
Jun 14, 2009
May 11, 2009
May 5, 2009
Mar 29, 2009
انبیاء کے کرداروں پر مشتمل فلم کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمأ کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں نے بازار سے چند سی ڈیز خریدیں جو بظاہر حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کی معلومات پر بنی تھیں، لیکن جب میں نے انہیں دیکھا تو ان میں باقاعدہ اردو زبان میں ترجمے کے ساتھ مختلف افراد کو انبیأعلیہم السلام کی شکل میں دکھاکر ان کی زندگی کے مختلف واقعات قلم بند کئے گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر بنائی گئی فلم میں انہیں بازار میں فروخت ہوتے ہوئے‘ زلیخا کی جانب سے آپ سے جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ حضرت یعقوب علیہ السلام سمیت ان کے تمام دس بیٹوں کو بھی دکھا یا گیا‘ فلم کے بعض مناظر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو (معاذ اللہ) اپنی حاملہ بیوی سے بوس وکنار کرتے‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کی صاحبزادی کو شراب پیتے ہوئے بتایا گیا‘ بعد ازاں ان کے ساتھ زیادتی کا واقعہ بھی بنایاگیا۔حضرت سارہ کو نیم برہنہ حالت‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اپنی خادمہ ہاجرہ کے ساتھ تعلقات اور اس کے نتیجے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی فلم کا حصہ ہیں۔پردہ کے پیچھے سے آنے والی انسانی آواز کو اللہ کی آواز قرار دے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو ختنہ کے احکامات دئیے گئے ہیں‘ جبکہ ایک بڑی سی چادر اوڑھے شخص کو اللہ کہہ کر (معاذ اللہ) اس کے ہمراہ دو انسانوں کو فرشتوں کے روپ میں بھی دکھایا گیا ہے جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں۔فلم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربان گاہ لے جانے اور مینڈھے کے آنے کے مناظر بھی موجود ہیں ”کلام مقدس“ کے نام سے بنائی گئی فلم میں زمین کی تخلیق کے مراحل‘ کلین شیو شخص کو مکمل برہنہ حالت میں حضرت آدم علیہ السلام اور مکمل برہنہ عورت کو حضرت حوا کے روپ میں پیش کرکے جنت سے پھل کھانے کے بعد دنیا میں بھیجے جانے کی تفصیلات موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کی روشنی میں سوال ہے کہ:الف: اس قسم کی سی ڈیز کی کھلے عام فروخت‘ اس کے بنانے والوں کے بارے میں شرعی حکم اور سزا کیا ہے؟ نیز حکومت اس کی روک تھام کی کس حد تک ذمہ دار ہے‘ اور اگر حکومت ایسی سی ڈیز کی روک تھام نہیں کرتی تو ایک عام مسلمان کس حد میں رہتے ہوئے ان سی ڈیز کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے؟ب: ان سی ڈیز کو کیبل نیٹ ورک پر چلانے والے کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا ایسے کیبل نیٹ ورک کو مسلمان بزور قوت اس عمل سے باز رکھ سکتے ہیں؟
سائل : عارف محمود
گلشن ظہور ،جیکب لائن کراچی
جواب
دار الافتأ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں چند سی ڈیز‘ جوانبیأ اکرام علیہم السلام کے بارے میں بنائی گئی ہیں‘ لائی گئیں اور اس بارے میں ”دار الافتأ“ سے شرعی رائے پوچھی گئی اوران میں موجود مواد کی تفصیلات مذکورہ سوال میں ذکر کردی گئی ہیں‘ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد جواب دینے سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ حضرات انبیأ کرام علیہم السلام‘ جیسے مسلمانوں کے ہاں قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں بھی قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اور عیسائی ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں‘ بایں ہمہ عیسائیوں کو ایسی حرکتیں کرنا قطعاً زیب نہیں دیتا‘ ان انبیأ کرام علیہم السلام کو مقدس اور قابل احترام جاننے اور ماننے کے دعوے کے بعد عیسائیوں کی‘ا س طرح کی نازیبااور سوقیانہ حرکتیں کرنا‘ انتہائی شرمناک‘افسوس ناک اور ناقابل فہم ہے۔عیسائیوں کی کسی تنظیم کی طرف سے حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کے بارے میں اس طرح کی فحش اور گھٹیا فلمیں بناکر انبیأ کرام علیہم السلام کے روپ میں عام انسانوں کو نبی کے طور پر پیش کرنا‘ انبیأ کرام کی توہین وتنقیص ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خود عیسائی نادانستہ طور پر یہودی لابی کی سازشوں کا شکار ہورہے ہوں، جیساکہ کلام مقدس کے نام کی سی ڈی کے ڈیزائن میں یہودیوں کا مشہور ومعروف چھ کونوں والا ستارہ نمایاں طور پر دکھا یا گیا ہے‘ دختران پولوس نامی عیسائی تنظیم ان سی ڈیز کی نشر واشاعت کا کام کر رہی ہے‘ حالانکہ پولوس در پردہ کٹر یہودی تھا جو دین عیسوی کو بگاڑنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں شامل ہوا تھا اور اسی کی سازشوں سے دین عیسوی کو بہت زیادہ نقصان ہوا (اور اپنی اصلی صورت تھوڑا عرصہ گذرنے کے بعد کھو بیٹھا) غالباً موجودہ زمانے میں اسی پولوس کے نام پر یہ دختران پولوس نامی تنظیم اسی کے مقصدکو پورا کرنے کے لئے کام کررہی ہے‘ تاکہ انبیأ کرام علیہم السلام کا جو احترام عیسائیوں کے دلوں میں ہے اس کو ان کے دلوں سے اکھاڑ پھینکا جائے‘ بہرحال اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں‘ انبیأ کرام علیہم السلام‘ مسلمانوں کے ہاں معصوم اور گناہوں سے پاک ہستیاں ہیں‘ جیسے نبی آخر الزمان ا کی توہین وتنقیص کفر اور موجب سزائے موت ہے‘ اسی طرح دیگر تمام انبیأ کرام علیہم السلام یا ان میں سے کسی ایک نبی علیہ السلام کے بارے میں فلمیں بنوانا اور عام گناہگار انسانوں کو انبیأ کرام جیسی معصوم اور مقدس ہستیوں کے طور پر پیش کرنا اور اللہ تعالیٰ کے معصوم اور مقدس انبیأ کرام علیہم السلام کو نازیبا حرکتیں کرتے ہوئے دکھانا‘ انبیأ کرام کی کھلی توہین وتنقیص ہے۔لہذا حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کفر وارتداد پھیلانے والی سی ڈیز کو ضبط کرکے ضائع کرے اور آئندہ کے لئے ایسا قانون پاس کرے ‘ جس سے ایسے کفریہ وتوہین آمیز کاموں کا سدِ باب ہوسکے، جیساکہ معلوم ہوا ہے کہ یہ سی ڈیز باہر سے در آمد کی گئیں ہیں، تو حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان ”سی ڈیز“ کے درآمد کرنے والوں اورتمام متعلقہ افراد کو عبرت ناک سزا دے اور ان سے سخت باز پرس کرکے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔اس کے ساتھ علمأ کرام اور عوام کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ ان سی ڈیز کے خلاف آواز بلند کریں اور ان کی بندش وضبطی کی ہر ممکن کوشش کریں‘ اور تاجر حضرات ان کی خرید وفروخت سے کلیةً باز آئیں کہ ان کی خرید وفروخت ناجائز وحرام ہے۔ان سی ڈیز میں توہین انبیأ کرام سے ہٹ کر بعض احکامات کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیساکہ ”عمل ختنہ“ کو حضرت یعقوب علیہ السلام سے منسوب کیاگیاہے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا تھا‘ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح (قربان ہونے والا) دکھایا گیاہے‘ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام۔
الجواب صحیحح
کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
محمد داؤد
عبد الستار حامد
دار الافتاء بنوری ٹاوٴن کراچی
بینات شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ بمطابق اکتوبر ۲۰۰۵ء
http://www.banuri.edu.pk/node/554
معیارحق۔ عصمت و حفاظت۔ تنقید صحاب
۱۔ معیار حق کی تعریف و تشریح کیجئے۔
۲۔کیا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین معیار حق ہیں؟ اگر معیار حق ہیں تو ان کے درمیان جو اختلاف آتاہے اس وقت ایک رائے کو لینے اور دوسری رائے کو چھوڑنے سے کیامعیار حق پر اثر نہیں پڑے گا؟
۳۔کیا رضاء الہٰی کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ عصمت سے ہوتی ہے؟
۴۔کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا جائزہے؟ اگر ہے تو کسی نے کسی صحابی پر تنقید کی ہے؟
۵۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید جائز سمجھی جائے توکیا اس آیت کریمہ پر اثر نہیں پڑے گا؟
”واعلموا أن فیکم رسول اللّٰہ لو یطیعکم فی کثیر من الأمر لعنتم ولکن الله حبب الیکم الإیمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان“۔ آلایة (الحجرات :۷)
۶۔کیا ایسی بھی کوئی جگہ ہے کہ صحابہ کی رائے ہوتے ہوئے کسی نے اپنی رائے پر عمل کیا ہو اور صحابی کی رائے کو چھوڑ دیا ہو۔؟
جواب
۱۔معیار حق کوئی قرآنی یا حدیثی، فقہی اصطلاح نہیں،ایک خاص مفہوم کے پیش نظر ادبی وانشائی طور پر یہ لفظ استعمال کیا گیاہے۔
”کل یوٴخذ من قولہ و یترک إلا صاحب ھذا القبر صلی الله علیہ وسلم“۔
جیسا کہ امام مالک کا مقولہ ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن اس کو جس مفہوم میں استعمال کرنے کے بعد اس سے جو نتائج نکالے جارہے ہیں۔ اکثر صحیح نہیں ہے۔
۲۔سنت اور بدعت کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے، کہ جو عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ وعہد صحابہ میں دین کا جزو نہ بن سکا۔ (۱)
اس لئے احادیث میں سنت نبویہ اور سنت خلفاء راشدین کے تمسک کا حکم دیا گیا
(۲)اور صحابہ کے بارے میں تصریح فرمادی گئی کہ جو دین کا کام وہ کریں گے وہ غلط نہیں ہوسکتا وہ بدعت نہ ہوگی۔ اگر اختلاف پایا جائے تو ان میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جائے توخروج عن الدین نہ ہوگا۔ (۳)اور اگر سب متفق ہوگئے تو صورت اجماع کی ہوجاتی ہے، اتباع اس کی فرض ہوجاتی ہے اب کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیار حق نہیں ہیں، صرف آنحضرت صلی الله علیہ وسلم معیار حق ہیں تو اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ اگر حدیث نبوی موجود نہیں تو تعامل صحابہ یا سنت صحابہ حجت نہیں یہ کتنی غلط بات ہوگی اور اس پر مستزاد یہ بھی کہا جائے کہ کبھی کبھی انبیاء سے بتقاضائے شریعت ایسی بات ظہو رمیں آسکتی ہے جو عصمت کے خلاف ہو تو بات انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے ،گویا نبی باوجود عصمت کے احیاناً غیر معصوم ہوسکتاہے اس طرح عصمت سے بھی امان اُٹھ جاتاہے، ہر وقت یہ احتمال قائم رہتاہے، کہ اس وقت شاید وہ غیر معصومانہ حالت ہو۔
۳۔رضاء الہٰی سے اتنی بات ضرور ثابت ہوجاتی ہے کہ صحابی سے کوئی بات ایسی ظاہر نہیں ہوسکتی ہے جو نجات کے منافی ہو اگر کوئی شخص غیر معصوم بھی ہو تو یہ کیا ضروری ہے کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کام کرے گا؟ اور گناہ بھی کرے گا؟ بہت سے صالحین امت غیر معصوم ہیں، لیکن اس کے باوجود ان سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ عصمت سے گناہ کا صدور ہو نہیں سکتا، رضاء کا ثمرہ یہ ہے کہ گناہ ہوتا نہیں اگر چہ ناممکن نہ ہونے کا امکان ہے۔ لیکن کسی چیز کے امکان کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ واقع ہوجائے۔ بہرحال اس کو محفوظ کہیں یا اور کوئی لفظ اس حقیقت کو ظاہر کرے۔
۴۔صحابہ ہماری تنقید سے بالا تر ہیں۔”الله، الله فی اصحابی لا تتخذوھم غرضاً من بعدی“…الخ وغیرہ احادیث میں تصریح ہے۔(۴)
۵۔جواب نمبر۴ سے جواب معلوم ہوگیا تنقید جائز نہیں۔
۶۔بظاہر اس کی نظیر اختلافات ائمہ میں نہیں ملے گی، کہ حدیث میں کوئی تصریح نہ ہو، اور پھر صحابہ میں ان کا تعامل موجود ہو، اس کو ترک کردیا جائے، اور صرف اپنی رائے سے کام لیا جائے، البتہ اس کے نظائر بہت ہیں ،کہ صحابہ میں آراء کااختلاف رہا‘ان میں کسی ایک کو ترک کیا گیا ،اور دوسرے کو اختیار کیا گیا۔اس وقت بہت عجلت میں یہ چند سطریں لکھ سکا، مزید تفصیل و دلائل کی اس وقت فرصت نہیں۔
فقط والله اعلم
بینات -ذوالقعدہ۱۳۸۵ھ مطابق مارچ ۱۹۶۶ء
جلد : ۷ شمارہ:۵ ,ص: ۵۷، ۵۹
حوالہ جات
________________________________________________________________________
(۱) ”الابداع فی مضار الابتداع ،للشیخ علی محفوظ- طریقة ثانیة فی معنی البدعة“ -ص:۱۷، ط:المکتبة العلمیة بالمدینة المنورة۔الطبعة الخامسة۱۳۹۱ھمطابق ۱۹۷۱ء ولفظہ: ”ما احدث بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم أو بعد القرون المشھود لھم بالخیرخیراً کان او شراً عبادةً او عادةًوھی مایراد بہ عرض دنیوی…الخ“۔
(۲) سنن الترمذی - ابواب المناقب- باب من سب اصحاب النبی -۲/۲۲۵․ط: ایچ ،ایم سعید کراچی ۱۹۸۸ء۔
(۳) مشکوةالمصابیح،باب الاعتصام بالکتاب والسنة ، الفصل الثانی ،عن العرباض بن ساریة … فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین-۱/۲۹،۳۰․ط: قدیمی کراچی ۱۳۶۸ھ۔
(۴)مشکوة المصابیح ،باب مناقب الصحابة ، الفصل الثانی،-۲/۵۵۴۔ط: قدیمی ۱۳۶۸ھ کراچی، وفیہ ایضاً۔عن عمر بن الخطاب رضی الله عنہ قال: سمعت رسول الله یقول: سألت ربی عن اختلاف اصحابی من بعدی فاوحی الی یا محمد! ان اصحابک عندی بمنزلة النجوم فی السماء بعضھا اقوی من بعض ولکل نور فمن اخذ بشئ مما ھم علیہ من اختلافھم فھو عندی علی ھدی
Mar 5, 2009
ناپاکی کی حالت میں تلاوت قرآن اور عورت کی امامت کا حکم
۱-یہ خواتین کون سے مسلک سے تعلق رکھتی ہیں ۔ نیز ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنا یا ان کی کسی اور طریقے سے معاونت کرنے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
۲- ان مدارس میں حیض ونفاس کے ایام میں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے یعنی حائضہ قرآن کریم پڑھتی بھی ہے اور پڑھاتی بھی ہے اور کپڑے ‘ تولیہ وغیرہ سے مستقل قرآن کریم پکڑے بھی رہتی ہے اور ایک دو گھنٹے تک پکڑے رہنے کی وجہ سے کبھی کبھی قرآن کریم کے صفحات پر ہاتھ بھی لگ جاتاہے۔
۳-ان مدارس میں خواتین کی جماعت کرائی جاتی ہے‘ اس صورت میں کہ عورت ہی امام اور عورت ہی مقتدی ہوتی ہے‘ خاص طور پر نوافل کی جماعت جس میں ہرجمعہ کو صلوٰة التسبیح بڑے اہتمام سے پڑھائی جاتی ہے‘ دور دور سے خواتین اس نماز میں شریک ہونے کے لئے آتی ہیں‘ نیز اس طرح رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت بھی بڑے اہتمام سے کروائی جاتی ہے اور اس میں زیادہ اجر وثواب سمجھاجاتاہے اور باقاعدہ خواتین کو جمع کیا جاتاہے۔ کیا شریعت کی رو سے خواتین کی جماعت خصوصاً نفل جماعت کرنا جائز ہے؟
۴- یہاں کی معلمات اور صدر مدرسہ بھی دور دراز سفر کرکے بغیر محرم کے تنہاء اور چند خواتین مل کر بھی بذریعہ جہاز یا ریل گاڑی سے طے کر لیتی ہیں‘ مثلاً: پنجاب سے کراچی اور کراچی سے پنجاب سفر کرنا تو معمولی بات ہے۔کیا خواتین کا تنہاء بغیر محرم کے سفر کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟
۵- خواتین حیض کے ایام میں جو گدّی وغیرہ استعمال کرتی ہیں اس کو دھونے کی خاص تاکید کی جاتی ہے اور یہ حدیث سنائی جاتی ہے کہ : ”جو عورت حیض کی استعمال شدہ گدّی نہ دھوئے اور پھینک دے تو وہ قیامت کے دن ترکرکے اس کے منہ میں نچوڑی جائے گی“۔ اس حدیث کا کیا حکم ہے؟ نیز حیض کی استعمال شدہ گدی کو دھونے یا پھینک دینے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟۔
۶- ان مدارس کی تعلیمات کے مطابق خواتین کو نماز مردوں کے طریقے سے پڑھائی جاتی ہے‘ کیا عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے؟ جبکہ مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب کا تحریر شدہ ایک فتویٰ جو کہ کتابچے کی شکل میں ”خواتین کی نماز“ کے نام سے موجود ہے‘ اس میں احادیث سے ثابت کیا گیا ہے کہ خواتین کی نماز کا طریقہ مردوں کی نماز سے مختلف ہے اور چاروں ائمہ اس پر متفق ہیں۔ اگر ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں تو پھر اس بارے میں اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنا اور یہ دلیل دینا کہ حضور علیہ السلام مردوں کے لئے بھی نبی تھے اور عورتوں کے لئے بھی‘ لہذا جیسی نماز انہوں نے پڑھی‘ عورتیں بھی ویسی نماز پڑھیں گی اور بخاری شریف کی احادیث کا حوالہ دیتی ہیں‘ جبکہ بخاری شریف میں جہاں آپ علیہ السلام کی نمازوں کا ذکر ہے وہاں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ عورتیں بھی بالکل ایسی ہی نماز پڑھیں‘ اسی طرح اور بھی کچھ مسائل سمجھ میں نہ آنے والے ہیں۔ مستفتی: محمد اعظم شبیر‘ باغ رضوان‘ بلاک نمبر: ۱۶ گلشن اقبال کراچی۔
مذکورہ احادیث مبارکہ اور ان جیسی دوسری احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں اور ان ہی احادیث کی بناء پر جمہور علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں۔ چنانچہ امام نووی فرماتے ہیں:
عورت نمازمیں سمٹ کر سرین کے بل بیٹھے ‘ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت علی فرماتے ہیں کہ:
محمد شفیق عارف
محمد شبیر
متخصص فقہ اسلامی جامعہ علوم اسلامیہ
چست کپڑے اور واٹرپروف میک اپ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں :
۱:․․․․عورتوں کے لئے چست کپڑے پہننا اس طور پر کہ ان کے اعضاء واضح طور پر جھلکنے لگیں‘ یہ کیسا ہے؟ اسی طرح جو درزی یہ کپڑے بناتے ہیں ان کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟
۲:․․․․ عورتوں کا واٹر پروف میک اپ کروانا‘ جن میں حرام اشیاء کا استعمال ہوتا ہے‘ آیا یہ جائز ہے نہیں؟
الجواب بعون الوہاب
فتاویٰ شامی میں ہے:
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
”وقال ابو حنیفة ولاینتفع من الخنزیر بجلدہ ولاغیرہ ․․․․“ (۵/۳۵۴)
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری
محمد شفیق عارف
سید سہیل علی
متخصص جامعہ علوم اسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
ATMکی سہولت پر بینک کا چارجز لینا‘ دینا
۱- دریافت یہ کرنا ہے کہ ATM کی سہولت فراہم کرنے والے بینک کو چارجز دینا اور بینک کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
۲- بسا اوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ دیگر کچھ بینکوں سے معاہدہ ہوجاتا ہے‘ ایسے بینک ATMکارڈ مشین کے استعمال پر چارجز نہیں لیتے اور کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوتی تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟
سائل:عبد الرحمن جمشید روڈ‘ کراچی
کشف القناع میں ہے:
متخصص فی الفقہ الاسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام
حق تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے وحی آسمانی کا سلسلہ جاری فرمایا‘ اس کے لئے جن برگزیدہ نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا‘ اسلامی زبان میں انہیں انبیاء ورسل کہتے ہیں‘ ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عصمت کی ضمانت دی جاتی ہے یعنی ان کا ہرقول وفعل شیطانی تسلط اور نفسانی خواہش سے پاک ہوتا ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
۱- توحید ورسالت کے اقرار کے بعد اسلام میں سب سے پہلی عبادت صلاة یعنی نماز ہے‘ اس عبادت کا سلسلہ ابتداء اسلام ہی سے قائم ہوگیا تھا‘ معراج سے پہلے صبح وشام کی دو نمازیں فرض تھیں اور اسراء کے بعد پانچ نمازوں کی فرضیت نازل ہوئی‘ مگر قرآن کریم میں اس وقت تک نماز کے اوقات کی تفضیل نہ تھی‘ اس فریضہ کو امت نے آنحضرت ا ہی سے لیا اور اس پر عمل کیا۔
۲- نماز کا جو نقشہ آپ ا نے قولاً وعملاً پیش فرمایا کہ اللہ اکبر سے شروع ہو اور السلام علیکم پر ختم ہو‘ اس میں قیام ہو‘ قرأت ہو‘ رکوع وسجود ہو‘ جلسہ وقومہ ہو اور رکعتیں کبھی دو ہوں کبھی تین کبھی چار وغیرہ وغیرہ‘ ان تمام تفصیلات کی طرف قرآن کریم میں کہیں اشارے تو موجود ہیں‘ لیکن یہ مفصل نقشہ امت نے آپ ا ہی کے قول وعمل سے سیکھا اور اس پر عمل کیا‘ نہ قرآن کریم پر اس کا مدار نہ اس میں ذکر کا انتظار۔
۳- نماز کے لئے طہارت ووضو وغیرہ کے لئے آپ ا نے ہی ہدایت فرمائی اور امت نے اس پر عمل کیا‘ تقریباً اٹھارہ سال بعد سورہٴ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی جب کہ امت اٹھارہ سال سے آپ ا کی ہدایت پر عمل پیرا تھی۔
۴- آنحضرت ا مدینہ طیبہ تشریف لائے تو امت کو نماز میں بیت المقدس کے استقبال کا حکم فرمایا‘ سولہ‘ سترہ مہینے اس پر عمل رہا‘ اس کے بعد قرآ ن کریم میں بیت اللہ شریف کے استقبال کا حکم ہوا‘ بیت المقدس کے استقبال کا حکم قرآن میں نازل نہیں ہوا تھا‘ لیکن آنحضرت ا کے بیان فرمودہ کم کی قرآن کریم نے تصدیق کی ۔
۱- الحدیث والمحدثون ،محمد محمد ابوزہرہ (عربی) ۲- السنة قبل التدوین، محمد عجاج خطیب (عربی)
۳- الانوار الکاشفة ،شیخ عبد الرحمن یمانی // ۴- ظلمات ابی ربہ، شیخ محمد عبد الرزاق حمزہ //
۵- کتاب السنة ،موسیٰ جار اللہ قازانی // ۶- فی الحدیث النبوی ،شیخ مصطفی زرقا شامی//
۷- تدوین حدیث مولانا مناظر احسن گیلانی اردو ۸- بصائر السنة ،مولانا امین الحق صاحب طوری (اردو)
۹- فتنہٴ انکار حدیث افتخار احمد بلخی ۱۰- فتنہٴ انکار حدیث مولانا سرفراز صاحب
۱۱- سنت قرآن کریم کی روشنی میں مولانا غفار حسن ۱۲- حدیث قرآن کریم کی نظر میں از راقم الحروف
۱۳- احادیث النبی الکریم اپروفیسر روحی ۱۴- سنت کا تشریعی مقام مولانا محمد ادریس میرٹھی
۱۵- Stadies in Eorly Haddh titenatur ڈاکٹر مصطفی اعظمی ،انگریزی
مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے درجہ تخصص کے رفقاء نے حسبِ ذیل مقالات کتابی شکل میں مرتب کئے ہیں:
الف: السنة النبویة والقرآن الکریم : للأستاذ محمد حبیب اللہ المختار عربی‘ اردو
ب: وسائل حفظ الحدیث وجہود الامة فی ذلک : از مولوی عبد الحکیم سلہٹی اردو
ج: علم مصطلح الحدیث واسماء الرجال وثمراتہ : از مولوی عبد الحق دیروی ‘ عربی
د: کتابة الحدیث وادوار تدوینہ: از مولوی محمد اسحاق سلہٹی ‘ اردو
ھ: الکتب المدونة فی الحدیث واصنافہا وخصائصہا : از مولوی محمد زمان کلاچوی‘ عربی
و: الصحابة وما رووہ من الاحادیث : از مولوی حبیب اللہ مہمندی‘ عربی
یہ چھ کتابیں ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئیں جس وقت امت کے سامنے یہ ذخیرہ آئے گا دنیا حیرت میں رہ جائے گی۔
اسی قیمتی ذخیرہ کی ایک قابلِ قدر کتاب الشیخ مصطفی سباعی مرحوم کی تالیف: السنة ومکانتہا فی التشریع الإسلامی“ اپنے موضوع پر اہم ترین کتاب ہے جو گیارہ سال قبل قاہرہ میں طبع ہوئی تھی‘ مؤلف موصوف اپنے وقت کے بہترین خطیب اور پُر جوش صاحب قلم تھے‘ موصوف نے ازہر سے عالمیت واستاذیت کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یہ موضوع اختیار کیا تھا‘ چنانچہ پورے ایک سو مآخذ سے یہ کتاب نہایت فصیح وبلیغ زبان اور شیرین وشگفتہ اسلوب میں تحریر کی‘ یہ کتاب تیس کے قریب بڑے بڑے عنوانات پر مشتمل ہے‘ جن میں سنت نبوی کے ہرگوشہ پر شافی بحث کی گئی ہے‘ ضمنی بحثیں نہایت عمدہ اور عجیب وغریب آتی ہیں ‘ مستشرقین کی خرافات وشبہات کے نہایت مؤثر اور فاضلانہ ومحققانہ جوابات کتاب کا بہترین اور قیمتی حصہ ہیں‘ اگر اس کتاب میں اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس کتاب کی قیمت کے لئے کافی تھا۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی کے دار التصنیف نے چاہا کہ اس گنجِ گراں مایہ کو اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ نئی نسل میں یورپ کے پھیلائے ہوئے زہر کے لئے تریاق کا کام دے اور جدیدافکار میں سرایت کردہ سمت کے لئے اکسیر اعظم اور کبریتِ احمر ثابت ہو‘ ترجمہ کے لئے ہمارے مدرسہ کے درجہٴ تکمیل کے فارغ التحصیل مولانا احمد حسن ایم اے کا انتخاب کیا گیا اور اس پر مولانا محمد ادریس میرٹھی استاذِ حدیث مدرسہ عربیہ کی نظر اصلاحی نے سونے پر سہاگہ کا کام دیا‘ جلدِ اول طبع ہوچکی اور جلد دوم عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہوگی‘ دعا ہے کہ حق تعالیٰ ہماری نئی نسل کو نئے فتنوں سے بچائے اور شیاطین یورپ ان کی متاعِ ایمانی کو لوٹنے کی جو تدبیریں کررہے ہیں انہیں خاک میں ملا دے۔
غیر عالم دین کا درسِ قرآن دینا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
میں بہادر آباد محلہ کا رہائشی ہوں اور اس کی مرکزی مسجد ”․․․․․․․․“ کا نمازی ہوں مسجد اور اس کے نمازی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں‘ اہل محلہ اور نمازیوں کی دینی تربیت کے پیش نظر مسجد میں ہفتہ وار مختلف علمائے کرام کے درس ہوتے ہیں‘ جن سے ہمیں بے حد دینی فائدہ محسوس ہوتا ہے‘ ماہِ مبارک میں یہاں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کسی معتمد اور مستند عالم دین کو بلاکر ان سے درسِ قرآن دلوایاجاتا ہے‘ چنانچہ اسی سلسلے میں حضرت مفتی عتیق الرحمن شہید اور مولانا عزیز الرحمن صاحب استاذ حدیث جامعہ عثمانیہ بھی تشریف لاچکے ہیں‘ امسال انتہائی حیرت انگیز طور پر ”تنظیم اسلامی“ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو․․․․․․․․ درسِ قرآن کے لئے بلایا گیا اور تاحال ان کا درس جاری ہے۔ بندہ اور اس کے ہم فکر دینی درد رکھنے والے بہت سے نمازیوں کو اس بارے میں سخت تشویش اور ذہنی پریشانی کا سامنا ہے۔ مذکورہ بالا صورت کے تناظر میں آنجناب سے ان چند امور سے متعلق وضاحت مطلوب ہے:
۱- ایک غیر عالم اور مزید یہ کہ تنظیم اسلامی کے نظریات کے حامل شخص کو مسجد کے منبر پر درس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے کیا حکم رکھتا ہے‘ جبکہ تفسیر قرآن کی اہمیت ونزاکت کی بنا پر متعدد علوم پر دسترس ہونا مفسر کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے؟
۲- اس علاقے میں بیسیوں علمائے کرام کے ہوتے ہوئے موصوف کو درس کے لئے منتخب کرنا کیا علم دین کی ناقدری میں شمار نہیں ہوگا؟
۳- درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار کیا ہے؟ براہ مہربانی وضاحت سے تحریر فرمائیں۔
۴- موجودہ حالات میں ․․․ جبکہ یہ درس قرآن کے تقدس اور مسلک دیوبند کے تحفظ کا مسئلہ ہے اور اس سلسلہ کے جاری رہنے میں علاقے کی دینی اور نظریاتی فضا مسموم ہونے اور نمازیوں میں انتشار کا خدشہ بھی ہے ․․․ ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
آنجناب سے گذارش ہے کہ ان امور کے بارے میں وضاحت کے ساتھ جواب تحریر فرماکر عند اللہ وعند الناس ماجور ہوں۔
مستفتی:حسن شاہ
مزید برآں جو شخص نظریاتی وفکری طور پر زیغ وضلال کا شکار ہو‘ عملی اعتبار سے بدعت وکجروی اور بے راہ روی کا علمبردار ہو اور روحانی لحاظ سے تکبر وغرور‘ نفس پرستی اور حب جاہ وحب مال کے علاوہ نفسانی خواہشات سے دوچار ہو تو حضرت لدھیانوی شہید کے بقول ایسا شخص جو تفسیر لکھے اور بیان کرے گا وہ قرآن کریم کی تفسیر نہیں ہوگی‘ بلکہ اس کے بدعت آلودذہن کا بخار اور بیمار دل کا تعفن ہوگا‘ ایسے فکری وروحانی مریضوں کے لئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنا یا درسِ قرآن دینا تو کجا‘ علمأ تفسیر کے بقول قرآن فہمی کی کوشش کرنا بھی حرام ہے‘ کیونکہ ان لوگوں کی بیمار ذہنیت اور نفسانی خواہش کے غلبہ کی وجہ سے انہیں ہر ہر موقع پر اپنی بیماری اور نفسانیت کا عکس نظر آئے گا اور اپنے فاسد افکار وخیالات ‘ خود ساختہ تعبیرات وتشریحات کو عوام الناس کے سامنے قرآنی طشت میں رکھ کر پیش کرے گا اور لوگ اس کی جہالت کو علم‘ اس کی فاسد آراء کو قرآن کی تفسیر خیال کرتے ہوئے اسے اپنا پیشوا اور مقتدیٰ کے درجہ پر بٹھا لیں گے‘ اس طرح معاشرہ میں ضلالت وگمراہی کا طوفان برپا ہوجائے گا‘ چنانچہ ”الاتقان“ میں امام زرکشی کی ”البرہان“ کے حوالہ سے مذکور ہے جو پورے سوالنامہ کے جواب کے لئے بھی کافی ہے:
الغرض جو شخص کسی بھی طور پر یعنی علمی‘ عملی‘ فکری واعتقادی‘ نیز دین ودیانت کے لحاظ سے قرآن کریم کی تفہیم وتشریح کا اہل اور حقدار نہ ہو‘ اگر وہ اس منصب پر بیٹھ کر تفسیر قرآن کے نام پر رائے زنی کرے گا تو وہ نہ صرف یہ کہ حرام کا مرتکب ہوگا‘ بلکہ ان تمام وعیدات کا مصداق ومستحق بھی ہوگا جو حضور ا نے ”رائے وتخمین“ کے ذریعہ تفسیر کرنے والوں کے بارے میں فرمائی ہیں‘ جن میں سرفہرست یہ ارشاد گرامی ہے:
”جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے بغیر علم کے قرآن میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنائے“۔ (مشکوٰة:۳۵)
اس تفصیلی بحث سے سوالنامہ میں مذکور تمام سوالات کے جوابات تو کسی فرد‘ ادارہ یا تنظیم کا نام لئے بغیر تقریباً آچکے ہیں‘ تاہم اختصار کے ساتھ سوالوں کے ترتیب وار جوابات ذکر کئے جاتے ہیں:
۱- کسی بھی غیر عالم‘ بالخصوص جمہور علمأ امت کے افکار ونظریات سے منحرف شخص کو مسجد کے منبر پر مدرس قرآن کے منصب پر فائز کرنا شرعی نقطہٴ نگاہ سے بالکل ناجائز ہے۔
۲- مستند علمأ کے ہوتے ہوئے غیر مستند آدمی کو درس کے لئے بٹھانا نہ صرف یہ کہ علم دین کی ناقدری ہے‘ بلکہ قرآن کریم کے ساتھ زیادتی اور قرآن کی بے حرمتی بھی ہے۔
۳-درس قرآن کی اہلیت کا اصل معیار‘ تفسیر قرآن کے علمی مأخذ کی معرفت‘ وممارست‘ علمی رسوخ تام اور سلامتئی فکر ونظر ہے۔
۴- مذکورہ علاقہ کے صحیح العقیدہ مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ برائی کے ازالہ کے لئے اچھائی کی مقدور بھر کوشش کریں‘ مسلمانوں کے درمیان فتنہ وانتشار کی روک تھام کے لئے ”امر بالمعروف نہی عن المنکر“ کا احسن طریقہ اختیار کرتے ہوئے اہل محلہ‘ مسجد کمیٹی اور علاقہ کے بااثر حضرات کی باہمی مشاورت اور فہمائش کے ساتھ مذکورہ شخص کو فوری طور پر درس قرآن کی مصروفیت سے روک دیں تاکہ فاسد افکار ونظریات کی تبلیغ وترویج کا انسداد ہوسکے اور لوگوں کے درمیان فتنہ وانتشار برپا نہ ہو‘ نیز موصوف کی بجائے کسی مستند‘ راسخ العقیدہ‘ مضبوط عالم دین کو ان کی جگہ درسِ قرآن کے لئے مقرر کریں۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
Parents
Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) reported: The Prophet Sallallahu Alyhi Wa Sallam said, "The finest act of goodness is that a person should treat kindly the loved ones of his father". [Muslim]
Abdullah bin Dinar reported: `Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) met a bedouin on his way to Makkah, he greeted him, offered him to mount the donkey he was riding and gave him the turban he was wearing on his head. Ibn Dinar said to him: "May Allah make you pious! Bedouins can be satisfied with anything you give them (i.e., what you have given the bedouin is too much). Upon this, `Abdullah bin `Umar said, the father of this man was one of `Umar's friends whom he loved best, and I heard Messenger of Allah saying, "The finest act of goodness is the good treatment of someone whom one's father loves".
Another narration goes: When `Abdullah bin `Umar (May Allah be pleased with them) set out to Makkah, he kept a donkey with him to ride when he would get tired from the riding of the camel, and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey, a bedouin happened to pass by him. He (`Abdullah bin `Umar) said, "Aren't you so-and-so?'' The bedouin said, "Yes". He (`Abdullah bin `Umar) gave him his donkey and his turban and said, "Ride this donkey, and tie this turban round your head". Some of his companions said, "May Allah forgive you, you gave to this bedouin the donkey which you enjoyed to ride for change, and the turban which you tied round your head".`Abdullah bin `Umar said,"I heard Messenger of Allah Sallallahu Alyhi Wa Sallam saying, `The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death,' and the father of this person was a friend of `Umar (May Allah be pleased with him). [Muslim]
Commentary: This Hadith teaches that after the death of one's parents, one should maintain contact with their friends and treat them nicely. Besides being a great virtue it is warranted by the needs for showing compassion to relatives. To forget friends of one's parents and break contact with them is condemned by the Shari`ah.
Mar 4, 2009
داڑھی کی شرعی حیثیت
حضرات مفتیان کرام سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ اس مسئلہ کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کریں‘ اللہ پاک آپ حضرات کے علم وعمل میں برکت دے۔
محمد اطہر ارشد علوی گلی نمبر ۷ فیض کالونی ٹوبہ ٹیک سنگھ
۲:․․․ہم نے علمأ سے سنا ہے کہ داڑھی ایک بالشت سے کم رکھنا گناہ کبیرہ ہے‘ داڑھی ایک بالشت رکھنا ضروری ہے‘ لیکن ایک طبقہ (گروہ) کہتا ہے کہ داڑھی ایک بالشت رکھنا ضروری امر نہیں‘ بلکہ جتنی دل چاہے رکھ لی جائے یا اتنی رکھ لی جائے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہو کہ اس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے‘ اس اختلاف کو مضبوط اور واضح دلائل سے ضبط فرمائیں۔ ۳:․․․ یہ بات بھی واضح فرمائیں کہ جو شخص داڑھی کے بارہ میں مذکورہ بالا عقیدہ یا نظریہ رکھے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگرنماز جائز نہیں تو جو نمازیں ایسے امام کے پیچھے پڑھی گئیں ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ ان کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟۔
حدیث شریف میں حضرت عائشہ آنحضرت ا کا ارشاد مبارک نقل فرماتی ہیں:
صاحب مجمع البحار اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
اس حدیث شریف سے صاف ظاہر ہوگیا کہ داڑھی بڑھانے کا حکم تمام شریعتوں میں تھا اور یہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔
دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے:
ایک اور حدیث میں ”وارخوا اللحی“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ یعنی داڑھی لمبی کرو۔
ان احادیث مبارکہ میں آنحضرت ا صیغہٴ امر کے ساتھ داڑھی رکھنے کا حکم فرمارہے ہیں اور امر حقیقت میں وجوب کے لئے ہوتا ہے‘ نیز داڑھی منڈانے میں کفار‘ اناث (عورتیں) اور مخنثوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے‘ جس کا ناجائز اور حرام ہونا احادیث سے ثابت ہے‘ چنانچہ ابوداود شریف میں ہے:
داڑھی کا ایک مٹھی سے پہلے کٹانا یہ بھی یہود ونصاریٰ اور ایرانی‘ پارسیوں کے ساتھ مشابہت ہے‘ چنانچہ علمأ متاخرین میں عمدة الفقہاء حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری بذل المجہود میں تحریر فرماتے ہیں:
آگے تحریر فرماتے ہیں:
(بحوالہ جمال مسلم ص:۳۷‘۳۸)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
فتاویٰ شامی میں ہے:
اور تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:
اسی طرح فیض الباری شرح بخاری میں ہے:
اور حدیث شریف میں ہے:
حضرت مولانا عبد الرحیم لاجپوری صاحب اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ:
”جب داڑھی لٹکانے کے بجائے چڑھانے پر یہ وعید ہے تو منڈانے اور شرعی مقدار (قبضہ) سے کم کرنے پر کیا وعید ہوگی“۔(فتاویٰ رحیمیہ ج:۱۰‘ ص:۱۰۷)
الاختیار شرح المختار میں ہے:
حضرت امام غزالی تحریر فرماتے ہیں:
اور نصاب الاحتساب میں ہے:
بہرحال یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ داڑھی ایک مشت رکھنا ہی واجب ہے اورداڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے پہلے کتروانا حرام ہے اور اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔ جیساکہ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کی کتاب الآثار میں ہے:
فقہ مالکی کے مشہور فقیہہ علامہ محمد بن محمد غیثنی مالکی ”المنح الوفیہ شرح مقدمہ العزیة“ میں فرماتے ہیں:
مشہور شافعی فقیہ اور محدث امام نووی ”حدیث خصال فطرت“ کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب ”کشاف القناع شرح متن الاقناع“ ج:۱‘ ص:۶۰ میں ہے:
لہذا صورت مسئولہ میں جو لوگ اس قبیح فعل کے مرتکب ہیں یا دوسروں کے لئے اس فعل قبیح کا سبب بنے ہیں‘ سب پر ضروری ہے کہ داڑھی ایک مٹھی رکھیں اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس سے صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔ورنہ آئندہ جو بھی ان کی وجہ سے داڑھی ایک مشت سے پہلے کتروا ئے گا تو ان کا وبال بھی ان ہی پر ہوگا۔حدیث شریف میں ہے:
بہرحال مذکورہ تمام احادیث اور فقہاء کرام کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت یعنی قبضہ سے کم کرنا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز اور حرام ہے اور اتنی داڑھی رکھنا کہ لوگوں کی نگاہیں اس پر اٹھیں یعنی صرف یہ معلوم ہو کہ داڑھی رکھی ہوئی ہے‘ یہ بات قرآن وسنت اور فقہاء کرام کے اقوال کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے اور اسلام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے جوکہ انتہائی خطرناک ہے۔
۳:․․․ جو امام داڑھی منڈاتے ہیں یا ایک مٹھی سے پہلے کتراتے ہیں تو وہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے فاسق ہیں اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں‘ بلکہ نمازیوں پر ضروری ہے کہ متقی پر ہیزگار عالم دین کو امام بنائیں جو شریعت اور سنت کا پابند ہو‘ البتہ ایسے امام کی اقتداء میں جو نمازیں ادا کی گئی ہیں ان کا اعادہ کرنا ضروری نہیں‘ وہ نمازیں ہوگئیں باقی ثواب پورا نہیں ملے گا‘ جیساکہ ”البوادر النوادر“ میں کہ درمختار میں واجبات صلوٰة میں یہ قاعدہ لکھا ہے::
کارو کاری کی رسم اور اسلامی تعلیمات
پاکستان میں جب کوئی کسی مرد اورعورت کی جان لے کر یہ دعویٰ کرتاہے کہ اس نے یہ قتل اس بناء پر کیا ہے کہ مقتول مرد اور عورت جنسی بدفعلی کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھراس قتل کو عام قتل نہیں گردانا جاتا‘ بلکہ ”غیرت کے نام پر قتل“ کہا جاتاہے‘ جس کو انگریزی میں (Honour Killing) کہتے ہیں۔ ملزمہ زانی عورت اور بعض اوقات اس کے شریک جرم ملزم مرد کو قتل کرنے کا مقصد‘ رسوائی مٹانے اور عزت وآبرو برقرار رکھنے کے علاوہ مرد اپنے دیرینہ جھگڑے مٹانے ‘ زمین وزر کے حصول‘ قرض ادا کرنے کی ذمہ داری سے گلو خلاصی کرانے‘ دوسری بیوی کے حصول‘ کسی ناپسندیدہ عورت سے چھٹکاراپانے یا اسی طرح کے اور بہت سے مقاصد کے حصول کے لئے بھی کسی مرد اور عورت پر کارو کاری کا لیبل لگا کر انہیں قتل کردیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کاروکاری‘ سیاہ کاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اخبارات میں ان کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی‘ تاہم زیادہ رپورٹنگ نہ تو اس کی ترجمانی کرپاتی ہے اور نہ اس کی وجوہات
․ #لیکچرر شعبہٴ اسلامیات گورنمنٹ ڈگری کالج کوئٹہ
ونتائج کی نوعیت کے متعلق آگاہ کرتی ہے۔اگر خدانخواستہ اس رسم کا شکار بننے والے مرد اور عورت کا تعلق شہر کے اعلیٰ طبقے سے ہو‘ تو اس کی تشہیر سنسنی خیز ہونے کے علاوہ چٹخارے دار اور فحش بھی ہوتی ہے‘ لیکن جب کچھ گمنام کسی دور دراز کے دیہات میں قتل کردئے جاتے ہیں تو اس جرم کے بارے میں صرف دو انچ کی رپورٹ شائع ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں طرز بیان حقیقت سے اتنا دور ہوتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کا ہماری زندگیوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ (۲) بہرحال مذکورہ بالا اصطلاحات کسی مرد اورعورت پر اس وقت لاگو کی جاتی ہیں، جب وہ زنا کاری کے مرتکب پائے گئے ہوں یا ان پر زنا کاری کا شبہ ہو۔ بعد میں انہی اصطلاحات کے تحت جب انہیں سزا کے طور پر قتل کردیا جائے‘ تو اسے محض قتل نہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل کا نام دیاجاتاہے۔
قرآن وحدیث میں زنا کو نہ صرف بے حیائی اور بری راہ سے تعبیر کیا گیاہے‘ بلکہ اس کو حدود میں داخل کرکے کڑی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ شریعت ایک طرف حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم میں نہیں دی جاتی‘ اور دوسری طرف فیصلہ دیتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے‘ ورنہ اس پر ۸۰ کوڑے برسا ؤ‘ تاکہ آئندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلاثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے۔
بالفرض الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بدکاری کرتے دیکھ بھی لیا ہو‘ تب بھی اس کو خاموش رہنا چاہئے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہئے تاکہ گندگی جہاں ہے وہیں پڑی رہے اور پھیلے نہیں۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہوں‘ تو معاشرے میں بے ہودگی کے چرچے کرنے کے بجائے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں ملزموں کا جرم ثابت کرکے انہیں سزا دلوائے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بلاثبوت وگواہی کے صرف کارو کاری کا الزام عائد کرکے مرد وعورت کو قتل کردیا جاتاہے‘ اس طرز عمل کو رسم ورواج کا حصہ قرار دینے کی دلیل دی جاتی ہے اور یہ طرز عمل اپناتے ہوئے ملوث افراد نہ صرف اسلامی حدودسے باہر نکل جاتے ہیں‘ بلکہ انسانی حقوق کو بھی پامال کرتے ہیں۔
کارو کاری یا بالفاظ دیگر زنا کاری کا عام مفہوم‘ جس سے ہرشخص واقف ہے‘ یہ ہے کہ مرد اور عورت رشتہ زن وشوہر کے بغیر باہم مباشرت کا ارتکاب کریں۔ اس فعل کا اخلاقاً برا یا مذہباً گناہ، معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہوناتو ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں‘ اور اس سے سوائے ان لوگوں کے‘ جنہوں نے اپنی عقل کو نفس پرستی کے تابع کردیاہے‘ کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت زنا کی حرمت کاخود تقاضا کرتی ہے۔
لیکن اسلامی قانون ان سب تصورات کے برعکس زنا کو بجائے خود ایک جرم مستوجب سزا قرار دیتاہے‘ اور شادی شدہ ہوکر زنا کرنا اس کے نزدیک جرم کی شدت کو اور زیادہ بڑھا دیتاہے‘ لیکن اس بناء پرنہیں کہ مجرم نے کسی سے عہد شکنی کی یا کسی دوسرے کی آبرو پر دست درازی کی‘ بلکہ اس بناء پر کہ اس نے اللہ کا حکم توڑا‘ اور اس کے پاس اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ایک جائز ذریعہ موجود تھا ‘ پھر بھی اس نے ناجائز ذریعہ اختیار کیا۔
اس آیت میں زنا کی جو سزا مقرر کی گئی ہے‘ وہ دراصل محض زنا کی سزا ہے۔ یہ بات خود قرآن ہی کے ایک اشارے سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ یہاں اس زنا کی سزا بیان کررہا ہے جس کے فریقین غیر شادی شدہ ہوں‘چنانچہ سورہ نساء میں ارشاد ہے :
اس آیت میں ایک تو ثبوت زنا کا خاص طریقہ چار مردوں کی شہادت کے ساتھ ہونا بیان فرمایاہے‘ دوسرے زنا کی سزا عورت کے لئے گھر میں قید رکھنا اور دونوں کے لئے ایذا پہنچانا مذکور ہے اور ساتھ‘ اس میں یہ بھی بیان کردیا گیاہے کہ زناکی سزا کا یہ حکم آخری نہیں‘ بلکہ آئندہ مزید کچھ حکم آنے والا ہے۔ جب سورہ نور کی آیت مذکور نازل ہوئی‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ سورہ نساء میں جو وعدہ کیا گیا تھا :”او یجعل اللہ لہن سبیلا“۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور سبیل بتادے تو سورہ نور کی اس آیت نے وہ سبیل بتلادی یعنی سو کوڑے کی سزا عورت‘ مرد دونوں کے لئے متعین فرمادی۔ اس کے ساتھ ہی ابن عباس نے سوکوڑے مارنے کی سزا کو غیر شادی شدہ مرد وعورت کے لئے مخصوص قرار دیا (۴) اور فرمایا:”یعنی الرجم للثیب والجلد للبکر“ یعنی وہ سبیل اور سزائے زنا کی تعیین یہ ہے کہ شادی شدہ مرد وعورت سے یہ گناہ سرزد ہو تو ان کو سنگ سارکرکے ختم کردیا جائے اور غیر شادی شدہ جوڑے کی سزا سو کوڑے ہے۔
شیخ احمد ملاجیون” تفسیرات احمدیہ“ میں فرماتے ہیں کہ:
فتاویٰ عالمگیری میں اس کے متعلق حسب ذیل ذکر ہے کہ:
زنا محض یا بالفاظ دیگر غیر شادی شدہ جوڑے کے زنا کرنے کے معاملے میں شرط یہ ہے کہ مجرم آزاد ہوں‘ جیساکہ عالمگیری کی عبارتِ مذکورہ (ان کان حراً) سے واضح ہے‘ اگر ایک مجرم غیر محصن غلام ہو‘ تو ان کی سزا ۵۰ کوڑے ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ عاقل ہوں اور تیسری شرط یہ ہے کہ بالغ ہوں ،اگر کسی مجنون یا کسی بچے سے یہ فعل سرزد ہو‘ تو وہ حد زنا کا مستحق نہیں ہے۔
ایک دوسری حدیث میں حضور ا نے فرمایا ہے کہ:
یہ تینوں حصار جب پائے جاتے ہوں‘ تب قلعہ بندی مکمل ہوتی ہے اور تب ہی وہ شخص بجاطور پرسنگساری کا مستحق قرار پاسکتاہے‘ جس نے ناجائز شہوت رانی کی خاطریہ تین حصار توڑڈالے‘ لیکن جہاں سب سے بڑا حصار یعنی خدا‘ آخرت اور قانونِ خداوندی پر ایمان ہی موجود نہ ہو‘ وہاں یقیناً قلعہ بندی مکمل نہیں ہے‘ اور اس بنا پر فجور کا جرم بھی اس شدت کو پہنچا ہوا نہیں ہے جو اسے انتہائی سزا کا مستحق بنادے۔ (۹)
۱:․․․ پہلی شرط یہ ہے کہ مجرم آزاد ہو‘ اس پر سب کا اتفاق ہے‘ کیونکہ قرآن خود اشارہ کرتاہے کہ غلام کو رجم کی سزا نہیں دی جائے گی‘ سورہ نساء میں مذکور ہے کہ لونڈی اگر نکاح کے بعد زنا کی مرتکب ہو‘ تو اسے غیر شادی شدہ آزاد عورت کی بہ نسبت آدھی سزا دینی چاہئے‘ لہذا فقہاء نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن کا یہی قانون غلام پر بھی نافذ ہوگا۔ ۲:․․․ دوسری شرط یہ کہ مجرم باقاعدہ شادی شدہ ہو‘یہ شرط بھی متفق علیہ ہے اور اس شرط کی رو سے کوئی ایسا شخص جو ملک یمین کی بناء پر تمتع کر چکا ہو یا جس کا نکاح کسی فاسد طریقے سے ہوا ہو‘ شادی شدہ قرار نہیں دیا جائے گا یعنی اگر اس سے زنا کا صدور ہو‘ تو اس کو رجم کی نہیں‘ بلکہ کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ ۳:․․․ تیسری شرط یہ ہے کہ اس کا محض نکاح ہی نہ ہوا ہو‘ بلکہ نکاح کے بعد خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہو صرف عقد نکاح کسی فرد کو محصن یا عورت کومحصنہ نہیں بنا دیتا کہ زنا کے ارتکاب کی صورت میں ان کو رجم کیا جائے‘ اس شرط پر بھی اکثر فقہاء متفق ہیں‘ مگر امام ابوحنیفہ اور امام محمد اس میں اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ مرد یا عورت کو محصن صرف اسی صورت میں قرار دیا جائے گا جبکہ نکاح اور خلوت صحیحہ کے وقت زوجین آزاد‘ بالغ اور عاقل ہوں‘ اس مزید شرط سے جو فرق پڑتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ اگر مرد کا نکاح ایسی عورت سے ہوا ہو جو لونڈی ‘ نابالغ یا مجنون ہو‘ تو خواہ وہ اس حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستر بھی ہوچکا ہو‘ پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کا مستحق نہ ہوگا‘ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے کہ اگر اس کو اپنے نابالغ ‘ مجنون یا غلام شوہر سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل چکا ہو‘ پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کی مستحق نہ ہوگی۔ ۴:․․․ چوتھی شرط یہ ہے کہ مجرم مسلمان ہو‘ اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے‘ امام شافعی‘ امام ابو یوسف‘ اور امام احمد اس شرط کو نہیں مانتے‘ ان کے نزدیک ذمی بھی اگر زنا بعد احصان کا مرتکب ہوگا تواسے رجم کیا جائے گا‘ لیکن امام ابوحنیفہ اور امام مالک اس امر پر متفق ہیں کہ زنا بعد احصان کی سزا رجم صرف مسلمان کے لئے ہے‘ اس کے دلائل میں سے سب سے زیادہ معقول اور وزنی دلیل یہ ہے کہ ایک آدمی کو سنگساری جیسی سزا دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مکمل احصان کی حالت میں ہو اور پھر بھی زنا کے ارتکاب سے باز نہ آئے‘ احصان کا مطلب ہے اخلاقی قلعہ بندی‘ اور اس کی تکمیل تین حصاروں سے ہوتی ہے۔ ۱:․․․لاچار ومجبو رنہ ہو‘ کیونکہ لاچاری ومجبوری گناہ کراسکتی ہے۔ ۲:․․․ کوئی خاندان اسے اپنے اخلاق اور عزت کی حفاظت میں مدد دینے والا نہ ہو۔ ۳:․․․ تیسرا احصار یہ ہے کہ اس کا نکاح ہوچکا ہواوراس کے لئے تسکین نفس کا جائز ذریعہ موجود ہو۔
۲- ایضا‘ ص:۵ ۳- مودودی (ابو الاعلیٰ) تفہیم القرآن‘ ادارہ ترجمان القرآن‘ لاہور ص:۳۲۱‘ ج:۳ ‘ ۱۹۹۸ء ۴- مفتی محمد شفیع‘ معارف القرآن‘ ادارة المعارف‘ کراچی‘ ۱۹۹۶ء‘ ص:۳۴۴‘ ج:۶ ۵- شیخ احمد ملاجیون‘ تفسیرات احمدیہ‘ مطبع کریمیہ‘ بمبئی‘ ۱۳۲۷ھ‘ ص:۵۴۱ ۶- فتاویٰ عالمگیری (فتاویٰ ہندیہ) مکتبہ ماجدیہ طوغی روڈ کوئٹہ‘ ۱۹۸۳ء ‘ص:۱۴۶‘ج:۲ ۷- علامہ مولانا سید امیر علی ‘ عین الہدایہ اردو شرح ہدایہ‘ قانونی کتب خانہ‘ کچہری روڈ لاہور‘ ص:۴۴۶‘ج:۲ ۸- الخطیب العمری (امام ولی الدین محمد بن عبد اللہ) مشکوٰة‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن‘ اسلام آباد‘ ۱۹۸۵ء‘ ص:۳۰۱ (القصاص)
مسئلہ بشریت انبیاء ،علم غیب ومختار کل تفسیر”ضیاء القرآن “ کی روشنی میں
تفسیر”ضیاء القرآن “ کی روشنی میں
زیر نظر مضمون میں ہم وہی اقتباسات پیش کررہے ہیں‘ اس تفسیر میں ہمیں منفرد خصوصیت یہ نظر آئی ہے کہ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شانِ توحید کا جو زور بیان نظر آتا ہے‘ تفسیر میں اس زورِ بیان کو انتہائی کمزور طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ اور مندرجہ ذیل اقتباسات خدا جانے ان کے قلم سے کیسے نکلے ہیں؟ ہوسکتاہے کہ وہ آیات قرآنیہ کے زورِ بیان کے سامنے نہ ٹھہر سکے ہوں۔ واللہ اعلم! بہرحال یہ اقتباسات متنازع مسائل میں تنازعہ کو کم کرنے میں کافی مفید ثابت ہوسکتے ہیں‘ ملاحظہ ہو :
محترم قارئین! پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری (بھیرہ )نے قرآن مجید کی اردو میں ایک تفسیر ”ضیاء القرآن“ کے نام سے لکھی ہے جس میں انہوں نے رضا خانی عقائد ونظریات کی بھر پور وکالت کی ہے‘ لیکن قرآن پاک کی آیات صریحہ سے رضا خانی عقائد متصادم ہیں‘ ان خانہ ساز عقائد کے تحفظ اور دفاع کے لئے نصوص صریحہ میں تاویلات باردہ کا ارتکاب‘ کتاب اللہ میں تحریف کے مترادف ہے (اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے آمین) لیکن ان کے باوجود پیر محمد کرم شاہ صاحب کئی مقامات پر سپر انداز ہوگئے ہیں۔
اس کے تحت لکھتے ہیں:
”کفار کے اس شبہ کا ازالہ کیا جارہاہے کہ آپ بشر ہیں اس لئے نبی کیسے ہوسکتے ہیں؟فرمایا: ہماری سنت ہی یہی ہے کہ آج تک بنی نوع انسان کی طرف جتنے انبیاء کرام بھیجے گئے وہ انہی کے ہم جنس تھے‘ کیونکہ افہام وتفہیم کا مقصد اسی طرح پورا ہوسکتاہے‘ اگر نبی فرشتہ ہوتا تو اس کے آنے کی دو صورتیں تھیں‘ اگر وہ اپنی ملکوتی شکل میں آتاہے تو تم اس کی ہیبت سے دم توڑ دیتے اور اگر انسانی صورت میں آتا تو تم پھر وہی اعتراض کرتے کہ یہ ہماری طرح کا بشر ہے۔ پھر تمہیں کون سمجھاتا کہ یہ بشر نہیں‘ فرشتہ ہے۔ اس لئے سنت الٰہی یہی ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی انسان کو ہی نبی بناکر مبعوث فرمایا جاتاہے“۔(ضیاء القرآن ص:۱۵۴ ج‘۳)
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
” رسول کی آمد کا مقصد تعلیم وہدایت ہے۔ جب زمین پر بسنے والے انسان ہیں تو ان کی رہنمائی کا فریضہ ان کا ایک ہم جنس ہی احسن طریقہ پر ادا کرسکتا ہے‘ اگر یہاں فرشتے آباد ہوتے اور ان کی رہنمائی کے لئے کسی رسول کو مبعوث کیا جاتا تو ان میں کسی فرشتہ کو ہی یہ ذمہ داری سونپی جاتی“ ۔ (ضیاء القرآن ص:۲۸۶ ج‘۲)
(ضیاء القرآن ص:۴۵۷ ج:۳)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سارے خزانے میرے قبضہ میں ہیں‘ خود بخود جیسے چاہوں ان میں تصرف کروں یا مجھے غیب کا خود بخود علم ہوجاتاہے اور بغیر اللہ کے بتلائے اور سکھلائے میں ہرغیب کو جانتا ہوں‘ میرا یہ دعویٰ نہیں میر اگر کوئی دعویٰ ہے تو فقط یہ کہ: ”ان اتبع الا ما یوحی الیّ“جو کچھ میری طرف وحی کیا جاتاہے میں اس کی پیروی کرتا ہوں قول اور فعل میں‘ علم اور عمل میں“۔ (ضیاء القرآن ص:۵۵۸ ج‘۱)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
” اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرم ا کو فرماتے ہیں کہ ان عقل کے دشمنوں کو صاف صاف بتادو کہ تمہاری اس خواہش کا پورا کرنا میرے حیطہٴ امکان سے خارج ہے‘ قدرت نے مجھے اپنے کلام کا امین بنایاہے‘ میں اس میں خیانت کا تصور تک نہیں کرسکتا‘ میرا فرض تو بس اتنا ہے کہ جو کچھ میرا رب حکم فرمائے‘ بلاکم وکاست اسے پہنچادوں‘ تم سرکشی اور نافرمانی کی جرأت کرسکتے ہو‘ مجھ سے تو یہ ہو نہیں سکتا‘ اس کے قہر وغضب کی جو بجلیاں کوند رہی ہیں‘ تمہاری آنکھیں تو نہ دیکھ سکتی ہوں گی‘ لیکن میں تو ان سے چشم پوشی نہیں کرسکتا‘ اگر میں تمہیں خوش کرنے کے لئے کلام الٰہی میں ذرہ بھر کمی بیشی کروں تو کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ روزِ حشر خداوند ذو الجلال کے عذاب سے مجھے چھڑا سکو“۔ (ضیاء القرآن ص:۲۵۸ ج‘۲)
مسئلہ علم غیب کے بارے میں مفسرین کرام کی تصریحات بحوالہ علامہ بغوی اورمعالم التنزیل ضیاء القرآن میں لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ جس کو اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے اس کو جس غیب پر چاہتاہے‘ آگاہ کردیتاہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں: پھر ان رسولوں کو جن کو اس نے چنا ہے مستثنیٰ کردیا‘ بس ان کو جتنا چاہا اپنے غیب کا علم بطریقہ وحی عطا فرمایا۔
ابوحیان اندلسی رقمطراز ہیں:
یعنی رسول مرتضیٰ اکو جتنے غیب پر وہ چاہتاہے مطلع کردیتاہے۔
علامہ ابن جریر طبری نے حضرت عباس‘ قتادہ اور بنی زید سے آیت کی یہی تفسیر نقل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کوچن لیتاہے اور انہیں غیب میں سے جتنا چاہتاہے اس پر آگاہ کردیتاہے۔(ضیاء القرآن ص:۳۹۷‘ج:۵)
پیر محمد کرم شاہ صاحب نے اصل کتب تفاسیر سے عربی عبارات بھی نقل کی ہیں‘ ہم نے ان کے قلم سے صرف اردو ترجمہ نقل کیا ہے‘ اسی صفحہ کے آخر میں پیر صاحب نے خلاصہ درج فرمایاہے جو یہ ہے :
”سلامتی اسی میں ہے کہ ہم آیات کو وہ معانی نہ پہنائیں جن کو ان کے کلمات قبول نہیں کرتے (کاش! کہ پیر صاحب اور ان کے پیشرو”اعلیٰحضرت“ و”صدر الافاضل“ یہی طریقہ اختیار کرتے۔ ناقل) اور سیدھی اور صاف بات جو قرآن نے فرمائی ہے‘ اس کو صدق دل سے تسلیم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام غیبوں کو جاننے والا ہے اور اپنے ان علوم غیبیہ پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا‘ بجز اپنے رسولوں کے ان کو جتنا چاہتاہے‘ علوم غیبیہ عطا فرماتاہے“۔
قارئین کرام! تفسیر ضیاء القرآن کے مندرجہ بالا اقتباسات سے مسئلہ بشریت انبیاء علیہم السلام‘ مسئلہ علم غیب اور مسئلہ مختار کل کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اور ان مسائل میں دیوبندی‘ بریلوی تنازع کافی حد تک کم ہوسکتاہے‘ بالخصوص تفسیر ضیاء القرآن کا آخری اقتباس تو مذکورہ تنازع کو حل کرنے کے لئے ایک بنیاد فراہم کرتاہے‘ اگرچہ پیر صاحب کے آخری اقتباس کے آخری الفاظ میں اپنے اصول سے انحراف کرتے ہوئے ڈنڈی مار گئے ہیں:”جتنا چاہتاہے علوم غیبیہ پر مطلع فرماتاہے“ کا جملہ زیادہ بہتر تھا پیر صاحب والے جملہ کو قرآن پاک کے کلمات قبول نہیں کرتے‘ لیکن پیر صاحب بیچارے ذاتی وعطائی کے چکر میں اعلیٰ حضرت کی اقتداء بلااہتداء میں پھنسے ہوئے ہیں‘ حالانکہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کے علاوہ انبیاء ورسل کے لئے اطلاع اور اخبار کا لفظ استعمال کیا ہے‘ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کوافتراق وانتشار سے محفوظ فرمائے اور قرآن وسنت کے نورانی راستہ پر چل کراپنی عاقبت کے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین․

