم اور مستشرق پروفیسرز سے دینِ اسلام کی تعریف‘ تشریح اور تعبیر سیکھی ہے اور اب پاکستان میں آکر دینِ اسلام اور اہلِ اسلام کو تختہٴ مشق بنائے ہوئے ہے۔ اس صاحبہ اور ان کے ادارہ کی خواتین کی دعوت کا محور اکثر ایسے پوش علاقے ہیں جن میں مغربی تعلیم گاہوں کے تعلیم یافتہ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں‘ ان صاحبہ اور ان کے ادارہ کی مبلغات ومعلمات کے ضال ومضل (خودگمراہ اور گمراہ کرنے والیاں) ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں‘ علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ موصوفہ اہل سنت وجماعت کے کسی راسخ العقیدہ گروہ سے تعلق نہیں رکھتی‘ بلکہ وہ خود کو کسی بھی صحیح العقیدہ طبقہ سے منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتی ہے۔ اس لئے مذکورہ خاتون تو اپنے خود ساختہ افکار ونظریات اور نفسانی خواہشات کی پیروکار ہے‘ ان کا کسی دیندار مسلک سے کوئی تعلق نہیں‘ لہذا ان کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا‘ ان کے پروگراموں میں شریک ہونا اور ان کے ساتھ کسی قسم کا جانی‘ مالی اور اخلاقی تعاون کرنا قطعاً جائز نہیں۔ البتہ پنجاب کے جس مدرسہ اور ان کی منتظمہ کا ذکر فر مایاہے‘ بظاہر یہ مدرسہ پہلے والے ادارے ․․․الہدیٰ انٹرنیشنل․․․ سے الگ ادارہ ہے۔ اہل سنت والجماعت ․․․علماء دیوبند․․․ کی طرف اپنی نسبت کرنے والے لوگوں کا ہے‘ لیکن کسی نسبت کے صحیح ہونے کے لئے اس نسبت کے تقاضوں کا پورا ہونا شرط ہے‘ مذکورہ ادارہ کی خواتین اگر اپنے افکار ونظریات میں جمہور علماء دیوبند کو اپنا مقتدیٰ اور پیشوا قرار نہیں دیتیں اور ایام حیض میں بچیوں کو قرآن کریم پڑھنے‘ پڑھانے کی اجازت دیتی ہیں اور ادارہ میں پڑھنے پڑھانے کے لئے غیر شادی شدہ کی شرط کسی فاسد نظریہ وفکر کی بنیاد پر لگاتی ہیں اور اس کے علاوہ سوال نامہ میں جن امور سے متعلق سوال کیا گیا ہے‘ ان امور میں اپنے آپ کو فقہاء احناف اور جمہور علماء دیوبند کے مسلک کی پابند نہیں سمجھتیں ‘ بلکہ آزاد سمجھتی ہیں تو اس ادارہ کی خواتین سے غیر شرعی طریقہٴ تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کرنا‘ جمہورکے مسلک کے خلاف اعمال میں شرکت کرنا اور ان کے ساتھ اس طریقہٴ تعلیم اور طرزِ تعلیم اور طرزِ عمل میں کسی قسم کی معاونت کرنا دینی نقصان ہونے کی بناء پر ناجائز ہوگا ۔ ۲- حائضہ عورت کے لئے قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹)
یعنی ا س کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ مصحف قرآن کو بغیر طہارت کے چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
”فالمعنی لایمس القرآن الا المطہرون من الاحداث فیکون بمعنی النہی والمراد بالقرآن المصحف“(۱۰:۱۸۱)
یعنی قرآن کو نہیں چھوتے ․․․مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں․․․ مگر وہی لوگ جو پاک ہوں اور قرآن سے مراد یہی لکھی ہوئی کتاب ہے۔حدیث میں ہے:
”لایمس القرآن الا طاہر“ (نصب الرایة‘۱:۲۸)”
حضور ا فرماتے ہیں کہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھوئیں“۔ دوسری حدیث میں ہے:
”عن عبد الرحمن بن یزید قال: کنا مع سلمان فخرج فقضی حاجتہ ثم جاء‘ فقلت: یا ابا عبد اللہ! لو توضأت لعلنا نسالک عن آیات قال انی لست امسہ انہ لایمسہ الا المطہرون فقرأ علینا ما شئنا انتہی“۔و صححہ الدار قطنی (نصب الرایة‘۱:۲۸۴)
یعنی حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان  کے ساتھ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور پھر جب آئے تو میں نے کہا :اے ابو عبد اللہ! اگر آپ وضوکر لیتے تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھتے تو آپ نے فرمایا کہ: میں․․․․اس حالت میں․․․ قرآن کو چھوؤں گا نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں پھر ہمارے سامنے ہماری مطلوبہ آیات کی تلاوت کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
”وقد انعقد الاجماع علی انہ لایجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا للنفساء ولا لمحدث“۔ (۱۰:۱۸۱)
حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی ہے : چنانچہ حدیث میں ہے:
”قال لاتقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن“۔ (ترمذی:۱:۳۴)
یعنی حضرت ابن عمر حضور ا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: حائضہ اور جنبی عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ تفسیر مظہری میں ہے:
”ولما ورد لایمسہ الا المطہرون‘ فالفاظ القرآن اولی واحری ان لایجری الا علی لسان المطہرین والحائض والنفساء کالخبث“۔ (۱۰:۱۸۲)
لہذا جمہور امت اور ائمہ اسلاف اس بات پر متحد ومتفق ہیں کہ حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی۔ چنانچہ معارف السنن میں ہے:
”ذہب الجمہور وابوحنیفہ والشافعی واحمد اکثر العلماء والائمة الی منع الحائض والجنب عن قراء ة القرآن قلیلہا وکثیرہا“ ۔(۱:۴۴۵)
لہذا قرآن کریم کا حیض کی حالت میں بغیر کپڑے کے چھونا اور اس کا پڑھنا پڑھانا از روئے قرآن وحدیث ناجائز ہے‘ البتہ حائضہ معلمہ ایک ایک کلمہ الگ الگ کرکے یا ہجے کرکے قرآن پڑھا سکتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”اذا حاضت المعلمة فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمة کلمة‘ وتقطع بین کلمتین ولایکرہ لہا التہجی بالقرآن کذا فی المحیط“ ۔ (۱:۳۸)
فتاویٰ شامی میں ہے:
”لانہ جوز للحائض المعلمة تعلیمہ کلمة کلمة“۔ (۱:۱۸۲)
۳- عورت کی امامت خواہ فرض نماز میں ہو یا نفل نماز میں مکروہ تحریمی ہے اور یہ کراہت عورتوں کی نفل نماز کی جماعت میں اور زیادہ شدید ہے‘ کیونکہ نفل کی جماعت اعلان کے ساتھ مردوں کے لئے جائز نہیں تو عورتوں کے لئے کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”لاخیر فی جماعة النساء“ (اعلاء السنن‘ ۴:۲۴۱)
یعنی عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں۔ حضرت علی  سے مروی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں:
”لاتؤم المرأة“۔ (اعلاء السنن ‘۴:۲۴۴)
یعنی عورت امامت نہ کرے۔ درمختار میں ہے:
(و) یکرہ تحریما (جماعة النساء) ولو فی التراویح فی غیر صلاة الجنازة“ ۔ (۱:۵۶۵)
۴- عورت کے لئے شرعی مسافت سفر ہو تو بغیر محرم کے سفر کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ جیساکہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے:
۱- عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال:” لاتسافر المرأة ثلاثاً الا معہا ذو محرم“۔ (صحیح البخاری‘ ۱:۱۴۷)
ترجمہ:۔”حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور ا نے فرمایا : عورت تین دن کے برابر (مسافت) کا بغیر محرم کے سفر نہ کرے“۔
۲- عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ ا ”لایحل لأمرأة تومن باللہ والیوم الآخر ان تسافر سفرا یکون ثلاثة ایام فصاعدا الا ومعہا ابوہا او ابنہا او زوجہا او اخوہا او ذو محرم منہا“۔ (صحیح مسلم‘ ۱:۴۳۴)
ترجمہ:۔”حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ حضور ا کا ارشاد ہے کہ: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے‘ الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا کوئی دوسرا محرم ہو“۔
۳- عن عبد اللہ بن عمر  عن النبی ا قال:” لایحل لأمرأة تومن باللہ والیوم الآخر تسافر مسیرة ثلاث الا ومعہا ذو محرم“۔ (صحیح مسلم ۱:۴۳۳)
ترجمہ:۔”حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضور ا نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن کی مسافت کا سفر بغیر محرم کے کرے“۔
مذکورہ احادیث مبارکہ اور ان جیسی دوسری احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں اور ان ہی احادیث کی بناء پر جمہور علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں۔ چنانچہ امام نووی فرماتے ہیں:
”وقال المجہور: لایجوز الا مع زوج او محرم وہذا ہو الصحیح للاحادیث الصحیحة“ ۔ (شرح مسلم‘۱:۴۳۳)
۵- مذکورہ حدیث میرے علم میں نہیں‘ باقی عورت کو دونوں باتوں کا اختیار ہے کہ اس کو دھوکر استعمال کرے یا پھینک دے‘ اس طرح کہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔ ۶-واضح رہے کہ عورتوں کا طریقہ نماز مردوں کے طریقہ ٴ نماز سے مختلف ہے اور یہ فرق احادیث وآثار ِ صحابہ سے ثابت ہے جوکہ درج ذیل ہے‘ نماز میں عورت کو حکم ہے کہ وہ ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے: چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن وائل بن حجر  قال :قال لی رسول اللہ ا : یا وائل ابن حجر! اذا صلیت فاجعل یدیک حذاء اذنیک‘ والمرأة تجعل یدیہا حذاء ثدییہا“۔ (مجمع الزوائد‘ ۲:۱۰۳)
ترجمہ:۔”حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ مجھے حضور ا نے فرمایا : اے وائل بن حجر! جب نماز شروع کرو تو اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے“۔
عورت نمازمیں سمٹ کر سرین کے بل بیٹھے ‘ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن ابن عمر  انہ سئل کیف کان النساء یصلین علی عہد رسول اللہ ﷺ؟ قال: کن یتربعن ثم امرن ان یحتفزن“۔ (جامع المسانید‘۱:۴۰۰)
ترجمہ:۔”حضرت ابن عمر سے پوچھا گیا کہ خواتین حضور ا کے عہد مبارک میں کس طرح نماز پڑھا کرتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ: پہلے چار زانو ہوکر بیٹھتی تھیں پھر انہیں حکم دیا گیا کہ خوب سمٹ کر نماز ادا کریں“۔ عورت زمین کے ساتھ چمٹ کر اور پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملاکر سجدہ کرے‘ حدیث شریف میں ہے:
”عن عبد اللہ بن عمر  قال قال رسول اللہ ا : اذا جلست المرأة فی الصلاة وضعت فخذہا علی فخذہا الاخری‘ واذا سجدت الصقت بطنہا علی فخذیہا کاستر ما یکون لہا‘ وان اللہ ینظر الیہا‘ یقول: یا ملٰئکتی اشہدکم انی غفرت لہا“۔ (بیہقی‘ ۲:۲۲۳)
ترجمہ:۔”حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ا کا ارشاد ہے : نماز کے دوران جب عورت بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ میں جائے تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے ملالے‘ اس طرح کہ زیادہ سے زیادہ ستر ہو سکے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ: اے فرشتو! تم گواہ رہو‘ میں نے اس عورت کی بخشش کردی“۔ دوسری حدیث شریف میں ہے:
عن یزید بن ابی حبیب ان رسول اللہ ا ‘ مر علی امرأتین تصلیان‘ فقال: اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض‘ فان المرأة لیست فی ذلک کالرجل“ ۔ (مراسیل ابی داود ص:۸)
ترجمہ:․․․”آنحضرت ا دوعورتوں کے پاس سے گزرے جو نما پڑھ رہی تھیں‘ آپ ا نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو تم اپنے جسم کے بعض حصوں کو زمین سے چمٹادو‘ اس لئے کہ اس میں عورت مرد کے مانند نہیں ہے“۔
حضرت علی فرماتے ہیں کہ:
”اذا سجدت المرأة فلتحتفز ولتضم فخذیہا“ (بیہقی‘ ۲:۲۲۳)
یعنی جب عورت سجدہ کرے تو سرین کے بل بیٹھے اور اپنی رانوں کو ملالے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ:
” انہ سئل عن صلاة المرأة فقال تجتمع وتحتفز“ (مصنف ابن ابی شیبہ‘ ۱:۲۴۱)
یعنی ان سے عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ․․․سب اعضاء کو․․․ ملالے اور سرین کے بل بیٹھے۔ اسی بناء پر چاروں ائمہ کرام ‘ امام ابوحنیفہ‘ امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کا طریقہ نماز‘ مرد کے طریقہ نماز سے مختلف ہے اور فقہاء کرام نے اپنی کتابوں میں یہ فرق ذکر کیا ہے۔چنانچہ ہدایہ میں ہے:
”والمرأة تنخفض فی سجودہا تلزق بطنہا بفخذیہا‘ لان ذلک استرلہا (وفی موضع اٰخر قال) وان کانت امرأة جلست علی الیتہا الیسری واخرجت رجلیہا من الجانب الایمن لانہ استرلہا“۔ (۱:۱۱۰‘۱۱۱)
شرح صغیر میں ہے:
”نَدبَ مجافاة‘ ای: مباعدة‘ رجل فیہ‘ ای: سجود (بطنہ فخذیہ) فلایجعل بطنہ علیہما ومجافاة (مرفقیہ رکبتہ) ای: عن رکبتیہ ومجافاة ضبعیہ‘ ای: ما فوق المرفق الی الابط‘ جنبیہ ای: عنہما مجافاة وسطا فی الجمیع‘ واما المرأة فتکون منضمة فی جمیع احوالہا“۔ (۱:۳۲۹‘ط:دارالمعارف مصر ۱۳۹۲ھ)
شرح مہذب میں ہے:
”قال الشافعی والأصحاب: یسن ان یجافی مرفقیہ عن جنبیہ‘ ویرفع بطنہ عن فخذیہ‘ وتضم المرأة بعضہا الی بعض ․․․(قال قبل اسطر)․․․ روی البراء بن عازب  ا ن النبی ا کان اذا سجد جخ وروی جخی․․․․ ‘والجخ الخاوی وان کانت امرأة ضمت بعضہا الی بعض لان ذلک استرلہا“۔ (۳:۴۲۹)
المغنی میں ہے:
”وان صلت امرأة بالنساء قامت معہن فی الصف وسطا‘ قال ابن قدامة فی شرحہ اذا ثبت ہذا فانہا اذا صلت بہن قامت فی وسطہن‘ لانعلم فیہ خلافا من رأی لہا ان تؤمہن ولان المرأة یستحب لہا التستر ولذلک یستحب لہا التجافی“۔ (۲:۳۶)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ وآثار صحابہ اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے عورت کا طریقہ ٴ نماز ثابت ہے‘ وہ مرد کے طریقہ ٴ نماز سے جدا ہے‘ اس لئے مرداور عورت کی نماز کی ادائیگی کو یکساں کہنا غلط ہے۔ دینی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا مقصد دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہے‘ جہاں دینی تعلیم کے مقصد سے انحراف ہوتا ہو‘ وہاں تعلیم حاصل کرنا صحیح نہیں۔
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
محمد شفیق عارف
محمد شبیر
متخصص فقہ اسلامی جامعہ علوم اسلامیہ

چست کپڑے اور واٹرپروف میک اپ کا حکم

مولوی سید سہیل علی
چست کپڑے اور واٹر پروف میک اپ کا حکم!

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں :
۱:․․․․عورتوں کے لئے چست کپڑے پہننا اس طور پر کہ ان کے اعضاء واضح طور پر جھلکنے لگیں‘ یہ کیسا ہے؟ اسی طرح جو درزی یہ کپڑے بناتے ہیں ان کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟
۲:․․․․ عورتوں کا واٹر پروف میک اپ کروانا‘ جن میں حرام اشیاء کا استعمال ہوتا ہے‘ آیا یہ جائز ہے نہیں؟
مستفتی:عبد الرشید نارتھ کراچی

الجواب بعون الوہاب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے لباس کو انسانی جسم چھپانے کے ساتھ ساتھ زینت کا ذریعہ بھی بنایاہے‘ لہذا اگرایسا لباس ہو جس سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو پھر شرعاً ایسا لباس پہننا نہ عورتوں کے لئے جائز ہے اور نہ ہی مردوں کے لئے جائز ہے۔ لہذا عورتوں کے لئے ایسا چست یا باریک لباس جس کو پہننے سے ان کا جسم نظر آئے یا اعضاء کی ساخت اور بناوٹ واضح ہو رہی ہو‘ ایسا لباس‘ شریعت کے مزاج اور لباس کے مقصد کے خلاف ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے۔ایسا لباس پہننے والی عورتوں کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے:
”رب کاسیات عاریات مائلات ممیلات لایدخلن الجنة ولایجدن ریحہا“۔ (مشکوٰة:)
ترجمہ:․․․․”بہت سی لباس پہننے والی عورتیں ننگی کے حکم میں ہیں جو خود مائل ہوتی ہیں ‘ دوسروں کو مائل کرتی ہیں‘ ایسی عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی بو پائیں گی“۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
”قولہ: ونساء کاسیات عاریات‘ قال النووی (قیل معناہ: کاسیات من نعمة الله‘ عاریات من شکرہا وقیل معناہ: تستر بعض بدنہا وتکشف بعضہ اظہارا بجمالہا ونحوہ: وقیل معناہ: تلبس ثوبا رقیقا یصف لون بدنہا)“۔ (مسلم دار الفکر کتاب اللباس والزینة ص:۶۵۹) قولہ :”ممیلات مائلات“ قال النووی: اما مائلات فقیل معناہ: من طاعة الله وما یلزمہن حفظہ‘ ممیلات: ای یعلمن غیرہن فعلہن المذموم“ اھ (فتح الملہم ۴/۲۰۰)
پس جو درزی عورتوں یا مردوں کے لئے ایسے کپڑے سیتے ہوں جوچست اور اتنے تنگ ہوں کہ پہننے والے کے جسم کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہو تو ایسے کپڑے سینا چونکہ جائز نہیں‘ اس لئے ایسے درزی حضرات وخواتین کی کمائی مکروہ ہوگی۔فتاویٰ شامی میں ہے:
”فاذا ثبت کراہة لبسہا للتختم‘ ثبت کراہة بیعہا وصیغہا لما فیہ من الاعانة علی مالا یجوز‘ وکل ما ادی الی مالایجوز‘ لایجوز“ (۶/۳۶۰ فصل فی اللبس کتاب الخطر والاباحة ط:سعید)
۲:․․․عورتوں کا واٹرپروف میک اپ کرانا اگر اس میں کوئی حرام اور نجس اشیاء شامل نہ ہوں تو جائز ہے لیکن ایسے میک اپ کے بعد وضو اور غسل کرنے کے لئے اس کو دور کرنااور ہٹانا ضروری ہے‘ ورنہ وضو اور غسل نہ ہوگا۔ اسی طرح ایسا میک اپ جس میں خنزیر یا کسی بھی ناپاک چیز کے اجزاء شامل ہوں اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
”وقال ابو حنیفة ولاینتفع من الخنزیر بجلدہ ولاغیرہ ․․․․“ (۵/۳۵۴)
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
محمد شفیق عارف
سید سہیل علی
متخصص جامعہ علوم اسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

ATMکی سہولت پر بینک کا چارجز لینا‘ دینا

مولوی محمد عرفان
ATMکی سہولت پر بینک کا چارجز لینا‘ دینا!

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
مسئلہ یہ ہے ATMکارڈ استعمال کیا جارہا ہے ۔ATMکارڈ ہولڈر کی رقم بینک میں جمع ہوتی ہے اور یہ کارڈ ہولڈر بوقت ضرورت ATMکارڈ مشین سے روپے نکال سکتا ہے‘ اگر یہ کارڈ ہولڈر اسی بینک کی مشین استعمال کرے جس کا اس کے پاس کارڈ ہے‘ مثلاً: اکاؤنٹ ABL بینک میں ہے اور کارڈ بھی ABLکا ہے اور استعمال بھی ABL کی مشین سے کرتا ہے تواس پر بینک کوئی چارجز نہیں لیتا اور اگر دیگر بینکوں کی مشین سے روپے نکالے تو اس پر کچھ روپے کٹتے ہیں:
۱- دریافت یہ کرنا ہے کہ ATM کی سہولت فراہم کرنے والے بینک کو چارجز دینا اور بینک کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
۲- بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ دیگر کچھ بینکوں سے معاہدہ ہوجاتا ہے‘ ایسے بینک ATMکارڈ مشین کے استعمال پر چارجز نہیں لیتے اور کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوتی تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟
سائل:عبد الرحمن جمشید روڈ‘ کراچی
الجواب باسمہ تعالیٰ
۱- ATMکارڈسسٹم سرمائے کی حفاظت اور محفوظ وبا سہولت وصولیابی کا ایک طریقہ ہے ‘ ATM کارڈ ہولڈر کو اس کا بینک یہ سہولت دیتا ہے کہ بینک کا اکاؤنٹ ہولڈر اپنے بینک یا کسی ایسے بینک سے جس کے ساتھ اکاؤنٹڈ کے بینک کا معاہدہ ہو‘ وہ دفتری کارروائی کے بغیر بینک کی طرف سے فراہم کردہ ATM کی سہولت سے فائدہ اٹھائے اور مطلوبہ رقم حاصل کرے‘ اس پر اپنا بینک جہاں اکاؤنٹ ہو وہ کسی قسم کی کٹوتی نہیں کرتا تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں‘ بلکہ جائز ہے۔ نیز اگر ایک بینک کے ATM کارڈ کے ذریعے کسی دوسرے بینک کی مشین سے رقم نکالی جائے اور وہ بینک اس سہولت کی فراہمی پر کٹوتی کرے تو سروس چارجز (حق الخدمت) کے طور پر ایسی کٹوتی جائز ہے‘ کیونکہ شرعاً یہ بعض خدمات کا معاوضہ اور رقم کی منتقلی کی اجرت ہے۔
کشف القناع میں ہے:
”عقد علی منفعة مباحة ‘ معلومة تؤخذ شیئا فشیئا مدة معلومة من عین معلومة او موصوفة فی الذمة او عمل معلوم بعوض معلوم“۔ ) کشاف القناع: ۳/۵۳۷ باب الاجارة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
الاجارة (ہی) شرعاً (تملیک بعوض ․․․ وحکمہا وقوع الملک فی البدلین ساعة فساعة“۔ (کتاب الاجارة ۶/۵ ط: سعید)
النتف فی الفتاوی میں ہے:
”واجارة الامتعة جائزة اذا کانت فی مدة معلومة باجر معلوم ولہ ان یستعملہا فیما یستعمل مثلہ فی ذلک“۔ (کتاب الاجارة ۲۰۴۷ ط: سعید)
۲- یہ بھی جائز ہے۔
الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد عبد القادر
کتبہ
محمد عرفان
متخصص فی الفقہ الاسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام

محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری
اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام



حق تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے وحی آسمانی کا سلسلہ جاری فرمایا‘ اس کے لئے جن برگزیدہ نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا‘ اسلامی زبان میں انہیں انبیاء ورسل کہتے ہیں‘ ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عصمت کی ضمانت دی جاتی ہے یعنی ان کا ہرقول وفعل شیطانی تسلط اور نفسانی خواہش سے پاک ہوتا ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی“۔ (النجم:۳‘۴)
ترجمہ:۔”اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے‘ وہ تو حکم ہے بھیجا ہوا“۔ ان کی صداقت وحقانیت کو قطعی دلائل وشواہد سے ثابت کیا جاتا ہے تاکہ مخلوق پر حجت قائم ہو اور وہ پوری طرح یقین واطمینان کے ساتھ ان پر ایمان لائیں اور ان کی تصدیق کرسکیں‘ انہی دلائل کا نام ”معجزات“ و”بینات“ ہے‘ ان کی نبوت ورسالت ‘ ان کی صداقت وحقانیت اور ان کی عصمت وضمانت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اطاعت تمام انسانوں کے لئے فرض ہوجاتی ہے‘جیساکہ ارشاد ہے:
”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع بإذن اللہ“۔ (النساء:۶۴)
ترجمہ:۔”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے “۔ الغرض آسمانی ہدایت کا اصل منبع وہ ربط وتعلق ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کا بار گاہِ قدس سے قائم ہوتا ہے اور جسے نبوت ورسالت سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ انہیں حق تعالیٰ کی طرف سے برابر پیغامات دیئے جاتے ہیں‘ پیغام رسانی کبھی فرشتہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور کبھی براہِ راست۔ جس فرشتہ کو اس کے لئے منتخب فرمایا گیا ہے‘ ان کا نام جبریل ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء“ ۔ (الشوریٰ:۳۸)
ترجمہ:۔”اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ‘ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچادے اس کے حکم جو وہ چاہے“۔
منبع وحی
یہ پیغام عام طور سے کسی صحیفہ یا کتاب کی صورت میں نہیں‘ بلکہ فرشتہ کی زبانی یا القاء فی القلب کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی اس پیغام کو الفاظ کی صورت میں منضبط کرکے بھیجا جاتا ہے جسے ”صحیفہ“ یا ”کتاب“ کہا جاتا ہے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اور تورات‘ زبور‘ انجیل ‘ قرآن کریم چار مشہور کتابیں اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں‘ ظاہر ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے اور صحیفوں اور کتابوں کی تعداد نہایت قلیل‘ اس سے صاف طور پر واضح ہوجاتاہے کہ وحی صرف کتاب یا صحیفے میں منحصر نہیں‘ بلکہ نبی ورسول کی ذات گرامی منبع وحی ہے‘ امت کے لئے جس طرح کتاب واجب القبول اور واجب الاتباع ہے ٹھیک اسی طرح نبی ورسول کا ہر حکم وارشاد اور ہرقول وفعل امت کے لئے حجت اور واجب الاتباع ہے‘ البتہ اتنا فرق ہے کہ کتاب بعد کی امت تک قطعی ذرائع سے پہنچتی ہے‘ اس لئے اس کے احکامات کا ثبوت قطعی ہوتاہے اور بقیہ پیغامات کبھی تواتر یا عملی توارث جیسے قطعی ذرائع سے پہنچتے ہیں اور کبھی وہ ذرائع قطعی نہیں ہوتے‘ اس لئے اس دوسری قسم کا درجہ قرآن کریم کی سی قطعیت کا نہیں ہوگا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم تو امت کے لئے قابل قبول ہو اور رسول اللہ ا کے دوسرے پیغامات کی معاذ اللہ کوئی قیمت نہ ہو‘ قرآن کریم بار بار اعلان کرتا ہے کہ قرآن کریم کا سمجھانا اور اس پر عمل کرانا یہ آنحضرت ا کا کام ہے‘ قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل‘ اس کے الہام کی توضیح‘ اس کے اشارات کی تشریح‘ اس کے مقصد ومنشاء کی تعیین‘ اس کی مشکلات کا حل اور اس کے احکام کی عملی تشکیل یہ سب کام رسول اللہ ا کے ذمہ ہیں جو وحی الٰہی کے ذیل میں آتے ہیں اور امت کے لئے واجب القبول ہیں۔
تعلیماتِ انبیاء
بہرحال یہ حقیقت واضح اور مسلم ہے کہ آنحضرت ا پر پیغاماتِ الٰہیہ جس طرح قرآن کی صورت میں نازل ہوئے‘ اسی طرح بہت سے پیغاماتِ الٰہیہ قرآن کے علاوہ بھی آپ ا پر نازل ہوئے جن کی تعلیم امت کو دی گئی‘ قرآن کریم کی اصطلاح میں انبیاء کرام علیہم السلام کی ان تعلیمات کا نام ”الحکمة“ ہے اور قرآن کریم نے متعدد مقامات میں اسے ”انزل“ سے تعبیر فرمایاہے۔
دین کا منبع اور مدار
ان اشارات سے یہ بات سمجھنی آسان ہوگئی کہ دین کا اصل مدار آنحضرت ا کی ذات گرامی ہے اور دین کا اصل منبع نبوت کی تعلیمات وہدایات ہیں‘ خواہ قرآن کریم میں ان کا ذکر ہو یا نہ ہو‘ اسلام کے تشریعی نظام پر غور کرنے کا موقع جن لوگوں کو ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ بہت سے بنیادی اور اہم احکامات حضرت رسول اللہ ا نے وحی خفی کے اشارے سے امت کو دئے اور مدت کے بعد قرآن کریم میں ان احکام کی آیات نازل ہوئی جن میں آنحضرت ا کے بیان فرمودہ احکام کی تصدیق وتائید کی گئی ‘ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
۱- توحید ورسالت کے اقرار کے بعد اسلام میں سب سے پہلی عبادت صلاة یعنی نماز ہے‘ اس عبادت کا سلسلہ ابتداء اسلام ہی سے قائم ہوگیا تھا‘ معراج سے پہلے صبح وشام کی دو نمازیں فرض تھیں اور اسراء کے بعد پانچ نمازوں کی فرضیت نازل ہوئی‘ مگر قرآن کریم میں اس وقت تک نماز کے اوقات کی تفضیل نہ تھی‘ اس فریضہ کو امت نے آنحضرت ا ہی سے لیا اور اس پر عمل کیا۔
۲- نماز کا جو نقشہ آپ ا نے قولاً وعملاً پیش فرمایا کہ اللہ اکبر سے شروع ہو اور السلام علیکم پر ختم ہو‘ اس میں قیام ہو‘ قرأت ہو‘ رکوع وسجود ہو‘ جلسہ وقومہ ہو اور رکعتیں کبھی دو ہوں کبھی تین کبھی چار وغیرہ وغیرہ‘ ان تمام تفصیلات کی طرف قرآن کریم میں کہیں اشارے تو موجود ہیں‘ لیکن یہ مفصل نقشہ امت نے آپ ا ہی کے قول وعمل سے سیکھا اور اس پر عمل کیا‘ نہ قرآن کریم پر اس کا مدار نہ اس میں ذکر کا انتظار۔
۳- نماز کے لئے طہارت ووضو وغیرہ کے لئے آپ ا نے ہی ہدایت فرمائی اور امت نے اس پر عمل کیا‘ تقریباً اٹھارہ سال بعد سورہٴ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی جب کہ امت اٹھارہ سال سے آپ ا کی ہدایت پر عمل پیرا تھی۔
۴- آنحضرت ا مدینہ طیبہ تشریف لائے تو امت کو نماز میں بیت المقدس کے استقبال کا حکم فرمایا‘ سولہ‘ سترہ مہینے اس پر عمل رہا‘ اس کے بعد قرآ ن کریم میں بیت اللہ شریف کے استقبال کا حکم ہوا‘ بیت المقدس کے استقبال کا حکم قرآن میں نازل نہیں ہوا تھا‘ لیکن آنحضرت ا کے بیان فرمودہ کم کی قرآن کریم نے تصدیق کی ۔
”سیقول السفہاء من الناس“ الآیة
۵- جب بنی النضیر سے جہاد کا حکم ہوا تو جنگی مصلحت کے پیش نظر آنحضرت ا نے ان کے کھجور کے بعض درختوں کو کاٹنے کا حکم فرمایا‘ یہود نے اس پر اعتراض کیا تو آنحضرت ا کے حکم کی تصدیق وتصویب کے لئے قرآن نازل ہوا اور ان درختوں کے کاٹنے کو ”باذن اللہ“فرمایا‘جیساکہ ارشاد ہے:
”ما قطعتم من لینة او ترکتموہا قائمة علی اصولہا فباذن اللہ“۔ (الحشر:۵)
ترجمہ:․․․”جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے“۔ ان چند مثالوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ امت کی راہنمائی کے لئے آنحضرت ا کی ذاتِ گرامی سر چشمہٴ ہدایت ہے‘ کسی بھی معاملہ میں نہ قرآن پر توقف ہے نہ اس کا انتظار‘ صحابہ کرامجو قرآن کریم کے سب سے پہلے اور براہ راست مخاطب تھے‘ ان کے نزدیک آنحضرت ا کی دونوں حیثیتیں مسلم تھیں کہ آپ نبی معصوم بھی ہیں اور ہر معاملہ میں مطاعِ مطلق بھی‘ اسی لئے وہ قرآن حکیم اور حدیث نبوی کے احکام کو یکساں طور پر واجب الاتباع مانتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ احادیثِ نبویہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کافی بڑا حصہ تو وہ ہے جو قرآنی احکام کی تشریح وتوضیح پر مشتمل ہے‘ قرآن کریم نے ”اقیموا الصلاة“ فرمایا‘ آپ ا نے اقامتِ صلاة کی قولاً وعملاً تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ”صلوا کما رأیتمونی اصلی“ تم بھی ایسی نماز پڑھو جیسی میں پڑھتا ہوں ”وآتوا الزکوٰة“ کا حکم نازل ہوا تو آپ ا نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ کن کن اموال میں زکاة ہوگی‘ ہرایک کا نصاب کیا ہوگا‘ مقدار زکاة کیا ہوگی‘ اس کے اصول وشرائط کیا ہوں گے؟ اس اعتبار سے آپ کا وجود اور آپ ا کی حیاتِ طیبہ عملی قرآن ہے یعنی احکامِ قرآن کا عملی نمونہ اور مثال ہے‘ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ  سے جب آپ ا کا خلق دریافت کیا گیا تو فرمایا: ”کان خلقہ القرآن“ آپ ا کا خلق قرآن تھا‘ شریعت محمدیہ کا وسیع نظام جو سب کے سامنے ہے اور جس میں عقائد وعبادات اخلاق ومعاشرت‘ سنن وآداب‘ جہاد وقتال‘ صلح وجنگ‘ سیاست ومعیشت سبھی کچھ آجاتا ہے‘ ان میں بہت سے احکام ایسے ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ہیں‘ آپ ا ہی نے امت کو ان کی تعلیم فرمائی ہے‘ ظاہر ہے کہ دینِ اسلام کا تفصیلی نقشہ قرآن کریم کے ساتھ آنحضرت ا کے انفاسِ قدسیہ اور احادیث طیبہ کو ملانے ہی سے تیار ہوتا ہے اور اسی سے الحاد وتحریف اور رکیک تاویلات کے راستے بند ہوتے ہیں‘ اگر قرآن کریم کو نبی کریم ا کی عملی زندگی اور آپ ا کے ارشادات وہدایات سے الگ کرلیا جائے تو قرآن کریم ملحدین کی غلط تعبیرات کا تختہٴ مشق بن جائے گا اور تحریف وتاویل کا انسداد دشوار ہوگا۔
مستشرقین اور اعداء اسلام کی قرآن کریم میں معنوی تحریف کی کوشش
متنِ قرآن کریم کی حفاظت کا تو اعلان ہوچکا ہے‘ اس کا امکان نہیں تھا کہ قرآن کے الفاظ میں رد وبدل کیا جاسکے‘اس لئے دشمنانِ اسلام جو ہمیشہ اسلام کو مٹانے کے درپے رہے‘ قرآن کریم سے تو مایوس ہوگئے‘ انہوں نے قرآن کی معنوی تحریف کے لئے یہ چور دروازہ تلاش کیا کہ حدیثِ نبوی کو جو معانی قرآنی کی محافظ ہے ناقابلِ اعتبار ثابت کریں‘ یورپ کے مستشرقین اور دشمنِ اسلام ملاحدہ نے اپنے تمام وسائل اور دماغی وقلمی تمام طاقتیں احادیث کو بے وقعت بنانے کے لئے صرف کرنا شروع کردیں اور مسلمانوں میں ”منکرین حدیث“ کے نام سے منافقین کا جو گروہ آج موجود ہے غلام احمد پرویز وغیرہ‘ انہوں نے انہی دشمنان اسلام کی راہنمائی میں اس مہم کو اور آگے بڑھایا ”ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ“ چنانچہ نئی نسل کے بہت سے افراد جو دینی تعلیم وترتیب سے بے بہرہ تھے‘ ان خیالات کا شکار ہوگئے۔
تاریخ فتنہٴ انکارِ حدیث
انکارِ حدیث کے فتنہ کی تاریخ بہت قدیم ہے‘ سب سے پہلے خوارج نے اس کی بنیاد رکھی‘ صحابہ کرام کی تکفیر کرکے ان کی روایت کردہ احادیث کا انکار کیا اور صرف کتاب اللہ کو مانا‘ ان کے بالمقابل شیعہ نے کتاب اللہ کی تحریف اور احادیث کے انکار کا راستہ کھولا اور دین کا انحصار اپنے ائمہ کی روایت پر رکھا‘ معتزلہ نے تاویل کے راستہ سے فتنہٴ انکارِ حدیث کومزید قوت بہم پہنچائی مگر یہ دور اسلام کی شوکت وعزت کا دور تھا‘ ان کی مساعی ناکام رہیں اور مسلمانوں نے جس طرح قرآن کو سینے سے لگایا اور علوم قرآن کی خدمت کو سرمایہٴ سعادت سمجھا‘ اسی طرح احادیث نبویہ کو سر آنکھوں پر رکھا اور علوم حدیث کی خدمات اس محنت وعقیدت سے انجام دیں کہ تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اور حضرت رسول اللہ ا کے انفاسِ قدسیہ کی وہ حفاظت کی کہ عقل حیران ہے۔ حدیثِ نبوی ا سے مسلمانوں کا شغف دیکھ کر اس وقت اعداء اسلام نے وضعِ احادیث کا چور دروازہ نکالا اورمن گھڑت روایات پھیلانا شروع کیں تاکہ حق وباطل خلط ملط ہوکر حقیقت ملتبس ہوجائے‘ مگر حق تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرکے رکھ دیا‘ انہوں نے فنِ رجال اور جرح وتعدیل مرتب کیا اور روایات کی چھان بین کرکے تمام اعداء اسلام یہودیوں‘ سبائیوں اور ملحدوں کی اس سازش کو خاک میں ملادیا‘ امتِ محمدیہ نے اپنے رسول ا کی احادیث کی حفاظت کے کام کو اتنا آگے بڑھایا کہ اصولِ حدیث کے مختلف فنون کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ گئی‘ بلا شبہ دینِ اسلام ابدی تھا‘ قیامت تک کی نسلِ انسانی کے لئے سر چشمہٴ ہدایت تھا‘ ضروری تھا کہ دینِ اسلام کی یہ دونوں مشعلیں کتاب وسنت قیامت تک روشن اور ہرقسم کی آندھیوں اور جھکڑوں سے محفوظ رہیں‘ تاکہ ہر دور میں اللہ کی حجت قائم رہے اور قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت صادق رہے:
”وکیف تکفرون وانتم تتلی علیکم آیات اللہ وفیکم رسولہ‘(آل عمران:۱۰۱)
ترجمہ۔․”اور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر تو پڑھی جاتیں ہیں آیتیں اللہ کی اور تم میں اس کا رسول ہے“۔ فرمان نبوی میں اس حقیقت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے:
”ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللہ وسنة رسولہ“۔ (موطا مالک)
ترجمہ:۔میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب اللہ اور دوسری اس کے رسول کی سنت“۔
قرآن کریم اور حدیث نبوی
الغرض اس کا کوئی امکان نہیں کہ قرآن وحدیث کو ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکے‘ نہ یہ ممکن ہے کہ قرآن پر ایمان ہو اور حدیث نبوی سے انکار‘ کیونکہ قرآن کریم بار بار اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ حضرت رسو اللہ ا کی اتباع میں تمہاری نجات ہے اور آپ ا کی نافرمانی تباہی وبربادی کا موجب ہے‘ آپ کی مخالفت پر قرآن کریم سخت سے سخت وعیدیں سناتا ہے‘ آپ کی زندگی کو امت کے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیتا ہے‘ قرآن کی تعلیم وتشریح اور اس کے اجمال کی تفصیل کو قرآن آپ کا فرضِ منصبی بتاتا ہے‘ حاصل یہ کہ دنیا وآخرت کی نجات وسعادت اور فلاح وبہبودی آپ ا کی پیروی میں ہے اور حق تعالیٰ کی محبت واطاعت کا معیار بھی آنحضرت ا کی متابعت کے سوا کچھ نہیں:
”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم“۔ (آل عمران:۳۱)
ترجمہ:۔”ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا“۔
فرقِ باطلہ اور حدیث
بہرحال تمام فرق باطلہ خوارج‘ شیعہ‘ معتزلہ‘ قدریہ‘ جہمیہ اور مرحبہٴ وغیرہ نے احادیث کے خلاف جوہرزہ سرائی کی تھی (اور امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی/ امام احمد اور دیگر محدثین ومتکلمین نے جس کا دندان شکن جواب دے کر ان کے حوصلے پست کردئے تھے) ہردور میں ملاحدہ اسے جدید شکل وصورت میں پیش کرتے رہے ہیں چنانچہ مستشرقینِ یورپ نے بھی اسی محاذ سے اسلام کی بیخ کنی شروع کی اور اس کے لئے ایک منظم مہم چلائی جو زہر قدیم باطل پرستوں نے اگلا تھا اسی کو دوبارہ نئی بوتلوں میں بھر بھر کر جدید نسل کے حلق سے اتارنے کی کوشش کی‘ کبھی کہا کہ احادیث تو دو سو سال بعد قلم بند ہوئی ہیں ان کا کیا اعتبار؟ کبھی حاملین حدیث پر اعتراضات کئے‘ کبھی عقلی شبہات ووساوس پیش کئے اور ان راستوں سے نماز‘ اس کے اوقات‘ زکاة‘ روزہ‘ حج ‘ قربانی وغیرہ تمام عبادات میں شکوک وشبہات پیدا کئے‘ احکامِ شرعیہ کو اعتراضات کا نشانہ بنایا‘ ملائکہ ‘ جنات‘ شیاطین ‘ ارواح وغیرہ میں تاویل ِ باطل کا راستہ کھولا‘ اس طرح کوشش کی گئی کہ خدا نخواستہ اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا جائے مگر لسانِ نبوت سے یہ اعلان پہلے صادر ہوچکا تھا:
”یحمل ہذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاہلین“۔ (مشکوٰة:)
ترجمہ:۔”ہر آنے والی نسل میں کچھ عادل وثقہ حضرات اس علم دین کے حامل ہوں گے جو غلو کرنے والوں کی تحریف‘ باطل پرستوں کے غلط ادعا اور جاہلوں کی تاویل کو صاف کریں گے“۔
سنت وحدیث پر مطبوعہ کتابیں
الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے باطل پرست جاہلوں کے اٹھائے ہوئے گردو غبار سے سنت کا چہرہ صاف کیا‘ امام شافعی سے ابن وزیر یمانی صاحب الرد من الباسم اور شیخ جلال الدین السیوطی صاحب ”مفتاح الجنة فی الاتجاج بالسنة“ تک اور ان سے آج تک نہ صرف عربی اردو میں بلکہ انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں بھی قابلِ قدر تالیفات وجود میں آئیں‘ گذشتہ پچاس سال کے عرصہ میں اہل علم نے بیسیوں گرانقدر تصنیفات سے علمی کتب خانوں میں بیش بہا اضافہ کیا‘ قدمائے امت نے جو کتابیں تصنیف فرمائیں ان کی طویل فہرست راقم الحروف کی کتاب ”عوارف السنن مقدمہ معارف السنن“ میں مذکور ہے جو انشاء اللہ عنقریب طبع ہوگی‘ اس تیس چالیس برس میں جو ذخیرہ اس موضوع پر مدون ہوا ان میں چند کتابوں کا نام بطور نمونہ درج ذیل ہے
۱- الحدیث والمحدثون ،محمد محمد ابوزہرہ (عربی) ۲- السنة قبل التدوین، محمد عجاج خطیب (عربی)
۳- الانوار الکاشفة ،شیخ عبد الرحمن یمانی // ۴- ظلمات ابی ربہ، شیخ محمد عبد الرزاق حمزہ //
۵- کتاب السنة ،موسیٰ جار اللہ قازانی // ۶- فی الحدیث النبوی ،شیخ مصطفی زرقا شامی//
۷- تدوین حدیث مولانا مناظر احسن گیلانی  اردو ۸- بصائر السنة ،مولانا امین الحق صاحب طوری (اردو)
۹- فتنہٴ انکار حدیث افتخار احمد بلخی ۱۰- فتنہٴ انکار حدیث مولانا سرفراز صاحب
۱۱- سنت قرآن کریم کی روشنی میں مولانا غفار حسن ۱۲- حدیث قرآن کریم کی نظر میں از راقم الحروف
۱۳- احادیث النبی الکریم اپروفیسر روحی ۱۴- سنت کا تشریعی مقام مولانا محمد ادریس میرٹھی
۱۵- Stadies in Eorly Haddh titenatur ڈاکٹر مصطفی اعظمی ،انگریزی
مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے درجہ تخصص کے رفقاء نے حسبِ ذیل مقالات کتابی شکل میں مرتب کئے ہیں:
الف: السنة النبویة والقرآن الکریم : للأستاذ محمد حبیب اللہ المختار عربی‘ اردو
ب: وسائل حفظ الحدیث وجہود الامة فی ذلک : از مولوی عبد الحکیم سلہٹی اردو
ج: علم مصطلح الحدیث واسماء الرجال وثمراتہ : از مولوی عبد الحق دیروی ‘ عربی
د: کتابة الحدیث وادوار تدوینہ: از مولوی محمد اسحاق سلہٹی ‘ اردو
ھ: الکتب المدونة فی الحدیث واصنافہا وخصائصہا : از مولوی محمد زمان کلاچوی‘ عربی
و: الصحابة وما رووہ من الاحادیث : از مولوی حبیب اللہ مہمندی‘ عربی
یہ چھ کتابیں ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئیں جس وقت امت کے سامنے یہ ذخیرہ آئے گا دنیا حیرت میں رہ جائے گی۔
اسی قیمتی ذخیرہ کی ایک قابلِ قدر کتاب الشیخ مصطفی سباعی مرحوم کی تالیف: السنة ومکانتہا فی التشریع الإسلامی“ اپنے موضوع پر اہم ترین کتاب ہے جو گیارہ سال قبل قاہرہ میں طبع ہوئی تھی‘ مؤلف موصوف اپنے وقت کے بہترین خطیب اور پُر جوش صاحب قلم تھے‘ موصوف نے ازہر سے عالمیت واستاذیت کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یہ موضوع اختیار کیا تھا‘ چنانچہ پورے ایک سو مآخذ سے یہ کتاب نہایت فصیح وبلیغ زبان اور شیرین وشگفتہ اسلوب میں تحریر کی‘ یہ کتاب تیس کے قریب بڑے بڑے عنوانات پر مشتمل ہے‘ جن میں سنت نبوی کے ہرگوشہ پر شافی بحث کی گئی ہے‘ ضمنی بحثیں نہایت عمدہ اور عجیب وغریب آتی ہیں ‘ مستشرقین کی خرافات وشبہات کے نہایت مؤثر اور فاضلانہ ومحققانہ جوابات کتاب کا بہترین اور قیمتی حصہ ہیں‘ اگر اس کتاب میں اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس کتاب کی قیمت کے لئے کافی تھا۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے دار التصنیف نے چاہا کہ اس گنجِ گراں مایہ کو اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ نئی نسل میں یورپ کے پھیلائے ہوئے زہر کے لئے تریاق کا کام دے اور جدیدافکار میں سرایت کردہ سمت کے لئے اکسیر اعظم اور کبریتِ احمر ثابت ہو‘ ترجمہ کے لئے ہمارے مدرسہ کے درجہٴ تکمیل کے فارغ التحصیل مولانا احمد حسن ایم اے کا انتخاب کیا گیا اور اس پر مولانا محمد ادریس میرٹھی استاذِ حدیث مدرسہ عربیہ کی نظر اصلاحی نے سونے پر سہاگہ کا کام دیا‘ جلدِ اول طبع ہوچکی اور جلد دوم عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہوگی‘ دعا ہے کہ حق تعالیٰ ہماری نئی نسل کو نئے فتنوں سے بچائے اور شیاطین یورپ ان کی متاعِ ایمانی کو لوٹنے کی جو تدبیریں کررہے ہیں انہیں خاک میں ملا دے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ صفوة البریة سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم

غیر عالم دین کا درسِ قرآن دینا

مفتی رفیق احمد بالاکوٹی
غیر عالم دین کا درسِ قرآن دینا


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
میں بہادر آباد محلہ کا رہائشی ہوں اور اس کی مرکزی مسجد ”․․․․․․․․“ کا نمازی ہوں مسجد اور اس کے نمازی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں‘ اہل محلہ اور نمازیوں کی دینی تربیت کے پیش نظر مسجد میں ہفتہ وار مختلف علمائے کرام کے درس ہوتے ہیں‘ جن سے ہمیں بے حد دینی فائدہ محسوس ہوتا ہے‘ ماہِ مبارک میں یہاں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کسی معتمد اور مستند عالم دین کو بلاکر ان سے درسِ قرآن دلوایاجاتا ہے‘ چنانچہ اسی سلسلے میں حضرت مفتی عتیق الرحمن شہید اور مولانا عزیز الرحمن صاحب استاذ حدیث جامعہ عثمانیہ بھی تشریف لاچکے ہیں‘ امسال انتہائی حیرت انگیز طور پر ”تنظیم اسلامی“ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو․․․․․․․․ درسِ قرآن کے لئے بلایا گیا اور تاحال ان کا درس جاری ہے۔ بندہ اور اس کے ہم فکر دینی درد رکھنے والے بہت سے نمازیوں کو اس بارے میں سخت تشویش اور ذہنی پریشانی کا سامنا ہے۔ مذکورہ بالا صورت کے تناظر میں آنجناب سے ان چند امور سے متعلق وضاحت مطلوب ہے:
۱- ایک غیر عالم اور مزید یہ کہ تنظیم اسلامی کے نظریات کے حامل شخص کو مسجد کے منبر پر درس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے کیا حکم رکھتا ہے‘ جبکہ تفسیر قرآن کی اہمیت ونزاکت کی بنا پر متعدد علوم پر دسترس ہونا مفسر کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے؟
۲- اس علاقے میں بیسیوں علمائے کرام کے ہوتے ہوئے موصوف کو درس کے لئے منتخب کرنا کیا علم دین کی ناقدری میں شمار نہیں ہوگا؟
۳- درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار کیا ہے؟ براہ مہربانی وضاحت سے تحریر فرمائیں۔
۴- موجودہ حالات میں ․․․ جبکہ یہ درس قرآن کے تقدس اور مسلک دیوبند کے تحفظ کا مسئلہ ہے اور اس سلسلہ کے جاری رہنے میں علاقے کی دینی اور نظریاتی فضا مسموم ہونے اور نمازیوں میں انتشار کا خدشہ بھی ہے ․․․ ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
آنجناب سے گذارش ہے کہ ان امور کے بارے میں وضاحت کے ساتھ جواب تحریر فرماکر عند اللہ وعند الناس ماجور ہوں۔
مستفتی:حسن شاہ
الجواب باسمہ تعالیٰ
”درسِ قرآن“ قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرنے کا نام ہے اور علم تفسیر اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن کریم کے معانی کو بیان کیا جائے‘ اس کے احکام کی حکمتوں کو کھول کر واضح کیا جائے۔ نیز مرادِ خداوندی کو متعین کیا جائے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ”علم تفسیر“ کے اس توضیحی عنوان میں علم تفسیر کی حقیقت‘ نزاکت اور اس کے حصول کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بہت ہی مختصر اور سادہ الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے‘ اس عنوان کی تفصیلات اور علمی ابحاث میں جائے بغیر یوں کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم‘ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے‘ اس کی ترجمانی اور تفصیل وتوضیح کے لئے ایسی لیاقت اور اہلیت درکار ہے‘ جو اس کلام کی عظمت کے شایانِ شان ہو‘ ورنہ معمولی لغزش غلط ترجمانی کا مرتکب بناکر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے باغیوں میں شمار کروا دے گی اور تفسیر قرآن ودرس قرآن کا شوق دنیا وآخرت کی نجات وفلاح کی بجائے ہلاکت وبربادی کا ذریعہ بن جائے گا۔اسی خطرہ کے پیش نظر علماء کرام فرماتے ہیں اور دنیا کا عام اصول بھی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی علم وفن ایسا نہیں جو اس تک پہنچنے والے متعین راستوں اور واسطوں کے بغیر حاصل ہوتا ہو‘ یہی اصول قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے والوں کے بھی پیش نظر ہونا چاہئے‘ اگر کوئی انسان اس اصول اور ضابطہ سے ہٹ کر خدا کی کتاب کو تختہٴ مشق بناتا ہے تو ایسا کرنا نہ صرف یہ کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ظلم وناانصافی ہے‘ بلکہ خود انسان اپنے اوپر بھی ظلم کرنے والا بن جاتا ہے۔ اسی عظیم خطرہ کی بنا پر علماء امت کے ایک طبقہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نبوی ارشادات سے آگے کوئی بھی لفظ زبان سے نکالا ہی نہ جائے‘ کیونکہ قرآن فہمی اور قرآن بیانی میں غلطی سرزد ہونے کی بناء پر انسان ان تمام وعیدات کا مصداق بن جاتا ہے‘ جو قرآن بیانی میں اپنی رائے اور مذاق ومزاج کی آلودگی شامل کرنے والوں کی بابت وارد ہوئی ہیں‘ لیکن علامہ جلال الدین سیوطی  (م‘۹۱۱ھ) فرماتے ہیں کہ جمہور علمأ امت کی رائے کے مطابق قرآنی اعجاز کے اسرار ورموز کو سمجھنے کے لئے مطلوبہ استعداد اور صلاحیت کے حاملین کے لئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنا جائز ہے اور یہ استعداد وصلاحیت علوم وفنون کی تقریباً ۱۵/ پندرہ گھاٹیاں سر کرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے‘ جن میں لغت ‘ صرف‘ نحو‘ اشتقاق‘ معانی‘ بیان‘ بدیع‘ قرآء ات‘ اصول الدین‘ اصول فقہ‘ فقہ‘ حدیث‘ علم اسباب نزول‘ علم ناسخ ومنسوخ اور نور بصیرت ووہبی علم وغیرہ شامل ہیں۔ یہ علوم وفنون چونکہ ہمارے ہاں درسِ نظامی کے درسی نصاب میں شامل ہیں اسی بنیاد پر کہا جاتاہے کہ درسِ قرآن دینے والے کے لئے کم از کم درسِ نظامی کا فاضل ہونا ضروری ہے‘ کیونکہ جس آدمی نے اپنی زندگی کے آٹھ‘ دس سال ان علوم وفنون کے سائے میں گزارے ہوں اسے ان علوم میں اعلیٰ درجہ کا کمال اور مہارت اگر حاصل نہ بھی ہو تو کچھ نہ کچھ مناسبت تو ضرور حاصل ہوجاتی ہے اور اس سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ درس نظامی کے فاضل کو اعجاز قرآن کے بیان کرنے میں اپنی علمی بے مائیگی کا احساس دامن گیر رہے گا اور وہ اپنی طرف سے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے اور الفاظ قرآنی میں مراد خداوندی متعین کرنے میں جاہلانہ بے باکی اور جرأت سے کم از کم محفوظ رہے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مستند عالم دین جو بات اور جتنی بات کہے گا وہ سلف صالحین پر اعتماد اور استناد کی روشنی میں کہے گا اور یہ تفسیر قرآن کا اہم بنیادی اصول ہے کہ تفسیر قرآن کا بار گراں اٹھانے والا اپنی طرف سے الفاظ وتعبیرات اور مراد ومعانی منتخب کرنے کی بجائے اسلاف پر اعتماد کرتے ہوئے ان ہی کے ارشادات کو سامنے رکھے‘ یعنی نبی اکرم ا کے اقوال وافعال‘ آپ ا کے صحابہ کرام  کے فرامین اور آراء کو تفسیر بیان کرتے ہوئے اساس وبنیاد سمجھے پھرحضور ا کے اسوہٴ حسنہ اور صحابہ کرام  کے طرز فکر وعمل پر کار بند رہنے والے فقہاء ملت اور علمأ حق کے عقائد واعمال اور اخلاق وعادات کو اپنا سرمایہ اور مأخذ سمجھے‘ اگر کوئی مفسر قرآن یا مدرس قرآن اس اصول سے پہلو تہی کرتے ہوئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے کی ٹھان لے اور درس قرآن کے نام پر کتاب الٰہی کو تحتہٴ مشق بنائے تو ہم تک قرآن اور دین کی تشریحات پہچانے والے واسطوں اور ذریعوں کا کہنا ہے کہ وہ ناجائز کررہا ہے‘ اس کا یہ عمل ‘ دین یا قرآن کی خدمت نہیں‘ بلکہ امت میں فتنہ اور گمراہی کا ذریعہ ہے پھر ستم بالائے ستم یہ کہ یہ مفسر یا مدرس اپنے اعمال ونظریات کی وجہ سے سلف بیزاری اور الحاد سے متہم ہوچکا ہو۔ اگر ایسے شخص کو کتاب اللہ کا مفسر بناکر بٹھا دیا جائے اور مرادِ الٰہی کا ترجمان قرار دیا جائے تو پھر مسلمانوں کے عقائد ونظریات اور دینیات کا اللہ ہی حافظ ہے۔ چنانچہ حافظ جلال الدین سیوطی  نے ”الاتقان فی علوم القرآن“ میں امام ابوطالب الطبری کے حوالہ سے مفسر کے آداب کے ضمن میں مفسر کے لئے ضروری شرائط کا تذکرہ یوں فرمایا ہے:
”اعلم ان من شرطہ صحة الاعتقاد اولاً ‘ولزوم سنة الدین فان من کان مغموصاً علیہ فی دینہ لایؤتمن علی الدنیا فکیف علی الدین ثم لایؤتمن فی الدین علی الاخبار عن عالم فکیف یؤتمن فی الاخبار عن اسرار اللہ تعالیٰ ‘ولانہ لایؤمن ان کان متہماً بالالحاد ان یبغی الفتنة ویغر الناس بلیّہ وخداعہ کدأب الباطنیة وغلاة الرافضة․․․ الخ“۔(الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی النوع:۷۸‘ج:۲۰ ص:۱۷۶‘ ط:سہیل اکیڈمی لاہور)
ترجمہ:․․․”جاننا چاہئے کہ مفسر کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پہلے تو اس کا عقیدہ صحیح ہو‘ دوسرے وہ سنت دین کا پابند ہو‘ کیونکہ جو شخص دین میں مخدوش ہو‘ کسی دنیوی معاملہ میں بھی اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا تو دین کے معاملے میں اس پر کیا اعتماد کیا جائے گا‘ پھر ایسا شخص اگر کسی عالم سے دین کے بارے میں کوئی بات نقل کرے‘ اس میں بھی وہ لائق اعتماد نہیں تو اسرار الٰہی کی خبر دینے میں کس طرح لائق اعتماد ہوگا‘ نیز ایسے شخص پر اگر الحاد کی تہمت ہو تو اس کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ تفسیر بیانی کے ذریعہ فتنہ کھڑا کردے اور لوگوں کو اپنی چرب زبانی ومکاری سے گمراہ کرے‘ جیساکہ فرقہٴ باطنیہ اور غالی رافضیوں کا طریقہ ٴ کار ہے“۔
مزید برآں جو شخص نظریاتی وفکری طور پر زیغ وضلال کا شکار ہو‘ عملی اعتبار سے بدعت وکجروی اور بے راہ روی کا علمبردار ہو اور روحانی لحاظ سے تکبر وغرور‘ نفس پرستی اور حب جاہ وحب مال کے علاوہ نفسانی خواہشات سے دوچار ہو تو حضرت لدھیانوی شہید کے بقول ایسا شخص جو تفسیر لکھے اور بیان کرے گا وہ قرآن کریم کی تفسیر نہیں ہوگی‘ بلکہ اس کے بدعت آلودذہن کا بخار اور بیمار دل کا تعفن ہوگا‘ ایسے فکری وروحانی مریضوں کے لئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنا یا درسِ قرآن دینا تو کجا‘ علمأ تفسیر کے بقول قرآن فہمی کی کوشش کرنا بھی حرام ہے‘ کیونکہ ان لوگوں کی بیمار ذہنیت اور نفسانی خواہش کے غلبہ کی وجہ سے انہیں ہر ہر موقع پر اپنی بیماری اور نفسانیت کا عکس نظر آئے گا اور اپنے فاسد افکار وخیالات ‘ خود ساختہ تعبیرات وتشریحات کو عوام الناس کے سامنے قرآنی طشت میں رکھ کر پیش کرے گا اور لوگ اس کی جہالت کو علم‘ اس کی فاسد آراء کو قرآن کی تفسیر خیال کرتے ہوئے اسے اپنا پیشوا اور مقتدیٰ کے درجہ پر بٹھا لیں گے‘ اس طرح معاشرہ میں ضلالت وگمراہی کا طوفان برپا ہوجائے گا‘ چنانچہ ”الاتقان“ میں امام زرکشی کی ”البرہان“ کے حوالہ سے مذکور ہے جو پورے سوالنامہ کے جواب کے لئے بھی کافی ہے:
”اعلم انہ لایحصل للناظر فہم معانی الوحی ولایظہر لہ اسرارہ وفی قلبہ بدعة او کبر او ہوی اوحب الدنیا او ہو مصر علی ذنب او غیر متحقق بالایمان او ضعیف التحقیق او یعتمد علی قول مفسر لیس عندہ علم او راجح الی معقولہ وہذہ کلہا حجب وموانع بعضہا آکد من بعض ․․․ الخ“۔ (الاتقان للسیوطی:نوع:۷۸‘ ۲/۱۷۶‘ ط:لاہور)
ترجمہ:․․․”جاننا چاہئے کہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والے پر وحی کے معانی ظاہر نہیں ہوتے اور اس پر وحی کے اسرار نہیں کھلتے‘ جبکہ اس کے دل میں بدعت ہو‘ یا تکبر ہو‘ یا اپنی ذاتی خواہش ہو‘ دنیا کی محبت ہو یا وہ گناہ پر اصرار کرنے والا ہو‘ یا اس کا ایمان پختہ نہ ہو یا اس میں تحقیق کا مادہ کمزور ہو‘ یا وہ کسی ایسے مفسر کے قول پر اعتماد کرے جو علم سے کوراہو‘ یا وہ قرآن کریم کی تفسیر میں عقل کے گھوڑے دوڑاتاہو‘ یہ تمام چیزیں فہم قرآن سے حجاب اور مانع ہیں‘ ان میں بعض دوسری بعض سے زیادہ قوی ہیں“۔
الغرض جو شخص کسی بھی طور پر یعنی علمی‘ عملی‘ فکری واعتقادی‘ نیز دین ودیانت کے لحاظ سے قرآن کریم کی تفہیم وتشریح کا اہل اور حقدار نہ ہو‘ اگر وہ اس منصب پر بیٹھ کر تفسیر قرآن کے نام پر رائے زنی کرے گا تو وہ نہ صرف یہ کہ حرام کا مرتکب ہوگا‘ بلکہ ان تمام وعیدات کا مصداق ومستحق بھی ہوگا جو حضور ا نے ”رائے وتخمین“ کے ذریعہ تفسیر کرنے والوں کے بارے میں فرمائی ہیں‘ جن میں سرفہرست یہ ارشاد گرامی ہے:
”جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے بغیر علم کے قرآن میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنائے“۔ (مشکوٰة:۳۵)
اس تفصیلی بحث سے سوالنامہ میں مذکور تمام سوالات کے جوابات تو کسی فرد‘ ادارہ یا تنظیم کا نام لئے بغیر تقریباً آچکے ہیں‘ تاہم اختصار کے ساتھ سوالوں کے ترتیب وار جوابات ذکر کئے جاتے ہیں:
۱- کسی بھی غیر عالم‘ بالخصوص جمہور علمأ امت کے افکار ونظریات سے منحرف شخص کو مسجد کے منبر پر مدرس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے بالکل ناجائز ہے۔
۲- مستند علمأ کے ہوتے ہوئے غیر مستند آدمی کو درس کے لئے بٹھانا نہ صرف یہ کہ علم دین کی ناقدری ہے‘ بلکہ قرآن کریم کے ساتھ زیادتی اور قرآن کی بے حرمتی بھی ہے۔
۳-درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار‘ تفسیر قرآن کے علمی مأخذ کی معرفت‘ وممارست‘ علمی رسوخ تام اور سلامتئی فکر ونظر ہے۔
۴- مذکورہ علاقہ کے صحیح العقیدہ مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ برائی کے ازالہ کے لئے اچھائی کی مقدور بھر کوشش کریں‘ مسلمانوں کے درمیان فتنہ وانتشار کی روک تھام کے لئے ”امر بالمعروف نہی عن المنکر“ کا احسن طریقہ اختیار کرتے ہوئے اہل محلہ‘ مسجد کمیٹی اور علاقہ کے بااثر حضرات کی باہمی مشاورت اور فہمائش کے ساتھ مذکورہ شخص کو فوری طور پر درس قرآن کی مصروفیت سے روک دیں تاکہ فاسد افکار ونظریات کی تبلیغ وترویج کا انسداد ہوسکے اور لوگوں کے درمیان فتنہ وانتشار برپا نہ ہو‘ نیز موصوف کی بجائے کسی مستند‘ راسخ العقیدہ‘ مضبوط عالم دین کو ان کی جگہ درسِ قرآن کے لئے مقرر کریں۔
کتبہ
رفیق احمد بالاکوٹی
الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

Parents

Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) reported: The Prophet Sallallahu Alyhi Wa Sallam said, "The finest act of goodness is that a person should treat kindly the loved ones of his father". [Muslim]

Abdullah bin Dinar reported: `Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) met a bedouin on his way to Makkah, he greeted him, offered him to mount the donkey he was riding and gave him the turban he was wearing on his head. Ibn Dinar said to him: "May Allah make you pious! Bedouins can be satisfied with anything you give them (i.e., what you have given the bedouin is too much). Upon this, `Abdullah bin `Umar said, the father of this man was one of `Umar's friends whom he loved best, and I heard Messenger of Allah saying, "The finest act of goodness is the good treatment of someone whom one's father loves".

Another narration goes: When `Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) set out to Makkah, he kept a donkey with him to ride when he would get tired from the riding of the camel, and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey, a bedouin happened to pass by him. He (`Abdullah bin `Umar) said, "Aren't you so-and-so?'' The bedouin said, "Yes". He (`Abdullah bin `Umar) gave him his donkey and his turban and said, "Ride this donkey, and tie this turban round your head". Some of his companions said, "May Allah forgive you, you gave to this bedouin the donkey which you enjoyed to ride for change, and the turban which you tied round your head".`Abdullah bin `Umar said,"I heard Messenger of Allah Sallallahu Alyhi Wa Sallam saying, `The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death,' and the father of this person was a friend of `Umar (May Allah be pleased with him). [Muslim]

Commentary: This Hadith teaches that after the death of one's parents, one should maintain contact with their friends and treat them nicely. Besides being a great virtue it is warranted by the needs for showing compassion to relatives. To forget friends of one's parents and break contact with them is condemned by the Shari`ah.

Mar 4, 2009

داڑھی کی شرعی حیثیت

مولوی عظمت اللہ
داڑھی کی شرعی حیثیت


کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
۱:․․․داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن وحدیث کے دلائل سے واضح فرمائیں۔


حضرات مفتیان کرام سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ اس مسئلہ کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کریں‘ اللہ پاک آپ حضرات کے علم وعمل میں برکت دے۔
محمد اطہر ارشد علوی گلی نمبر ۷ فیض کالونی ٹوبہ ٹیک سنگھ
۲:․․․ہم نے علمأ سے سنا ہے کہ داڑھی ایک بالشت سے کم رکھنا گناہ کبیرہ ہے‘ داڑھی ایک بالشت رکھنا ضروری ہے‘ لیکن ایک طبقہ (گروہ) کہتا ہے کہ داڑھی ایک بالشت رکھنا ضروری امر نہیں‘ بلکہ جتنی دل چاہے رکھ لی جائے یا اتنی رکھ لی جائے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہو کہ اس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے‘ اس اختلاف کو مضبوط اور واضح دلائل سے ضبط فرمائیں۔ ۳:․․․ یہ بات بھی واضح فرمائیں کہ جو شخص داڑھی کے بارہ میں مذکورہ بالا عقیدہ یا نظریہ رکھے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگرنماز جائز نہیں تو جو نمازیں ایسے امام کے پیچھے پڑھی گئیں ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ ان کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟۔
الجواب حامداً ومصلیاً
واضح رہے کہ مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ‘ اس کی شرعی مقدار ایک قبضہ یعنی ایک مشت اور داڑھی رکھنا اسلامی اور مذہبی شعار ‘ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ا کا دائمی عمل ہے اور حضورا نے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا یا ایک مٹھی سے پہلے کترانا حرام اور کبیرہ گناہ ہونے امت کا اجماع ہے۔
حدیث شریف میں حضرت عائشہ  آنحضرت ا کا ارشاد مبارک نقل فرماتی ہیں:
”عشر من الفطرة قص الشارب واعفاء اللحیة․․․ الخ“۔(مسلم ج:۱‘ص:۱۲۹)
یعنی دس چیزیں فطرت میں سے ہیں:۱:․․․ مونچھوں کا کتروانا۔۲:․․․ داڑھی بڑھانا۔ ۳:․․․ مسواک کرنا۔ ۴:․․․ ناک میں پانی ڈال کرناک صاف کرنا۔ ۵:․․․ ناخن تراشنا۔ ۶:․․․ بدن کے جوڑوں کو دھونا۔ ۷:․․․بغل کے بال اکھاڑنا۔ ۸:․․․ زیر ناف بال صاف کرنا۔ ۹:․․․پانی سے استنجاء کرنا‘ راوی کو دسویں چیز یاد نہ رہی‘ فرماتے ہیں : ممکن ہے کہ وہ کلی کرنا ہو۔ اس حدیث میں جوکہ سنداً نہایت قوی حدیث ہے‘ دس چیزوں کو جن میں سے داڑھی کا بڑھانا اور مونچھوں کا کترانا بھی فطرت بتلایاگیا ہے اور فطرت عرف شرع میں ان امور کو کہا جاتاہے جوکہ تمام انبیاء اور رسل کی معمول بہ اور متفق علیہ سنت ہو اور امت کو ان پر عمل کرنے کا حکم ہو ۔ (فتاویٰ رحیمیہ جدید‘ ج:۱۰‘ ص:۱۰۶)
صاحب مجمع البحار اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
”عشر من ”الفطرة“ ای من السنة ای سنن الانبیاء علیہم السلام التی بالاقتداء بہم فیہا ای من السنة القدیمة التی اختارہا الانبیاء علیہم السلام‘ واتفقت علیہا الشرائع فکأنہا امر جبلی فطروا علیہ“۔ (مجمع البحار‘ ج:۴‘ ص:۱۵۵)
یعنی دس چیزیں فطرت (سنت) میں سے ہیں یعنی انبیاء کرام علیہم الصلاة والسلام کی ان سنتوں میں سے ہیں جن کی اقتداء کا ہمیں حکم دیا گیا یعنی اس سنت قدیم میں سے ہے جس کو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار فرمایا اور اس پر تمام شرائع متفق ہیں‘ گویا کہ وہ امر جبلی ہے جس پر تمام انبیاء علیہم السلام کو پیدا کیا گیا ہے۔
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
”قالوا: ومعناہ انہا من سنن الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم“ ۔(نووی شرح مسلم‘ ج:۱‘ ص:۱۲۸)
یعنی فطرت کے معنی یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے۔
اس حدیث شریف سے صاف ظاہر ہوگیا کہ داڑھی بڑھانے کا حکم تمام شریعتوں میں تھا اور یہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔
دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے:
”عن ابن عمر  قال: قال النبی ا خالفوا المشرکین اوفروا اللحی واحفوا الشوارب‘ وفی روایة: انہکوا الشوارب واعفوا اللحی متفق علیہ“۔ (مشکوٰة‘ ص:۳۸۰)
یعنی مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں پست کرو (چھوٹی کرو) اور داڑھی کو معاف رکھو (یعنی اسے نہ کاٹو)
ایک اور حدیث میں ”وارخوا اللحی“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ یعنی داڑھی لمبی کرو۔
ان احادیث مبارکہ میں آنحضرت ا صیغہٴ امر کے ساتھ داڑھی رکھنے کا حکم فرمارہے ہیں اور امر حقیقت میں وجوب کے لئے ہوتا ہے‘ نیز داڑھی منڈانے میں کفار‘ اناث (عورتیں) اور مخنثوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے‘ جس کا ناجائز اور حرام ہونا احادیث سے ثابت ہے‘ چنانچہ ابوداود شریف میں ہے:
۱:․․․”عن ابن عباس  عن النبی ا انہ ”لعن المتشبہات من النساء بالرجال والمتشبہین من الرجال بالنساء“۔ (ابوداود: ج:۲‘ص:۲۱۲)
ترجمہ:․․․”نبی کریم ا نے عورتوں میں سے ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور مردوں میں سے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں‘ لعنت فرمائی ہے“۔
۲:․․․”عن ابن عمررضی اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ ا ”من تشبہ بقوم فہو منہم“۔ (ابوداود‘ ج:۲‘ص:۲۰۳)
ترجمہ:․․․”حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:” جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا“۔
۳:․․․”عن ابی ہریرة  قال: لعن رسول اللہ ا الرجل یلبس لبسة المرأة‘ والمرأة تلبس لبسہ الرجل“۔ (ابوداؤد‘ ج:۲‘ ص: ۲۱۲)
ترجمہ:․․․”حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو زنانہ لباس پہنے‘ اسی طرح اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مردانہ لباس پہنے“۔
”عن ابن عباس  قال: لعن رسول اللہ ا المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء وقال اخرجوہم من بیوتکم“۔ (مشکوٰة:۳۸۰)
ترجمہ:․․․”حضرت عبد اللہ بن عباس  سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : رسول ا لعنت کرتے ہیں ان مردوں پر (جوداڑھی منڈاکر یا زنانہ لباس پہن کر) عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو“۔
داڑھی کا ایک مٹھی سے پہلے کٹانا یہ بھی یہود ونصاریٰ اور ایرانی‘ پارسیوں کے ساتھ مشابہت ہے‘ چنانچہ علمأ متاخرین میں عمدة الفقہاء حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری  بذل المجہود میں تحریر فرماتے ہیں:
”وقص اللحیة من سنن الاعاجم وہو الیوم شعار کثیر من المشرکین والافرنج والہنود ومن لاخلاق لہم فی الدین ممن یتبعونہم ویحبون ان یتزیوا بزیہم“۔ (بذل المجہود‘ ج:۱‘ ص:۳۳)
ترجمہ:․․․”داڑھی کتروانا عجمیوں کا طریقہ ہے‘ موجودہ زمانہ میں اکثر وبیشتر مشرک‘ فرنگی اور ہندؤں کا اوران لوگوں کا شعار بن گیا ہے جن کو دین سے کوئی سروکار نہیں اور انگریزوں کے قدم بقدم چلنے اور ان کی سی شکل ووضع اختیار کرنے کو پسند کرنے لگے ہیں“۔
آگے تحریر فرماتے ہیں:
”ثم قال: وکذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ فعلم ان ما یفعلہ بعض من لاخلاق لہ فی الدین من المسلمین فی الہند والاتراک حرام“۔
امام محمد فرماتے ہیں:․․․ اور کتروانے ہی کی طرح مرد کو داڑھی کٹانا بھی حرام ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہندی مسلمان جن کو دین کا کوئی لحاظ نہیں اور نیز ترک جو ایسے کرنے لگے ہیں وہ حرام ہے۔
(بحوالہ جمال مسلم ص:۳۷‘۳۸)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”حلق کردن لحیہ حرام است وروش افرنج وہنود است وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است واورا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک در دین است یا بہ جہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت است“۔ (اشعة اللمعات ج:۱‘ ص:۲۱۲)
یعنی داڑھی منڈانا حرام ہے اور اہل مغرب اور ہندؤں کا طریقہ ہے‘ داڑھی ایک مشت رکھنا واجب ہے اور اس کو سنت اس اعتبار سے کہا جاتاہے کہ یہ دین میں طریقہ مسلوکہ ہے یا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ سنت سے ثابت ہے‘ چنانچہ نماز عید کو (اسی معنیٰ کے اعتبار سے) سنت کہا جاتا ہے‘ حالانکہ وہ واجب ہے“۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
”واما الاخذ منہا وہی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم یبحہ احد “۔(کتاب الصوم مطلب فی الاخذ من اللحیة ج:۲‘ ص:۱۵۵)
حکیم الامت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی مذکورہ عبارت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ صاحب درمختار کا یہ قول:
”لم یبحہہ احد“ نص فی الاجماع“۔(البوادر والنوادر ج:۲‘ ص:۴۴۳)
یعنی داڑھی منڈانے اور کٹوانے کی حرمت پر اجماع کی تصریح ہے۔
اور تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:
”وقال العلائی فی کتاب الصوم قبیل فصل العوارض ان الاخذ من اللحیة دون القبضة کما یفعلہ المغاربة ومخنثة الرجال لم یبحہ احد واخذ کلہا فعل یہود الہندومجوس الاعاجم فحیث اد من علی فعل ہذا المحرم یفسق وان لم یکن ممن یستبیحونہ ولایعدونہ فارقا للعدالة والمروة“۔ (ج:۱‘ص:۳۵۱)
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے: کہ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے کو کسی نے مباح قرار نہیں دیا۔
اسی طرح فیض الباری شرح بخاری میں ہے:
”واما قطع دون ذلک فحرام اجماعا بین الائمة رحمہم اللہ“۔ (ج:۴‘ ص:۳۸۰)
یعنی تمام ائمہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ داڑھی اس طرح کاٹنا کہ ایک قبضہ سے کم رہ جائے حرام ہے۔
اور حدیث شریف میں ہے:
”عن رویفع بن ثابت قال: قال لی رسول اللہ ا یارویفع! لعل الحیوٰة ستطول بک بعد فاخبر الناس ان من عقد لحیتہ او تقلد وترا او استنجی برجیع دابة او عظم فان محمدا منہ برئ“۔ (مشکوٰة‘ ص:۴۳)
ترجمہ:․․․”حضرت رویفع بن ثابت  سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ: میرے بعد قریب ہے کہ تیری زندگی دراز ہو‘ لوگوں کو خبر دینا کہ جو شخص اپنی داڑھی میں گرہ لگائے یا داڑھی چڑھائے یا تانت کا قلادہ ڈالے یا گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرے تو محمد ا اس سے بری ہیں“۔
حضرت مولانا عبد الرحیم لاجپوری صاحب اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ:
”جب داڑھی لٹکانے کے بجائے چڑھانے پر یہ وعید ہے تو منڈانے اور شرعی مقدار (قبضہ) سے کم کرنے پر کیا وعید ہوگی“۔(فتاویٰ رحیمیہ ج:۱۰‘ ص:۱۰۷)
الاختیار شرح المختار میں ہے:
”اعفاء اللحی قال: محمد  : عن ابی حنفیة ترکہا حتی تکث وتکثر والتقصیر فیہا سنة‘ وہو ان یقبض رجل لحیتہ فما زاد علی قبضہ قطعہ‘ لان اللحیة زینة وکثرتہا من کمال الزینة وطولہا الفاحش خلاف السنة“۔
ترجمہ:․․․”اعفاء اللحی یعنی داڑھی بڑھانا امام محمد  کی روایت ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا داڑھی کو چھوڑے رکھنا چاہئے‘ یہاں تک کہ گھنی ہوجائے اور بڑھ جائے اور داڑھی میں قصر سنت ہے اور قصر یہ ہے کہ داڑھی کو مٹھی سے پکڑے جو مٹھی سے بڑھ جائے اس کو کاٹ دیں۔ داڑھی سنت ہے اور اس کا بھر پور ہونا (گھنی ہونا) کمال زینت ہے اور داڑھی کی غیر معمولی درازی خلاف سنت ہے“۔ (الاختیار شرح المختار ج:۴‘ ص:۲۳۵)
حضرت امام غزالی  تحریر فرماتے ہیں:
”وقد اختلفوا فیما طال منہا فقیل: ان یقبض الرجل علی لحیتہ واخذ ما فضل عن القبضة فلا باس‘ فقد فعلہ ابن عمر وجماعة من التابعین‘ واستحسنہ الشعبی وابن سیرین‘ وکرہہ الحسن وقتادة وقالا: ترکہا عافیة احب لقولہ ا اعفوا اللحی“۔ (احیاء العلوم‘ ج:۱‘ ص:۱۴۸)
ترجمہ:․․․”لوگوں نے اس باب میں اختلاف کیا ہے کہ اگر داڑھی لمبی ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے؟ بعض کا قول ہے کہ مقدار مشت چھوڑ کر باقی کاٹ ڈالے تو کچھ مضائقہ نہیں اس لئے کہ حضرت ابن عمر  اور بہت سے تابعین نے ایسا کیا ہے اور امام شعبی اور ابن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا ہے‘ حسن اور قتادہ نے اس کو مکروہ فرمایاہے اور کہا ہے کہ: اس کو لٹکی رہنے دینا مستحب ہے‘ کیونکہ آنحضرت انے فرمایا کہ: ”اعفوا اللحی“ داڑھی بڑھاؤ“۔ (بحوالہ مذاق العارفین ترجمہ احیاء العلوم‘ ص:۱۵۹‘۱۶۰)
اور نصاب الاحتساب میں ہے:
”قال علیہ السلام: احفوا لشوارب واعفوا اللحی ای قصوا الشوارب واترکوا اللحی کما ہی ولاتقطعوہا ولاتحلقوہا ولاتنقصوہا من القدر المسنون وہو القبضة“۔(بحوالہ داڑھی کا وجوب حضرت شیخ زکریا ص:۸۱)
ترجمہ:․․․”حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مونچھیں کٹاؤ اور داڑھی بڑھاؤ یعنی مونچھیں کترواؤ اور داڑھی کو اپنی حالت پر بڑھاؤ اور جب تک وہ ایک قبضہ بھر نہ ہوجاوے اس کو نہ کٹاؤ‘ نہ منڈواؤ‘ نہ گھٹاؤ اور صحیح مقدار ایک مٹھی ہے“۔
بہرحال یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ داڑھی ایک مشت رکھنا ہی واجب ہے اورداڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے پہلے کتروانا حرام ہے اور اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔ جیساکہ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کی کتاب الآثار میں ہے:
”محمد قال اخبرنا ابوحنیفة رحمہ اللہ عن الہیثم عن ابن عمر  انہ کان یقبض علی اللحیة ثم یقص ما تحت القبضة قال محمد: وبہ ناخذ وہو قول ابی حنیفة رحمہ اللہ“۔
ترجمہ:․․․”امام محمد امام اعظم ابوحنیفہ سے وہ حضرت ہیثم  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر  داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کرمٹھی سے زائد حصہ کو کاٹ دیا کرتے تھے‘ امام محمد فرماتے ہیں کہ: ہمارا عمل اسی حدیث پر ہے اور حضرت امام اعظم نے بھی یہی فرمایا ہے“۔
فقہ مالکی کے مشہور فقیہہ علامہ محمد بن محمد غیثنی مالکی ”المنح الوفیہ شرح مقدمہ العزیة“ میں فرماتے ہیں:
”ان ترک الاخذ من اللحیة من الفطرة‘ وامر فی الارسال بان تعفی ای تترک ولاحرج علی من طالت لحیتہ بان یأخذ منہا اذا زادت علی القبضة“۔
ترجمہ:․․․”داڑھی رکھنا فطرت میں سے ہے اور چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ بڑھائی جائے‘ لیکن جس شخص کی داڑھی ایک قبضہ سے لمبی ہوجائے تو ایسے شخص کو قبضہ سے زائد حصہ کو کتروا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں“۔
مشہور شافعی فقیہ اور محدث امام نووی ”حدیث خصال فطرت“ کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:
”المختار ترکہا علی حالہا وان لایتعرض لہا بتقصیر ولاغیرہ“
ترجمہ:․․․”مذہب مختاریہ ہے کہ داڑھی کو بالکل چھوڑدیا جائے اور اس کے ساتھ کترنے اور منڈوانے کا تعرض بالکل نہ کیا جائے“۔
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب ”کشاف القناع شرح متن الاقناع“ ج:۱‘ ص:۶۰ میں ہے:
”واعفاء اللحیة ) بان لایاخذ منہا شیأ مالم یستہجن طولہا ویحرم حلقہا ولایکرہ اخذ ما زاد علی القبضة“
”اور حضور اکی سنت داڑھی کو چھوڑدیناہے اس طرح کہ اس میں سے کچھ بھی نہ تراشے جب تک کہ وہ لمبی ہوکر بڑی نہ لگنے لگے اور اس کا منڈانا تو بالکل حرام ہے‘ البتہ قبضہ سے زیادہ حصہ کا تراشنا مکروہ نہیں“۔ (بحوالہ داڑھی کا وجوب ص:۷۵تا۷۶ حضرت شیخ محمد زکریا)

لہذا صورت مسئولہ میں جو لوگ اس قبیح فعل کے مرتکب ہیں یا دوسروں کے لئے اس فعل قبیح کا سبب بنے ہیں‘ سب پر ضروری ہے کہ داڑھی ایک مٹھی رکھیں اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس سے صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔ورنہ آئندہ جو بھی ان کی وجہ سے داڑھی ایک مشت سے پہلے کتروا ئے گا تو ان کا وبال بھی ان ہی پر ہوگا۔حدیث شریف میں ہے:
بہرحال مذکورہ تمام احادیث اور فقہاء کرام کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت یعنی قبضہ سے کم کرنا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز اور حرام ہے اور اتنی داڑھی رکھنا کہ لوگوں کی نگاہیں اس پر اٹھیں یعنی صرف یہ معلوم ہو کہ داڑھی رکھی ہوئی ہے‘ یہ بات قرآن وسنت اور فقہاء کرام کے اقوال کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے اور اسلام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے جوکہ انتہائی خطرناک ہے۔
”من سن فی الاسلام سنة حسنة فعمل بہا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل ولاینقص من اجورہم شیئ‘ ومن سن فی الاسلام سنة سیئة فعل بہا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بہا ولاینقص من اوزار ہم شیئ“۔ (صحیح مسلم‘ ج:۲‘ ص:۳۴۱)
ترجمہ:․․․”جس نے اسلام میں کسی نیکی کی بنیاد ڈالی اور اس نیکی پر بعد میں بھی عمل ہوتا رہا تو بعد میں عمل کرنے والوں کی نیکیوں کے بقدر بنیاد ڈالنے والے کو ثواب ملے گا‘ لیکن اس سے عمل کرنے والوں کی نیکیوں میں کچھ کمی نہیں آئے گی اور جس نے اسلام میں کسی بدی کی بنیاد ڈالی اور اس بدی پر بعد میں عمل ہوتا رہا تو آئندہ عمل کرنے والوں کے گناہ کے بقدر بنیاد ڈالنے والے کو گناہ ملتا رہے گا اور اس کے سبب برائی کرنے والوں کے گناہ میں سے کچھ کمی واقع نہ ہوگی“۔

۳:․․․ جو امام داڑھی منڈاتے ہیں یا ایک مٹھی سے پہلے کتراتے ہیں تو وہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے فاسق ہیں اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں‘ بلکہ نمازیوں پر ضروری ہے کہ متقی پر ہیزگار عالم دین کو امام بنائیں جو شریعت اور سنت کا پابند ہو‘ البتہ ایسے امام کی اقتداء میں جو نمازیں ادا کی گئی ہیں ان کا اعادہ کرنا ضروری نہیں‘ وہ نمازیں ہوگئیں باقی ثواب پورا نہیں ملے گا‘ جیساکہ ”البوادر النوادر“ میں کہ درمختار میں واجبات صلوٰة میں یہ قاعدہ لکھا ہے::
”کل صلوٰة ادیت مع کراہة التحریم تجب اعادتہا“
اور رد المحتار میں اس کے عموم پر ایک قوی اعتراض کرکے تصحیح کے لئے یہ توجیہ کی ہے:
”الا ان یدعی تخصیصہا بان مرادہم بالواجب والسنة التی تعاد بترکہ ماکان من ماہیة الصلوٰة وجزائہا“۔

کارو کاری کی رسم اور اسلامی تعلیمات

سید با چا آغا صاحبزادہ
کارو کاری کی رسم اور اسلامی تعلیمات

کارو کاری کا تعارف
کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے۔ مذکورہ نام بدکاری یا زناکاری کے مترادف ہیں اورنام مختلف علاقوں میں بولی جانے والے زبانوں کے مطابق وضع کئے گئے ہیں‘ مثلاً بلوچستان میں اسے سیاہ کاری کہا جاتاہے‘ جس کا معنی ہے‘ بدکاری‘ پاپی‘ گنہگار‘ مجرم۔ سندھ میں اسے کارو کاری کہا جاتاہے‘ پنجاب میں کالا کالی اور سرحد میں طورطورہ کے نام سے مشہور ہے۔ کالے رنگ کے مفہوم کی حامل یہ اصطلاحات زناکاری اور اس کے مرتکب ٹھہرائے گئے افراد سے وابستہ سماجی رسوائی کا مظہر ہے۔(۱)
پاکستان میں جب کوئی کسی مرد اورعورت کی جان لے کر یہ دعویٰ کرتاہے کہ اس نے یہ قتل اس بناء پر کیا ہے کہ مقتول مرد اور عورت جنسی بدفعلی کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھراس قتل کو عام قتل نہیں گردانا جاتا‘ بلکہ ”غیرت کے نام پر قتل“ کہا جاتاہے‘ جس کو انگریزی میں (Honour Killing) کہتے ہیں۔ ملزمہ زانی عورت اور بعض اوقات اس کے شریک جرم ملزم مرد کو قتل کرنے کا مقصد‘ رسوائی مٹانے اور عزت وآبرو برقرار رکھنے کے علاوہ مرد اپنے دیرینہ جھگڑے مٹانے ‘ زمین وزر کے حصول‘ قرض ادا کرنے کی ذمہ داری سے گلو خلاصی کرانے‘ دوسری بیوی کے حصول‘ کسی ناپسندیدہ عورت سے چھٹکاراپانے یا اسی طرح کے اور بہت سے مقاصد کے حصول کے لئے بھی کسی مرد اور عورت پر کارو کاری کا لیبل لگا کر انہیں قتل کردیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کاروکاری‘ سیاہ کاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اخبارات میں ان کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی‘ تاہم زیادہ رپورٹنگ نہ تو اس کی ترجمانی کرپاتی ہے اور نہ اس کی وجوہات
․ #لیکچرر شعبہٴ اسلامیات گورنمنٹ ڈگری کالج کوئٹہ
ونتائج کی نوعیت کے متعلق آگاہ کرتی ہے۔اگر خدانخواستہ اس رسم کا شکار بننے والے مرد اور عورت کا تعلق شہر کے اعلیٰ طبقے سے ہو‘ تو اس کی تشہیر سنسنی خیز ہونے کے علاوہ چٹخارے دار اور فحش بھی ہوتی ہے‘ لیکن جب کچھ گمنام کسی دور دراز کے دیہات میں قتل کردئے جاتے ہیں تو اس جرم کے بارے میں صرف دو انچ کی رپورٹ شائع ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں طرز بیان حقیقت سے اتنا دور ہوتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کا ہماری زندگیوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ (۲) بہرحال مذکورہ بالا اصطلاحات کسی مرد اورعورت پر اس وقت لاگو کی جاتی ہیں، جب وہ زنا کاری کے مرتکب پائے گئے ہوں یا ان پر زنا کاری کا شبہ ہو۔ بعد میں انہی اصطلاحات کے تحت جب انہیں سزا کے طور پر قتل کردیا جائے‘ تو اسے محض قتل نہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل کا نام دیاجاتاہے۔
کارو کاری کے مرتکب مرد وعورت کے متعلق اسلامی تعلیمات
بغیر نکاح کے کسی مرد کا عورت کے ساتھ یا عورت کا مرد کے ساتھ مباشرت کرنا زنا ہے۔ قرآن نے مرد وعورت دونوں کو زنا کرنے سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشة وساء سبیلا“۔(بنی اسرائیل:۳۲)
ترجمہ:․․․”اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بے حیائی اور بری راہ ہے“۔
قرآن وحدیث میں زنا کو نہ صرف بے حیائی اور بری راہ سے تعبیر کیا گیاہے‘ بلکہ اس کو حدود میں داخل کرکے کڑی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ شریعت ایک طرف حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم میں نہیں دی جاتی‘ اور دوسری طرف فیصلہ دیتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے‘ ورنہ اس پر ۸۰ کوڑے برسا ؤ‘ تاکہ آئندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلاثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے۔
بالفرض الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بدکاری کرتے دیکھ بھی لیا ہو‘ تب بھی اس کو خاموش رہنا چاہئے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہئے تاکہ گندگی جہاں ہے وہیں پڑی رہے اور پھیلے نہیں۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہوں‘ تو معاشرے میں بے ہودگی کے چرچے کرنے کے بجائے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں ملزموں کا جرم ثابت کرکے انہیں سزا دلوائے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بلاثبوت وگواہی کے صرف کارو کاری کا الزام عائد کرکے مرد وعورت کو قتل کردیا جاتاہے‘ اس طرز عمل کو رسم ورواج کا حصہ قرار دینے کی دلیل دی جاتی ہے اور یہ طرز عمل اپناتے ہوئے ملوث افراد نہ صرف اسلامی حدودسے باہر نکل جاتے ہیں‘ بلکہ انسانی حقوق کو بھی پامال کرتے ہیں۔
کارو کاری یا بالفاظ دیگر زنا کاری کا عام مفہوم‘ جس سے ہرشخص واقف ہے‘ یہ ہے کہ مرد اور عورت رشتہ زن وشوہر کے بغیر باہم مباشرت کا ارتکاب کریں۔ اس فعل کا اخلاقاً برا یا مذہباً گناہ، معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہوناتو ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں‘ اور اس سے سوائے ان لوگوں کے‘ جنہوں نے اپنی عقل کو نفس پرستی کے تابع کردیاہے‘ کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت زنا کی حرمت کاخود تقاضا کرتی ہے۔
زنا محض اور زنا بہ زنِ غیر میں فرق
زنا کی حرمت پر متفق ہونے کے بعد اختلاف جس امر میں ہوا ہے وہ اس کے جرم یعنی قانونا مستوجب سزا ہونے کا مسئلہ ہے‘ اوریہ وہ مقام ہے جہاں سے اسلام اور دوسرے مذاہب وقوانین کا اختلاف شروع ہوتا ہے۔ انسانی فطرت سے قریب ترین جو معاشرے رہے ہیں‘ انہوں نے ہمیشہ زنا یعنی عورت اور مرد کے ناجائز تعلق کو بجائے خود ایک جرم سمجھا ہے اور اس کے لئے سخت سزائیں رکھی ہیں‘ لیکن جوں جوں انسانی معاشروں کو تمدن خراب کرتا گیا‘یہ رویہ نرم ہوتا چلا گیا‘ اس معاملے میں اولین تساہل‘ جس کا ارتکاب بالعموم کیا گیا‘ یہ تھا کہ محض زنا (Fornication) اور زنا بہ زن غیر (Adultery) میں فرق کرکے اول الذکر کو ایک معمولی سی غلطی اور صرف موخر الذکر کو جرم مستوجب سزا قرار دیا گیا ۔ محض زنا کی تعریف جو مختلف قوانین میں پائی جاتی ہے ‘ یہ ہے کہ کوئی مرد خواہ وہ کنوارا ہو یا شادی شدہ‘ کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو کسی دوسرے شخص کی بیوی نہ ہو۔ اس تعریف میں اصل اعتبار مرد کی حالت کا نہیں‘ بلکہ عورت کی حالت کا کیا گیاہے۔ عورت اگر بے شوہر ہے تو اس سے مباشرت محض زنا ہے‘ قطع نظر اس کے کہ مرد بیوی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اسلام کے سوا دیگر تمام قوانین میں زنا بہ زن غیر ہی اصلی اور بڑا جرم ہے‘ یعنی یہ کہ کوئی شخص خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ‘ کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو دوسرے شخص کی بیوی ہو۔ اس فعل کے مستوجب سزاہونے کی بنیاد یہ نہ تھی کہ ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے‘ بلکہ یہ تھی کہ دونوں نے مل کر ایک شخص کو اس خطرے میں مبتلا کردیاہے کہ اسے کسی ایسے بچے کو پالنا پڑے جو اس کا نہیں ہے‘ گویا زنا نہیں‘ بلکہ اختلاط نسب کا خطرہ اصل جرم ٹھہرا۔ (۳)
لیکن اسلامی قانون ان سب تصورات کے برعکس زنا کو بجائے خود ایک جرم مستوجب سزا قرار دیتاہے‘ اور شادی شدہ ہوکر زنا کرنا اس کے نزدیک جرم کی شدت کو اور زیادہ بڑھا دیتاہے‘ لیکن اس بناء پرنہیں کہ مجرم نے کسی سے عہد شکنی کی یا کسی دوسرے کی آبرو پر دست درازی کی‘ بلکہ اس بناء پر کہ اس نے اللہ کا حکم توڑا‘ اور اس کے پاس اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ایک جائز ذریعہ موجود تھا ‘ پھر بھی اس نے ناجائز ذریعہ اختیار کیا۔
زنا محض کی سزا
زنا محض یا غیر شادی شدہ جوڑے کے زنا کی سزا کے متعلق ارشاد خداوندی ہے:
”الزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منہا مائة جلدة ولاتأخذکم بہما رافة فی دین اللہ ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم والآخر ولیشہد عذابہما طائفة من المؤمنین“۔ (نور:۲)
ترجمہ:․․․”زانیہ عورت اور زانی مرد‘ دونوں میں سے ہرایک کو سوکوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے حوالے میں دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے“۔
اس آیت میں زنا کی جو سزا مقرر کی گئی ہے‘ وہ دراصل محض زنا کی سزا ہے۔ یہ بات خود قرآن ہی کے ایک اشارے سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ یہاں اس زنا کی سزا بیان کررہا ہے جس کے فریقین غیر شادی شدہ ہوں‘چنانچہ سورہ نساء میں ارشاد ہے :
”والتی یأتین الفاحشة من نسائکم فاستشہدوا علیہن اربعة منکم فان شہدوا فامسکوہن فی البیوت حتی یتوفہن الموت او یجعل اللہ لہن سبیلا“۔ (النساء:۱۵)
ترجمہ:․․․”اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ لاؤ ان پر چار مرد اپنوں میں سے‘ پھر اگر وہ گواہی دیدیں تو بند رکھو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ اٹھالے ان کو موت یا مقرر کردے اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی راہ“۔
اس آیت میں ایک تو ثبوت زنا کا خاص طریقہ چار مردوں کی شہادت کے ساتھ ہونا بیان فرمایاہے‘ دوسرے زنا کی سزا عورت کے لئے گھر میں قید رکھنا اور دونوں کے لئے ایذا پہنچانا مذکور ہے اور ساتھ‘ اس میں یہ بھی بیان کردیا گیاہے کہ زناکی سزا کا یہ حکم آخری نہیں‘ بلکہ آئندہ مزید کچھ حکم آنے والا ہے۔ جب سورہ نور کی آیت مذکور نازل ہوئی‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ سورہ نساء میں جو وعدہ کیا گیا تھا :”او یجعل اللہ لہن سبیلا“۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور سبیل بتادے تو سورہ نور کی اس آیت نے وہ سبیل بتلادی یعنی سو کوڑے کی سزا عورت‘ مرد دونوں کے لئے متعین فرمادی۔ اس کے ساتھ ہی ابن عباس نے سوکوڑے مارنے کی سزا کو غیر شادی شدہ مرد وعورت کے لئے مخصوص قرار دیا (۴) اور فرمایا:”یعنی الرجم للثیب والجلد للبکر“ یعنی وہ سبیل اور سزائے زنا کی تعیین یہ ہے کہ شادی شدہ مرد وعورت سے یہ گناہ سرزد ہو تو ان کو سنگ سارکرکے ختم کردیا جائے اور غیر شادی شدہ جوڑے کی سزا سو کوڑے ہے۔
شیخ احمد ملاجیون” تفسیرات احمدیہ“ میں فرماتے ہیں کہ:
”والحکم المذکور فی الآیة وہو الجلد انما ہو لغیر المحصن“۔ (۵)
ترجمہ:․․․”اور حکم مذکور جو آیت (سورہ نور) میں درج ہے‘ جو کوڑے مارنا ہے ‘ وہ غیر شادی شدہ جوڑے کی (سزا) ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں اس کے متعلق حسب ذیل ذکر ہے کہ:
”وان کان غیر محصن فحدہ مائة جلدة ان کان حراً“۔ (۶)
ترجمہ:․․․”اور اگر زنا کرنے والے شادی شدہ نہ ہوں تو ان کی سزا سوکوڑے ہیں‘ بشرطیکہ آزاد ہوں“۔
زنا محض کی سزا کی شرائط
کسی شخص (مرد یا عورت) کو مجرم قرار دینے کے لئے صرف یہ امر کافی نہیں ہے کہ اس سے فعل زنا صادر ہوا ہے‘ بلکہ اس کے لئے مجرم میں کچھ شرطیں پائی جانی چاہئیں۔
زنا محض یا بالفاظ دیگر غیر شادی شدہ جوڑے کے زنا کرنے کے معاملے میں شرط یہ ہے کہ مجرم آزاد ہوں‘ جیساکہ عالمگیری کی عبارتِ مذکورہ (ان کان حراً) سے واضح ہے‘ اگر ایک مجرم غیر محصن غلام ہو‘ تو ان کی سزا ۵۰ کوڑے ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ عاقل ہوں اور تیسری شرط یہ ہے کہ بالغ ہوں ،اگر کسی مجنون یا کسی بچے سے یہ فعل سرزد ہو‘ تو وہ حد زنا کا مستحق نہیں ہے۔
زنا بہ زنِ غیر یا زنا بعد احصان کی سزا
یہ امر کہ زنا بہ زن غیر یا زنا احصان کی سزا کیا ہے؟ قرآن مجید نہیں بتاتا‘ بلکہ اس کا علم ہمیں حدیث سے حاصل ہوا ہے۔ معتبر روایات سے بکثرت ثابت ہے کہ نبی کریم انے نہ صرف قولاً اس کی سزا رجم (سنگساری) بیان فرمائی ہے‘ بلکہ عملاً آپ نے متعدد مقدمات میں یہی سزا نافذ بھی فرمائی ہے‘ پھر آپ کے بعد چاروں خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور میں بھی یہی سزا نافذ کی اور اسی کے قانونی سزا ہونے کا بار بار اعلان کیا۔ صحابہ کرام  اور تابعین میں یہ مسئلہ متفق علیہ تھا۔ کسی ایک شخص کا بھی کوئی قول ایسا موجود نہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ قرون اولیٰ میں کسی کو اس کے ثابت شدہ حکم شرعی ہونے میں کوئی شک تھا۔ ان کے بعد تمام زمانوں اور ملکوں کے فقہائے اسلام اس کے سنت ثابتہ ہونے پر متفق رہے ہیں‘کیونکہ اس کی صحت کے اتنے متواتر اور قوی ثبوت موجود ہیں‘ جن کے ہوتے ہوئے کوئی صاحب علم اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ عین الہدایہ اردو شرح ہدایہ میں اس زنا بہ زن غیر یا زنا بعد احصان کے متعلق مذکور ہے:
”واذا وجب الحد وکان الزانی محصنا رجمہ بالحجارة حتی یموت لانہ علیہ السلام رجم ماعزاً وقد احصن وقال فی الحدیث المعروف وزنا بعد الاحصان وعلی ہذا اجماع الصحابة“۔(۷)
ترجمہ:․․․”جب حد واجب ہوئی اور زنا کرنے والا محصن ہے‘ تو (حاکم) اس کو پتھروں سے سنگسار کرے‘ یہاں تک کہ مرجائے‘ کیونکہ حضور انے ماعز بن مالک کو رجم کیا، دراں حالیکہ وہ محصن تھا اور حدیث معروف میں ہے و زنا بعد الاحصان اوراسی پر صحابہ کا اجماع ہے“۔
ایک دوسری حدیث میں حضور ا نے فرمایا ہے کہ:
”لایحل دم امر ء مسلم الا باحدی ثلث زنا احصان او کفر بعد اسلام او قتل نفس بغیر حق “ (۸)
ترجمہ:․․․”کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہے‘ مگریہ کہ تین (باتوں) میں سے کوئی ایک (بات) ہو: وہ احصان کے بعد زنا کرے (یعنی رجم کیا جائے گا) یا اسلام کے بعد کافر (مرتد) ہوجائے (یعنی اگردوبارہ اسلام نہ لائے تو قتل کردیا جائے) یا کسی کو ناحق قتل کرے (یعنی قصاصاً اسے قتل کیا جائے)۔
زنابہ بزن غیر کی سزا کی شرائط
زنا بعد احصان کے بعد سزا دیتے وقت جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے‘ وہ درج ذیل ہیں:







یہ تینوں حصار جب پائے جاتے ہوں‘ تب قلعہ بندی مکمل ہوتی ہے اور تب ہی وہ شخص بجاطور پرسنگساری کا مستحق قرار پاسکتاہے‘ جس نے ناجائز شہوت رانی کی خاطریہ تین حصار توڑڈالے‘ لیکن جہاں سب سے بڑا حصار یعنی خدا‘ آخرت اور قانونِ خداوندی پر ایمان ہی موجود نہ ہو‘ وہاں یقیناً قلعہ بندی مکمل نہیں ہے‘ اور اس بنا پر فجور کا جرم بھی اس شدت کو پہنچا ہوا نہیں ہے جو اسے انتہائی سزا کا مستحق بنادے۔ (۹)
۱:․․․ پہلی شرط یہ ہے کہ مجرم آزاد ہو‘ اس پر سب کا اتفاق ہے‘ کیونکہ قرآن خود اشارہ کرتاہے کہ غلام کو رجم کی سزا نہیں دی جائے گی‘ سورہ نساء میں مذکور ہے کہ لونڈی اگر نکاح کے بعد زنا کی مرتکب ہو‘ تو اسے غیر شادی شدہ آزاد عورت کی بہ نسبت آدھی سزا دینی چاہئے‘ لہذا فقہاء نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن کا یہی قانون غلام پر بھی نافذ ہوگا۔ ۲:․․․ دوسری شرط یہ کہ مجرم باقاعدہ شادی شدہ ہو‘یہ شرط بھی متفق علیہ ہے اور اس شرط کی رو سے کوئی ایسا شخص جو ملک یمین کی بناء پر تمتع کر چکا ہو یا جس کا نکاح کسی فاسد طریقے سے ہوا ہو‘ شادی شدہ قرار نہیں دیا جائے گا یعنی اگر اس سے زنا کا صدور ہو‘ تو اس کو رجم کی نہیں‘ بلکہ کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ ۳:․․․ تیسری شرط یہ ہے کہ اس کا محض نکاح ہی نہ ہوا ہو‘ بلکہ نکاح کے بعد خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہو صرف عقد نکاح کسی فرد کو محصن یا عورت کومحصنہ نہیں بنا دیتا کہ زنا کے ارتکاب کی صورت میں ان کو رجم کیا جائے‘ اس شرط پر بھی اکثر فقہاء متفق ہیں‘ مگر امام ابوحنیفہ اور امام محمد اس میں اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ مرد یا عورت کو محصن صرف اسی صورت میں قرار دیا جائے گا جبکہ نکاح اور خلوت صحیحہ کے وقت زوجین آزاد‘ بالغ اور عاقل ہوں‘ اس مزید شرط سے جو فرق پڑتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ اگر مرد کا نکاح ایسی عورت سے ہوا ہو جو لونڈی ‘ نابالغ یا مجنون ہو‘ تو خواہ وہ اس حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستر بھی ہوچکا ہو‘ پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کا مستحق نہ ہوگا‘ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے کہ اگر اس کو اپنے نابالغ ‘ مجنون یا غلام شوہر سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل چکا ہو‘ پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کی مستحق نہ ہوگی۔ ۴:․․․ چوتھی شرط یہ ہے کہ مجرم مسلمان ہو‘ اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے‘ امام شافعی‘ امام ابو یوسف‘ اور امام احمد اس شرط کو نہیں مانتے‘ ان کے نزدیک ذمی بھی اگر زنا بعد احصان کا مرتکب ہوگا تواسے رجم کیا جائے گا‘ لیکن امام ابوحنیفہ اور امام مالک اس امر پر متفق ہیں کہ زنا بعد احصان کی سزا رجم صرف مسلمان کے لئے ہے‘ اس کے دلائل میں سے سب سے زیادہ معقول اور وزنی دلیل یہ ہے کہ ایک آدمی کو سنگساری جیسی سزا دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مکمل احصان کی حالت میں ہو اور پھر بھی زنا کے ارتکاب سے باز نہ آئے‘ احصان کا مطلب ہے اخلاقی قلعہ بندی‘ اور اس کی تکمیل تین حصاروں سے ہوتی ہے۔ ۱:․․․لاچار ومجبو رنہ ہو‘ کیونکہ لاچاری ومجبوری گناہ کراسکتی ہے۔ ۲:․․․ کوئی خاندان اسے اپنے اخلاق اور عزت کی حفاظت میں مدد دینے والا نہ ہو۔ ۳:․․․ تیسرا احصار یہ ہے کہ اس کا نکاح ہوچکا ہواوراس کے لئے تسکین نفس کا جائز ذریعہ موجود ہو۔
مراجع ومصادر
۱- رابعہ علی‘ غیرت کا تاریک پہلو‘ مترجم افتخار محمود‘ شرکت گاہ لاہور‘ ص:۱۵‘ ۲۰۰۱ء






۲- ایضا‘ ص:۵ ۳- مودودی (ابو الاعلیٰ) تفہیم القرآن‘ ادارہ ترجمان القرآن‘ لاہور ص:۳۲۱‘ ج:۳ ‘ ۱۹۹۸ء ۴- مفتی محمد شفیع‘ معارف القرآن‘ ادارة المعارف‘ کراچی‘ ۱۹۹۶ء‘ ص:۳۴۴‘ ج:۶ ۵- شیخ احمد ملاجیون‘ تفسیرات احمدیہ‘ مطبع کریمیہ‘ بمبئی‘ ۱۳۲۷ھ‘ ص:۵۴۱ ۶- فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) مکتبہ ماجدیہ طوغی روڈ کوئٹہ‘ ۱۹۸۳ء ‘ص:۱۴۶‘ج:۲ ۷- علامہ مولانا سید امیر علی ‘ عین الہدایہ اردو شرح ہدایہ‘ قانونی کتب خانہ‘ کچہری روڈ لاہور‘ ص:۴۴۶‘ج:۲ ۸- الخطیب العمری (امام ولی الدین محمد بن عبد اللہ) مشکوٰة‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن‘ اسلام آباد‘ ۱۹۸۵ء‘ ص:۳۰۱ (القصاص)

مسئلہ بشریت انبیاء ،علم غیب ومختار کل تفسیر”ضیاء القرآن “ کی روشنی میں

مولانا عطاء الرحمن
مسئلہ بشریت انبیاء ،علم غیب ومختار کل
تفسیر”ضیاء القرآن “ کی روشنی میں



زیر نظر مضمون میں ہم وہی اقتباسات پیش کررہے ہیں‘ اس تفسیر میں ہمیں منفرد خصوصیت یہ نظر آئی ہے کہ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شانِ توحید کا جو زور بیان نظر آتا ہے‘ تفسیر میں اس زورِ بیان کو انتہائی کمزور طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ اور مندرجہ ذیل اقتباسات خدا جانے ان کے قلم سے کیسے نکلے ہیں؟ ہوسکتاہے کہ وہ آیات قرآنیہ کے زورِ بیان کے سامنے نہ ٹھہر سکے ہوں۔ واللہ اعلم! بہرحال یہ اقتباسات متنازع مسائل میں تنازعہ کو کم کرنے میں کافی مفید ثابت ہوسکتے ہیں‘ ملاحظہ ہو :
محترم قارئین! پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری (بھیرہ )نے قرآن مجید کی اردو میں ایک تفسیر ”ضیاء القرآن“ کے نام سے لکھی ہے جس میں انہوں نے رضا خانی عقائد ونظریات کی بھر پور وکالت کی ہے‘ لیکن قرآن پاک کی آیات صریحہ سے رضا خانی عقائد متصادم ہیں‘ ان خانہ ساز عقائد کے تحفظ اور دفاع کے لئے نصوص صریحہ میں تاویلات باردہ کا ارتکاب‘ کتاب اللہ میں تحریف کے مترادف ہے (اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے آمین) لیکن ان کے باوجود پیر محمد کرم شاہ صاحب کئی مقامات پر سپر انداز ہوگئے ہیں۔
مسئلہ بشریتِ انبیاء علیہم السلام
”انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی انسان کو ہی نبی بناکر مبعوث فرمایا جاتاہے“۔
اس کے تحت لکھتے ہیں:
”کفار کے اس شبہ کا ازالہ کیا جارہاہے کہ آپ بشر ہیں اس لئے نبی کیسے ہوسکتے ہیں؟فرمایا: ہماری سنت ہی یہی ہے کہ آج تک بنی نوع انسان کی طرف جتنے انبیاء کرام بھیجے گئے وہ انہی کے ہم جنس تھے‘ کیونکہ افہام وتفہیم کا مقصد اسی طرح پورا ہوسکتاہے‘ اگر نبی فرشتہ ہوتا تو اس کے آنے کی دو صورتیں تھیں‘ اگر وہ اپنی ملکوتی شکل میں آتاہے تو تم اس کی ہیبت سے دم توڑ دیتے اور اگر انسانی صورت میں آتا تو تم پھر وہی اعتراض کرتے کہ یہ ہماری طرح کا بشر ہے۔ پھر تمہیں کون سمجھاتا کہ یہ بشر نہیں‘ فرشتہ ہے۔ اس لئے سنت الٰہی یہی ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی انسان کو ہی نبی بناکر مبعوث فرمایا جاتاہے“۔(ضیاء القرآن ص:۱۵۴ ج‘۳)
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
” رسول کی آمد کا مقصد تعلیم وہدایت ہے۔ جب زمین پر بسنے والے انسان ہیں تو ان کی رہنمائی کا فریضہ ان کا ایک ہم جنس ہی احسن طریقہ پر ادا کرسکتا ہے‘ اگر یہاں فرشتے آباد ہوتے اور ان کی رہنمائی کے لئے کسی رسول کو مبعوث کیا جاتا تو ان میں کسی فرشتہ کو ہی یہ ذمہ داری سونپی جاتی“ ۔ (ضیاء القرآن ص:۲۸۶ ج‘۲)
مسئلہ علم غیب ومختار کل
” آیة کریمہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ زمین وآسمان میں جو بھی موجود ہیں فرشتہ‘ جنات اور دیگر لوگ کوئی بھی غیب کو نہیں جان سکتے ‘صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ عالم الغیب ہے‘ جس طرح اس کی ذات میں اور اس کی دیگر صفات میں کوئی ہمسری کا دم نہیں مار سکتا‘ اسی طرح صفتِ علم میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی شخص اس کی صفتِ علم میں کسی کو اس کا شریک بنائے گا تو وہ بھی اسی طرح مشرک ہوگا اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا‘ جس طرح اس کی دوسری صفات میں کسی کو شریک بنانے والا یا اس کی ذات کی طرح کسی اور کو واجب الوجود ماننے والا مشرک ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔
(ضیاء القرآن ص:۴۵۷ ج:۳)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سارے خزانے میرے قبضہ میں ہیں‘ خود بخود جیسے چاہوں ان میں تصرف کروں یا مجھے غیب کا خود بخود علم ہوجاتاہے اور بغیر اللہ کے بتلائے اور سکھلائے میں ہرغیب کو جانتا ہوں‘ میرا یہ دعویٰ نہیں میر اگر کوئی دعویٰ ہے تو فقط یہ کہ: ”ان اتبع الا ما یوحی الیّ“جو کچھ میری طرف وحی کیا جاتاہے میں اس کی پیروی کرتا ہوں قول اور فعل میں‘ علم اور عمل میں“۔ (ضیاء القرآن ص:۵۵۸ ج‘۱)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
” اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرم ا کو فرماتے ہیں کہ ان عقل کے دشمنوں کو صاف صاف بتادو کہ تمہاری اس خواہش کا پورا کرنا میرے حیطہٴ امکان سے خارج ہے‘ قدرت نے مجھے اپنے کلام کا امین بنایاہے‘ میں اس میں خیانت کا تصور تک نہیں کرسکتا‘ میرا فرض تو بس اتنا ہے کہ جو کچھ میرا رب حکم فرمائے‘ بلاکم وکاست اسے پہنچادوں‘ تم سرکشی اور نافرمانی کی جرأت کرسکتے ہو‘ مجھ سے تو یہ ہو نہیں سکتا‘ اس کے قہر وغضب کی جو بجلیاں کوند رہی ہیں‘ تمہاری آنکھیں تو نہ دیکھ سکتی ہوں گی‘ لیکن میں تو ان سے چشم پوشی نہیں کرسکتا‘ اگر میں تمہیں خوش کرنے کے لئے کلام الٰہی میں ذرہ بھر کمی بیشی کروں تو کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ روزِ حشر خداوند ذو الجلال کے عذاب سے مجھے چھڑا سکو“۔ (ضیاء القرآن ص:۲۵۸ ج‘۲)
مسئلہ علم غیب کے بارے میں مفسرین کرام کی تصریحات بحوالہ علامہ بغوی  اورمعالم التنزیل ضیاء القرآن میں لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ جس کو اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے اس کو جس غیب پر چاہتاہے‘ آگاہ کردیتاہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں: پھر ان رسولوں کو جن کو اس نے چنا ہے مستثنیٰ کردیا‘ بس ان کو جتنا چاہا اپنے غیب کا علم بطریقہ وحی عطا فرمایا۔
ابوحیان اندلسی رقمطراز ہیں:
یعنی رسول مرتضیٰ اکو جتنے غیب پر وہ چاہتاہے مطلع کردیتاہے۔
علامہ ابن جریر طبری نے حضرت عباس‘ قتادہ اور بنی زید سے آیت کی یہی تفسیر نقل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کوچن لیتاہے اور انہیں غیب میں سے جتنا چاہتاہے اس پر آگاہ کردیتاہے۔(ضیاء القرآن ص:۳۹۷‘ج:۵)
پیر محمد کرم شاہ صاحب نے اصل کتب تفاسیر سے عربی عبارات بھی نقل کی ہیں‘ ہم نے ان کے قلم سے صرف اردو ترجمہ نقل کیا ہے‘ اسی صفحہ کے آخر میں پیر صاحب نے خلاصہ درج فرمایاہے جو یہ ہے :
”سلامتی اسی میں ہے کہ ہم آیات کو وہ معانی نہ پہنائیں جن کو ان کے کلمات قبول نہیں کرتے (کاش! کہ پیر صاحب اور ان کے پیشرو”اعلیٰحضرت“ و”صدر الافاضل“ یہی طریقہ اختیار کرتے۔ ناقل) اور سیدھی اور صاف بات جو قرآن نے فرمائی ہے‘ اس کو صدق دل سے تسلیم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام غیبوں کو جاننے والا ہے اور اپنے ان علوم غیبیہ پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا‘ بجز اپنے رسولوں کے ان کو جتنا چاہتاہے‘ علوم غیبیہ عطا فرماتاہے“۔
قارئین کرام! تفسیر ضیاء القرآن کے مندرجہ بالا اقتباسات سے مسئلہ بشریت انبیاء علیہم السلام‘ مسئلہ علم غیب اور مسئلہ مختار کل کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اور ان مسائل میں دیوبندی‘ بریلوی تنازع کافی حد تک کم ہوسکتاہے‘ بالخصوص تفسیر ضیاء القرآن کا آخری اقتباس تو مذکورہ تنازع کو حل کرنے کے لئے ایک بنیاد فراہم کرتاہے‘ اگرچہ پیر صاحب کے آخری اقتباس کے آخری الفاظ میں اپنے اصول سے انحراف کرتے ہوئے ڈنڈی مار گئے ہیں:”جتنا چاہتاہے علوم غیبیہ پر مطلع فرماتاہے“ کا جملہ زیادہ بہتر تھا پیر صاحب والے جملہ کو قرآن پاک کے کلمات قبول نہیں کرتے‘ لیکن پیر صاحب بیچارے ذاتی وعطائی کے چکر میں اعلیٰ حضرت کی اقتداء بلااہتداء میں پھنسے ہوئے ہیں‘ حالانکہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کے علاوہ انبیاء ورسل کے لئے اطلاع اور اخبار کا لفظ استعمال کیا ہے‘ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کوافتراق وانتشار سے محفوظ فرمائے اور قرآن وسنت کے نورانی راستہ پر چل کراپنی عاقبت کے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین․